سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔ پھر کہا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ سب سے فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ، جسے تم محرم کہتے ہو۔
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تاخیر کرتا ہے، حتی کہ رات کا تہائی حصہ ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ اترکر کہتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعاقبول کی جائے، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔
فوائد:… جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا (۳)رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔ لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے میں پانی چھڑکا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک کر اسے جگایا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تو اٹھ کر نماز پڑھ، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔
ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔
Takhreej
(۲۱۱۶) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، المھاجر ابو خالد لین الحدیث لیس بذاک، ولیس بالمتقن، یکتب حدیثہ، وابومسلم الجذمی روی عنہ جمع وذکرہ ابن حبان فی الثقات أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۳۰۸، وابن حبان: ۲۵۶۴ (انظر: ۲۱۵۵۵)
سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قبولیت تھی۔
Takhreej
(۲۱۱۷) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ الغسانی۔ أخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ : ۵/ ۱۵۴ (انظر: ۱۹۴۴۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن پہلے دو جملے رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کا آخری حصہ دعا کی زیادہ قبولیت والا ہے دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے: (۱) جو آدمی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، (۲) جب لوگ نماز کے لیے صفیں بنا تے ہیں اور (۳)جب لوگ لڑائی کے لئے صفیں بناتے ہیں۔
Takhreej
(۲۱۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید الھمدانی، وھشیم بن بشیر مدلس وقد عنعن، وھو لم یسمع من مجالد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۰ بلفظ: ((وللرجل یقاتل خلف الکتیبۃ)) بدل قولہ: ((والقوم اذا صفوا للقتال))، وأخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۸۹، وابو یعلی: ۱۰۰۴(انظر: ۱۱۷۶۱)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی دائود علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ۔ راویٔ حدیث عمرو بن اوس کے کلام سے مدرج ہیں، صحیح مسلم کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے اس سے مراد ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطارکرنا ہے۔ دوسری روایت کی روشنی میں حضرت داود علیہ السلام کے قیام کییہ روٹین بنتی ہے: نصف رات سونا، پھر ایک تہائی رات قیام کرنا، پھر رات کا چھٹا حصہ سو جانا۔ مثال کے طور پر اگر رات کی مقدار چھ گھنٹے ہو تو تین گھنٹے سونے کے بعد دو گھنٹے قیام کرنا اور پھر ایک گھنٹہ سو جانا۔
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دیگئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔
فوائد:… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے قیام کا اس قدر اہتمام کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو تو بالاولییہ اہتمام کرنا چاہیے ، اگرچہ ہم عبادت کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میںاللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔
Takhreej
(۲۱۲۳) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۹۵۱۶)
Explanation
فوائد:… اصحاب السنن کا میلان اس طرف ہے کہ اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، یہی معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے تہجد کا اہتمام کرنے والا اللہ کا بندہ ہی محسوس کر سکتا ہے کہ رات کا قیام نہ کرنے کی صورت میں انسان کس قسم کی نحوست، بدمزاجی، بے سکونی، بے اطمینانی اور غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زمانے بیت جانے کے باوجود جس شخص نے رات کے قیام کا اہتمام نہیں کیا، اس کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی احادیث کے مفہوم کا ادراک کر سکے، یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اس میدان کا شہسوار ہی نہیں ہے۔ ایک قول کے مطابق اس حدیث سے مراد نمازِ عشاء لی گئی ہے۔ کیا شیطان کے پیشاب کرنے کو حقیقت پر محمول کیا جائے یا اس کایہ مجازی معنی مراد لیا جائے کہ شیطان اس کے کان کو اذان یا مرغ کی آواز سننے سے یا ایسی آواز سننے سے روک دیتا ہے، کہ عام طور پر جس کی وجہ سے اہل توفیق نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیںیا لغویات اور باطل کلام کی وجہ سے اس کے کانوں کو بھاری کر دیتا ہے۔ راجح بات حقیقی معنی ہی بیان کرنا ہے کہ شیطان واقعی اس کے کان میں پیشاب کر جاتا ہے، لیکن اس کی حقیقت و کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شیطان کا کھانا، پینا، قے کرنا، گوز مارنا، انسان کے اندر داخل ہو جانا وغیرہ جیسے حقائق ہیں۔واللہ اعلم بالصواب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیااور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
فوائد:… اس حدیث سے پتہ چلا کہ قرآن مجید کے ذریعے اپنے آپ کو ضبط میں لایا جا سکتا ہے، پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکوہ کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ دوہراتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت {وَکَانَ الإِْ نْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا} پڑھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ انسان بحث مباحثہ کرتا ہی رہتا ہے۔ اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک منقبت کا بیان ہے کہ انھوں نے ایسی چیز کو بھی نہیں چھپایا جس میں معمولی عیبیا ملامت پائی جاتی تھی اور نشرِ علم کی مصلحت کو کتمان پر مقدم کیا۔ اس حدیث سے درج ذیل امور کا بھی علم ہوتا ہے: امام کا نوافل کے سلسلے میں سختی نہ کرنااور سمجھانے اور رغبت دلانے پر اکتفا کرنا ، انسان کا طبعی طور پر قول و فعل کے ذریعے اپنا دفاع کرنا، آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کرے، اگرچہ معاملے کا تعلق غیر واجب کام سے ہو۔
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! فلاں شخص کی طرح ہر گز نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے اس قیام کو ترک کردیا۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی آدمی سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی رسی کے ساتھ تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر آدمی وہ اٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، اگر وہ آگے بڑھے اور وضوء بھی کر لے تو دوسری گرہ کھول دی جاتی ہے اور اگر وہ نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھول دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس حال میں صبح کرے کہ نہ تو وہ رات کو اٹھا ہو، نہ ذکر کیا ہو، نہ وضو کیا ہو اور نہ نماز پڑھی ہو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ گرہیں اس پر موجود ہوتی ہیں۔
Takhreej
(۲۱۲۶) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، الحسن البصری لم یسمع من ابی ھریرۃ۔ أخرجہ البخاری: ۱۱۴۲، ۳۲۶۹، ومسلم: ۷۷۶ بلفظ مقارب منہ (انظر: ۷۳۰۸، ۱۰۴۵۷)
سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔
Takhreej
(۲۱۲۷) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۱۳۳، وابن حبان: ۲۵۵۴ (انظر: ۱۴۳۸۷)
Explanation
فوائد:… رات کی نماز مومن کی عظیم صفت اور پارسا و متقی لوگوں کا شیوہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ عُیُوْنٍ… کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ۔ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔} (سورۂ ذاریات: ۱۵تا۱۸)… بیشک پر ہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ … (ان کی صفات یہ ہیں کہ) وہ رات کو کم سوتے ہیں اور سحریوں کے وقت بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُہٗبِاللَّیْلِ، وَعِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہُ عَمَّا فِی أَیْدِی النَّاسِ۔)) مومن کا اعزاز رات کی نمازِ (تہجد) میں ہے اور اس کی عزت و آبرو اس چیز سے بے نیاز ہو جانے میں ہے جو (دنیا کی صورت میں) لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ (صحیحہ:۱۹۰۳، عقیلي في الضعفائ : صـ ۱۲۷، ابن عساکر فی تاریخ دمشق : ۴/ ۹۹/ ۱، ۸/ ۳۷/ ۱) رات کو نماز ادا کرنا اور لالچی و حریص نہ ہونا، دو ایسی صفاتِ جمیلہ ہیں کہ انسان کے عزت و احترام کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ اس کے دل و دماغ کو تسکین اور اس کو زندگی کا لطف نصیب ہوتا ہے اور چہرے پر نورانی کرنوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان ان دو صفات سے محروم ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مطمئن اور معزز سمجھتا ہے تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے اور یہ بات بجا طور پر درست ہو گی کہ اسے سکون اور عدم سکون کا تجربہ ہی نہیں ہے، اگر کسی کو میری گزارشات سے اتفاق نہیں تو وہ چند دن تجربہ کر کے دیکھ لے۔ کئی آیات و احادیث میں رات کے قیام کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکنیہ ایک المیہ ہے کہ چند افراد کے علاوہ امت ِ مسلمہ اس عبادت سے غافل ہے، اللہ تعالیٰ توفیقِ خاص سے نوازے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، جب آپ نماز میںداخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ (اللہ سب سے بڑا ہے، جو بادشاہی، قہر، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ )، پھر آپ نے سورہ ٔ بقرہ کی تلاوت کی، اس کے بعد رکوع کیا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام جتناتھا، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا یہ قومہ آپ کے رکوع کے برابر تھا، آپ اس میں لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر تھا،آپ سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور جلسہ میں بیٹھ گئے، یہ جلسہ سجدے کے برابر تھا، اس جلسہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِی کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز میں سورۂ بقرۃ، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کر دی، آخری دو سورتوں میں راویٔ حدیث امام شعبہ کو شک ہوا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراء ت شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت نہ زیادہ آہستہ تھی اور نہ ہی زیادہ بلند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر اور ہمیں سناتے ہوئے پڑھ رہے تھے، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کے برابر تھا، …، اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، عبد الملک بن عمیر نے کہا: یہ رات کی نفل نماز تھی۔
Takhreej
(۲۱۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن اخی حذیفۃ (انظر: ۲۳۴۱۱)
۔ (تیسری سند)میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قیام کیا، آپ نے سات رکعات میں سات لمبی سورتوں کی تلاوت کی، جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) کہتے، اس کے بعد یہ پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِی الْمَلَکُوتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ اور آپ کارکوع آپ کے قیام کے برابر اور آپ کا سجدہ رکوع کے برابر تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ایسا لگتا تھا کہ میری ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔
Takhreej
(۲۱۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن عم حذیفۃ (انظر: ۲۳۳۰۰)
ربیعہ جرشی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو قیام کرتے تو کیا کہا کرتے تھے اور کس سے نماز شروع کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس دفعہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور دس دفعہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، دس مرتبہ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ اور دس مرتبہ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الضِّیْقِیَوْمَ الْحِسَابِ کہتے۔
Takhreej
(۲۱۳۱) تخریج: حدیث حسن، وھذا اسناد غیر محفوظ۔ أخرجہ ابوداود: ۷۶۶، والنسائی: ۳/ ۲۰۸، وابن ماجہ: ۱۳۴۶ (انظر: ۲۵۱۰۲)
Explanation
فوائد:… آخری دو جملوں کے معانییہ ہیں: اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے۔ اے اللہ! میں قیامت کے دن تنگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔