سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ میری خالہ ہیں، کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر آکر چار رکعتیں ادا کیں اور پھر سوگئے، پھر اٹھے اور چار رکعت نماز پڑھی اور پوچھا: کیا چھوٹا بچو سویا ہوا ہے؟ یا اس قسم کی بات کی،پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سوگئے اور اس قدر سوئے کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ نمازِ فجر کے لیے تشریف لے گئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضائے حاجت کی، پھر (صفائی اور نشاط کے لیے) چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر اٹھ کر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا تسمہ کھولا اور درمیانہ سا وضو کیا، بہرحال وضو مکمل ضرور تھا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کر دی، میں بھی اٹھا اور میں نے انگڑائی لی (اور ظاہر کرایا کہ میں سو رہا تھا)، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کا پتا نہ چلے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی ہوئی ہے، بہرحال میں نے وضوء کیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف گھمادیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات رہی، پھر آپ لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹے سنائی دینے لگے،عام طور پر آپ جب بھی سوتے تو خراٹوں کی آواز آتی تھی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا، وَمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔ (اے اللہ! میرے دل میں، میری آنکھ میں، میرے کان میں، میری دائیں جانب، میری بائیں جانب، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے سامنے اور میرے پیچھے نور بنادے اور میرے لیے نور بڑا کر دے) کریب کہتے ہیں: سات چیزیں تابوت میں تھیں، (لیکن اب مجھے بھول گئی ہیں)، میں سیدنا عباس کے کسی بچے کو ملا، اس نے مجھے وہ چیزں بیان کرتے ہوئے اس طرح ذکر کیں: عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ (میرے پٹھے، میرے گوشت، میرے خون، میرے بال اور میرے چمڑے میںنور بنا دے) اور انھوں نے دو اور خصلتوں کا ذکر بھی کیا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان کے پاس رات گزاری،اس رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری انہی کے گھر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اورچمڑے کے ایک تکیے پر سر رکھا اور سو گئے، اس تکیے میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں آیا اور اس کے کنارے پر سر رکھ کر سو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ابھی تک تو رات کا بڑا حصہ باقی ہے، اس لیے آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا ذکر کرتے کرتے سو گئے، پھر آپ بیدار ہوئے، یہ نصف یا دو تہائی رات گزر جانے کا وقت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے، قضائے حاجت کی،پھر لکڑیوں پر لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف آئے، اس میں پانی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر پاؤں بھی تین تین بار دھوئے، پھر اپنی جائے نماز کی طرف آگئے،میں بھی اٹھا اور ایسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آکر آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر تو ٹھہرے رہے،لیکن جب آپ نے جان لیا کہ میں بھی آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ موڑ کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھماکر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تک سمجھا کہ ابھی تک رات باقی ہے، دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر جب سمجھا کہ فجر قریب آ چکی ہے، تو اٹھ کر چھ رکعات ادا کیں اور ساتواں وتر پڑھا، پھر جب فجر روشن ہوئی تو اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنے پہلو پر سوگئے، حتیٰ کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو نمازِ فجر کی اطلاع دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، لیکن پانی کو تو چھوا تک نہیں۔ یہ سن کر عکرمہ نے سعید بن جبیرسے کہا: یہ تو بڑی اچھی بات ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کے بعد وضو نہیں کیا)۔ لیکن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کی تھی، لیکن انھوں نے کہا تھا: رہنے دو اس بات کو، یہ رخصت نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے،یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھا اورسورۂ آل عمران کییہ آیات تلاوت کیں: {إِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ… … …سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّاِر} پھر گھر کی طرف واپس آئے، مسواک کیا، وضوء کیا اور پھر قیام شروع کر دیا، پھر لیٹ گئے، پھر جب دوبارہ جاگے تو باہر گئے، آسمان کی طرف دیکھ کر یہی آیات تلاوت کیں، پھر واپس آئے، وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر رات کو نماز پڑھنے لگے، میں بھی آپ کے ساتھ آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، میرے اندازے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر رکعت سورۂ مزمل کے برابر تھی۔