TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان - حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان - علم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of علم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 18 · 4 Hadith
۔ (۲۴۷)۔عَنْ قَیْسٍ بْنِ کَثِیْرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلَی أَبِیْ الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَکَ أَیْ أَخِیْ؟ قَالَ: حَدِیْثٌ، بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا قَدِمْتَ اِلَّا فِیْ طَلْبِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہِ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَاِنَّہُ لَیَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّی الْحِیْتَانُ فِی الْمَائِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ،اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنَّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
قیس بن کثیرکہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداءؓ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انھوں نے اس سے پوچھا: میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟ اس نے کہا: ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کرتے ہو، انھوں نے کہا: کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: پس بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتی کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انھوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔
Takhreej
(۲۴۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود ۳۶۴۲، والترمذی: ۲۶۸۲، وابن ماجہ: ۲۳۹ (انظر: ۲۱۷۱۵)
247
Sahih
۔ (۲۴۸)۔عَنْ زِرِّبْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ اِلٰی صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ أَسْأَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقَالَ: مَا جَائَ بِکَ؟ قُلْتُ: اِبْتِغَائَ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُکَ، وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا یَطْلُبُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۵۸)
زِرّ بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انھوں نے کہا: کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے، انھوں نے کہا: تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں، پھر انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ حدیث بیان کی: بیشک فرشتے طالب ِ علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۱۶۵، ۱۱۶۶، والدارمی: ۳۶۳، والطبرانی فی الکبیر : ۷۳۵۹ (انظر: ۱۸۰۸۹)
Explanation
فوائد: …یہ عظمتیں حاصل کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو، علمائے اسلام اور مبلغین علم اور عمل صالح کے ذریعے عظیم تر بننے کی کوشش کریں، حصول علم کے بعد دین کی تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد اور مشن سمجھیں، اخلاص میں نکھار پیدا کریں، نمود ونمائش سے کنارہ کشی اختیار کریں، اس شعبے کو کسی مجبوری کا نتیجہ مت سمجھیں اور اس معاملے میں کسی دنیوی مقصد کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں، دنیا و آخرت کی رفعتیں اور برکتیں ایسے لوگوں کے لیے ہیں، کاش! ان برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس گُر ہوتے۔ حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔
248
Sahih
۔ (۲۴۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَحَلَ اِلَی فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ وَھُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَھُوَ یَمُدُّ نَاقَۃً لَہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ لَمْ آتِکَ زَائِرًا، اِنَّمَا أَتَیْتُکَ لِحَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، رَجَوْتُ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَکَ مِنْہُ عِلْمٌ، فَرَآہُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِیْ أَرَاکَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِیْرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہَانَا عَنْ کَثِیْرٍ مِنَ اْلاِرْفَاہِ وَرَآہُ حَافِیًا، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِیَ أَحْیَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۶۹)
عبد اللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبیدؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے، جب انھوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے، نیز انھوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انھوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۲۴۹) تخریج: قال الالبانی: صحیح (سنن ابی داود) ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۶۰، وأخرجہ النسائی: ۸/ ۱۸۵ مختصرا (انظر: ۲۳۹۶۹)
Explanation
فوائد: …یہ صحابۂ کرام کے نزدیک فرموداتِ نبویہ کی عظمت تھی کہ حدیث کی خاطر مصر تک کا سفر کیا جا رہا ہے، حدیث ِ مبارکہ کے اگلے حصے سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار سادگی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
249
Sahih
۔ (۲۵۰)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۹۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹(انظر: ۸۳۱۶)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ ہمیں علم شرعی کا حقیقی طالب بنا دے۔ (آمین)
250
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.