مسنداحمد

Musnad Ahmad

نفل نماز کے ابواب

فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان

۔ (۲۰۹۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ فَیُخَفِّفُہُمَا، حَتّٰی إِنِّیْ لَأَشُکُّ أَقَرَأَ فِیْھِمَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۵)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں اتنی تخفیف کرتے کہ مجھے یہ شک ہونے لگتا کہ آیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔

۔ (۲۱۰۰) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ قِیَامُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا یَقْرَأُ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۴۴)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز فجر کی سنتوں میں قیام سورۂ فاتحہ پڑھنے کے برابر ہوتا تھا۔

۔ (۲۱۰۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((نِعْمَ السُّوْرَتَانَ ھُمَا یُقْرَأُ بِہِمَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، {قُلْ یَا أَیُّھَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۵۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سورتیں بہترین ہیں، جن کی نمازِ فجر سے پہلے والی سنتوں میں تلاوت کی جاتی ہیں،یعنی سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص۔

۔ (۲۱۰۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۵۷۴۲)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے غور سے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میںسورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔