مسنداحمد

Musnad Ahmad

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث

۔ (۲۱۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ ابْنِ سَعَیْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْیَائِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ الحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی تَشَہَّدُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَبَئَّسُ وَتَمَسْکَنُ وَتُقْنِعُ یَدَیْکَ وَتَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اَللّٰہُمَّ، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَالِکَ فَھِیَ خِدَاجٌ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ صَلَاتُہُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَہُ: مَا الإِْقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ یَدَیْہِ کَأَنَّہُ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۴)

سیدنا مطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے، ہر دو رکعتوں میں توتشہد پڑھے، تنگی اور مسکینی کا اظہار کرے اور تو اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہے:اے اللہ! اے اللہ! (پھر اپنی دعا کرے) اور جو اس طرح نہیں کرے گا اس کی نماز ناقص ہو گی۔ شعبہ کہتے ہیں: میںنے کہا: یعنی اس کی نماز ناقص ہو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے ان سے کہا: اِقْنَاع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ گویا وہ دعا کر رہے ہیں۔

۔ (۲۱۵۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَإِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیَتَشَھَّدْ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ لْیُلْحِفْ فِی الْمَسْأَلَۃِ، ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْیَتَسَاکَنْ وَلْیَتَبَئَّسْ وَلْیَتَضَعَّفْ فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَالِکَ فَذَاکَ الْخِدَاجُ أَوْ کَاالْخِدَاجِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۷)

۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہے اور جب تم میںسے کوئی نماز پڑھے تو ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے، پھر وہ اصرار کے ساتھ مانگنے، پھر جب دعا کرے تو مسکینی ہے ظاہر کرے، تنگی کی حالت بنا لے اور کمزوری کا اظہار کرے، جو اس طرح نہیں کرے گا، تو وہ ناقص ہے یا ناقص کی طرح ہے۔

۔ (۲۱۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی وَتَشَہَّدُ وَتُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ،…۔)) الحدیث بنحوما تقدم۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۹)

۔ (تیسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے اور تو ہر دو رکعتوں کے تشہد کے لیے بیٹھے اور سلام پھیرے، …۔) پھر پہلے کی طرح کی حدیث بیان کی۔

۔ (۲۱۵۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَلْیَبْدَ أْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَلْیَفَتَتِحْ صَلَاتَہٗ) بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیَفَتَیْنِ)) (مسند احمد: ۷۱۷۶)

سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں کے ساتھ اپنے قیام کی ابتدا کرے۔

۔ (۲۱۵۹) عَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ قِصَّۃِ رُجُوْعِہِمْ مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَّۃِ قَالَ: ثُمَّ أَخَدْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنَخْتُہَا، فَقَامَ فَصَلّٰی الْعَتَمَۃَ وَجَابِرٌ فِیْمَا ذَکَرَ إِلٰی جَنْبِہِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَھَا ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَجْدَۃً۔ (مسند احمد: ۱۵۱۳۰)

سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ غزوہ حدیبیہ سے واپسی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں؛ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نمازِ عشاء ادا کی۔ اس وقت سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی۔

۔ (۲۱۶۰) عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَہُ لَیْلَۃً، فَصَلّٰی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا کَانَ نِصْفُ اللَّیْلِ اسْتَیْقَظَ فَتَلَا الْآیَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَۃِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّکَ ثُمَّ تَوَ ضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَلَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ أَمْ رُکُوعُہُ أَمْ سُجُودُہُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْیَفْعَلُ کَمَا یَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ حَتّٰی صَلّٰی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد:۲۳۰۴۰ )

سیدناصفوان بن معطل سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔

۔ (۲۱۶۱) عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ الْأَنَصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَاکُ مِنَ اللَّیْلِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَا وَإِذَا قَامَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لَایَتَکَلَّمُ وَلَا یَأْمُرُ بِشَیْئٍ، وَیُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۳۷)

سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے اورجب رات اٹھ کر نماز پڑھتے توچار رکعت ادا کرتے، ان میں نہ کلام کرتے اورنہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔

۔ (۲۱۶۲) عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ وَقِرَائَتِہِ، فَقَالَتْ: مَالَکُمْ وَلِصَلَاتِہِ وَلِقِرَائَ تِہِ، کَانَ یُصَلِّیْ قَدْرَ مَایَنَامُ، وَیَنَامُ قَدْرَ مَا یُصَلِّی، وَإِذَا ھِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۹)

یعلی بن مملک کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تمہارا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جتنا سوتے تھے، اتنی نماز پڑھتے اور جتنی نماز پڑھتے تھے، اتنا سوتے تھے، پھر وہ آپ کی قراء ت کی کیفیت بیان کر رہی تھیں کہ وہ ایک ایک حرف کے لحاظ سے بالکل واضح ہوتی تھی۔

۔ (۲۱۶۳) عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴)

عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا: آپ رات کو سولہ رکعات پڑھتے تھے۔

۔ (۲۱۶۶) عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، فَقَالَ: مَاکُنَّا نَشَائُ أَنْ نَرَاہُ مِنَ اللَّیْلِ مُصَلِّیًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ وَمَا کُنَّا نَشَائُ أَنْ نَرَاہُ قَائِمًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ وَکَانَ یَصُوْمُ مِنَ الشَّہْرِ حَتّٰی نَقُوْلَ لَایُفْطِرُ مِنْہُ شَیْئًا وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلُ لَا یَصُوْمُ مِنْہُ شَیْئًا ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۳۵)

حمید کہتے ہیں: سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

۔ (۲۱۶۷) عَنْ ربِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: کُنْتُ أَبِیْتُ عِنْدَ بَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُعْطِیْہِ وَضُوْئَ ہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کُنْتُ أَنَامُ فِیْ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْمَعُہُ بَعْدَ ھَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِیَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، وَاَسْمَعُہُ بَعْدَ ھَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِیَقُولُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (وَفِی رِوَایَۃٍ:) ثُمَّ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ)) الْھَوِیَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۲)

سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔