TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم کے ابواب - علم کے ابواب - Book 4 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 4 of Musnad Ahmad, with 18 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 18 Chapters
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۳)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِیْ اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَکَتِہِ فِیْ الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتاہ اللّٰہُ حِکْمَۃً فَہُوَ یَقْضِی بِہَا وَیُعَلِّمُہَاالنَّاسَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۵۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف دو چیزوں میں رشک ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس کو حق کے لیے بھرپور خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ آدمی کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حکمت (یعنی علمِ نافع) عطا اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳، ۱۴۰۹، ومسلم: ۸۱۶ (انظر: ۳۶۵۱)
Explanation
فوائد: …حسد کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے: (۱) کسی شخص کے بارے میں یہ تمنا کرنا کہ وہ فلاں نعمت سے محروم ہو جائے، یہ حرام ہے۔ (۲) کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اسے بھی یہ نعمت مل جائے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کو رشک کہتے ہیں اور یہ ہر اس نعمت کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ، جس کا گناہ سے تعلق نہ ہو ۔ اس حدیث میں رشک کو صرف دو چیزوں کے ساتھ پابند کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ قابل تعریف اور عظمت و فضیلت والا رشک ان دو چیزوں میں ہی ہوتا ہے۔
233
Sahih
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَائِ فِی الْأَرْضِ کَمَثَلِ النُّجُوْمِ فِی السَّمَائِ یُہْتَدٰی بِھِمْ فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَاِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُوْمُ یُوْشِکُ أَنْ تَضِلَّ الْہُدَاۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۲۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین میں اہل علم کی مثال، آسمان میں ستاروں کی سی ہے، اِن علماء کے ذریعے خشکی اور سمندری اندھیروں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے، جب یہ ستارے مٹ جائیں گے تو جلدی ہی رہنمائی کرنے والے گمراہ ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۲۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، رشدین بن سعد ضعیف، وابوحفص صاحب انس مجھول، وعبد اللہ بن الولید لین الحدیث (انظر: ۱۲۶۰۰)
234
Zaeef
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۵)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا بَعَثَ اَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِیْ بَعْضِ أَمْرِہِ قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۳۵)
سیدناابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے: (لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت) خوشخبریاں سنانا اور متنفر نہ کر دینا اور آسانیاں پیدا کرنا اور (دین میں) مشکلات پیدا نہ کر دینا۔
Takhreej
(۲۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۳۸، ومسلم: ۱۷۳۳ (انظر: ۱۹۶۹۹)
Explanation
فوائد: …داعی کو حکمت و دانائی سے متصف ہونا چاہیے اور ایسا ربّانی ہونا چاہیے، جو لوگوں کے مزاج کو سمجھ کر درجہ بدرجہ ان کی تربیت کر کے ان کو بلندی کی طرف لے جانے والا ہے، شریعت نے خوشخبریاں سنانے، آسانیاں پیدا کرنے، متنفر نہ کرنے اور مشکلات پیدا نہ کرنے کا کوئی کلیہ اور ضابطہ مقرر نہیں کیا، ان سب چیزوں کا انحصار مبلغ کے فہم پر ہے، ہر بندے کا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، کس بندے کو کس انداز میں سمجھایا جائے اور کون سا بندہ کون سی بات کو محسوس کرتا ہے، ان سب امور کا پاس و لحاظ کرنا ضروری ہے، اس ضمن میں انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ ایک مسجد یا ادارے کے لوگ مختلف دھڑا بندیوں میں تقسیم نہ ہوں، وگرنہ اصلاح کو دور کر دینے والا فساد پیدا ہو جائے گا۔
235
Sahih
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۶)وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ مِنَ الْہُدٰی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ، فَکَانَتْ مِنْہُ طَائِفَۃٌ قَبِلَتْ فَأَنْبَتَتِ الْکَلَاَ وَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَ، وَکَانَتْ مِنْہَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتِ الْمَائَ فَنَفَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا نَاسًا فَشَرِبُوْا فَرَعَوْا وَسَقَوْا وَ زَرَعُوْا وَأَسْقَوْا، وَأَصَابَتْ طَائِفَۃً مِنْہَا أُخْرٰی، اِنَّمَا ہِیَ قِیْعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَائً وَلَا تُنْبِتُ کَلََأً، فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَنَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِیْ بِہِ وَنَفَعَ بِہِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَأْسًا وَلَمْ یَقْبَلْ ہُدَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کر کے بھیجا ہے، اس کی مثال اس بارش کی سی ہے، جو زمین پر نازل ہوئی، زمین کے ایک حصے نے اس کا پانی قبول کیا اور بہت زیادہ گھاس اگائی اور ایک حصہ سخت تھا، اس نے پانی کو روک لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچایا، پس انھوں نے پانی پیا، مویشیوں کو پلایا، کھیتی کاشت کی اور اس کو سیراب کیا۔ پھر یہی بارش اس زمین پر بھی برسی، جو چٹیل میدان تھی، وہ نہ پانی کو روک سکی اور نہ گھاس اگا سکی۔ پس اول الذکر اس شخص کی مثال ہے جس نے دین میں فقہ حاصل کی، (یعنی دین کو سمجھا اور اس کا علم حاصل کیا)، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو اس کے ذریعے نفع دیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیا، سو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دی اور مؤخر الذکر اس آدمی کی مثال ہے، جس نے (علم اور ہدایت قبول کرنے کیلئے) سرے سے سر ہی نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت قبول نہیں کی، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا۔
Takhreej
(۲۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹، ومسلم: ۲۲۷۲(انظر: ۱۹۵۷۳)
Explanation
فوائد: …اس حدیث میں زمین کی تین قسمیں بیان کی گئیں ہیں: (۱) پانی کو قبول کر کے جذب کرے اور چارہ اگائے، (۲) پانی کو روکے رکھے، ایسی زمین خود تو اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتی، البتہ لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور (۳) وہ چٹیل میدان، جو نہ پانی کو روک سکا اور نہ چارہ اگا سکا۔پہلی مثال اس عالم کی ہے، جس نے شرعی علم اور تَفَقُّہ فی الدین حاصل کیا، اس پر عمل کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دی۔ دوسری مثال اس عالم کی ہے، جس نے شرعی علم حاصل کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم بھی دی، لیکن خود عمل نہ کر سکا اور پہلے کی طرح دین میں فقاہت حاصل نہ کی۔تیسری مثال اس شخص کی ہے، جس نے علم سنا، لیکن نہ اس کو یاد کیا، نہ اس پر عمل کیا اور اس کو دوسروں تک منتقل بھی نہ کیا۔
236
Sahih
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۷)۔عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِالْحٰرِثِ أَنَّہُ لَقِیَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ بِعُسْفَانَ، وَکَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَہُ عَلٰی مُلْکِہِ، فقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَی أَھْلِ الْوَادِیْ؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمُ ابْنَ أَبْزٰی، قَالَ: وَمَا ابْنُ أَبْزٰی؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِیْنَا، فَقَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْہِمْ مَولًی! فَقَالَ: اِنَّہُ قَارِیئٌ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ، فَقَالَ عُمَرُؓ: أَمَا اِنَّ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲)
نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطابؓ کو عُسفان مقام پر ملے، سیدنا عمر ؓ نے اُس کو اس کے سابقہ ملک کا عامل بنایا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓ نے اس سے کہا: تم وادی والوں پر کس کو نائب بنا کر آئے ہو؟ اس نے کہا: جی میں ابن ابزی کو نائب بنا کر آیا ہوں، انھوں نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ہمارا ایک غلام ہے، انھوں نے کہا: تم غلام کو نائب بنا آئے ہو! اس نے کہا: جی وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنے والا، فرائض کو جاننے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے، سیدنا عمرؓ نے کہا: خبردار! تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو رفعت عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بعضوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۰۰(انظر: ۲۳۲)
Explanation
فوائد: …یہ سیدنا عمر ؓکی خلافت کا زمانہ ہے، جس میں ایک غلام کو شرعی علم کی وجہ سے لوگوں کا امیر بنایا جا رہا ہے، مسلمانوں کی رفعت اور ذلت کا معیار اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
237
Sahih
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ: أَنَّ أھَلَ الْیَمَنِ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالُوْا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا یُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِؓ فَأَرْسَلَہُ مَعَہُمْ فَقَالَ: ((ھٰذَا أَمِیْنُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے پاس ایسا آدمی بھیجیں، جو ہمیں دین کی تعلیم دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ؓکا ہاتھ پکڑا اور ان کو ان کے ساتھ بھیجا اور فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔
Takhreej
(۲۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۸۲، ۷۲۵۵، ومسلم: ۲۴۱۹ (انظر: ۱۲۷۸۹)
Explanation
فوائد: …اہل یمن کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے کے لیے امت ِ مسلمہ کے امین اور جلیل القدر صحابی سیدنا ابو عبیدہ کا انتخاب کیا جا رہا ہے، جبکہ اِس صحابی کو یہ منقبت اس کے علم شرعی کی وجہ مل رہی ہے۔ کاش! آج بھی اس حقیقت کا ادراک کر لیا جاتا، ہم ایسے پر فتن دور سے گزر رہے ہیں کہ جس میں امامت، خطابت، اذان، خدمت ِ مسجد، حفظ و ناظرہ کی تعلیم اور قرآن و حدیث کی تدریس کو باعث ِ اعزاز مشغلہ نہیں سمجھا جا رہا، استغفر اللہ۔
238
Sahih
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۳۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ہٰرُوْنَ ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ الْخَیْرِ الزِیَادِیُّ عَنْ أَبِیْ قَبِیْلِ نِ الْمَعَافِرِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ(ؓ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یَعْرِفْ لِعَالِمِنَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَارُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۳۵)
سیدنا عباد ہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ آدمی میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوںپر رحم نہیں کرتا اور ہمارے اہل علم کا حق نہیں پہنچانتا۔
Takhreej
(۲۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: ویعرف لعالمنا وھذا اسناد منقطع، ابو قبیل حیی بن ھانیء لم یسمع من عبادۃ ۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۲۷۱۸(انظر: ۲۲۷۵۵)
Explanation
فوائد: …بہرحال اہل علم معاشرے کے سب سے بہترین افراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے شریعت ِ اسلامیہ کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کیلئے اِن ہی لوگوں کو استعمال کیا، اس لیے سب سے زیادہ احترام و اکرام کے لائق یہی لوگ ہیں۔
239
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۴۵(انظر: ۲۷۹۰)
Explanation
فوائد: …فقہ سے مراد دین کے علوم کا فہم ہے اور اِن علوم کا سرچشمہ قرآن اور حدیث ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو خیر و بھلائی عطا کرنا چاہتا ہو، وہ اس کو شرعی علم عطا کر دیتا ہے اور یہی وہ علم ہے ، جس کی وجہ سے دل میں خشیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کا اثرات اعضاء و جوارح پر نظر آنے لگتے ہیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ احادیث ِ مبارکہ میں فقہ سے مراد اصطلاحی اور عرفی فقہ نہیں ہوتی، پھر فقہ کی جو مروّجہ صورت لوگوں کے سامنے ہے اور جس پر بعض لوگوں کو بڑا ناز بھی ہے، اس صورت نے تو لوگوں کو قرآن و حدیث اور اس کے فہم سے دور کر دیا ہے۔ ان احادیث میں قرآن و حدیث کا علم رکھنے والوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں اور حرص و طمع اور تہمت گاہوں سے اپنے دامن کو محفوظ رکھیں، انجام خیر ایسے لوگوں کا منتظر ہے۔
240
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۱)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ(ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۵۵)
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۲۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱، ۳۱۱۶، ومسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۹۳۱)
241
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَیُعْطِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۹۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
Takhreej
(۲۴۲) تخریج: صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۰(انظر: ۷۱۹۴)
Explanation
فوائد: …یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو علم شرعی کو تقسیم کرنے والے ہیں، کبھی قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور کبھی احادیث بیان کرتے ہیں، رہا مسئلہ فہم و فقہ اور استدلال و استنباط کا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اُس نے اِس کو کسی زمانے یا شخصیت کے ساتھ خاص نہیں کیا۔
242
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
سیدنا معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۱(انظر: ۱۶۸۳۴)
243
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انھوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انھوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۷۸۵ (انظر: ۱۶۸۷۵)
244
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیِّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۰۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔
Takhreej
(۲۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۴۹۴۵)
Explanation
فوائد: …جیسے سونے، چاندی اور دوسری قیمتی اور گھٹیاں چیزوںکی کانیں ہوتی ہیں، اسی طرح بعض خاندانوں کے لوگ عمدہ، شریف النفس اور بہادر ہوتے ہیں اور بعض قبیلوں کے لوگ نامرد، گھٹیا اور بخیل قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اگر اعلی خاندان والے بھی بے علم اور جاہل ہوں تو پھر خاندانی شرافت سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھٹیا خاندان کا ایک عالم، عالی خاندانوں کے جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسلام میں علوم شرعیہ کی فقہ اور فہم برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے وڈیروں نے قرآن و حدیث کے فہم کو عزت کی علامت ہی نہیں سمجھا، ظاہر پرستی اور مادیت پرستی اس قدر غالب آ گئی کہ جس ڈگری کی بنا پر تنخواہ زیادہ ملتی ہے، اس کو اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ بہت کم معاوضے لے کر مساجد اور مدارس میں دینِ اسلام کے لیے خدمات سرانجام دے رہے، ان کو بھی یہی مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ کو تبدیل کر لیں، تاکہ دنیا بہتر ہو جائے۔
245
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
۔ (۲۴۶)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ، اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔
Takhreej
(۲۴۶) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود ۳۶۴۲، والترمذی: ۲۶۸۲، وابن ماجہ: ۲۳۹ (انظر: ۲۱۷۱۵)
Explanation
فوائد: …قرآن و حدیث کا علم، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی میراث ہے، کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ، جو اس میراث سے بڑی مقدار میں حصہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس موقع میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اہل علم لوگ اپنی اصلاح کریں، اپنے اندر عاجزی و انکساری پیدا کریں، لوگوں کے سرمائیوں سے مستغنی ہو جائیں، صبر کے ساتھ شب وروز گزاریں، ہم کوئی اصحاب ِ صفہ سے برتر نہیں ہے کہ ہمارے لیے فوراً روسیع روزیوں کے دروازے کھل جائیں اور ان کا علم اُن کے وجود سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ ان کو پورا کریں، حقیقی عزت اور بقا اسی شعبے میں ہے۔
246
Sahih
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۴۷)۔عَنْ قَیْسٍ بْنِ کَثِیْرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلَی أَبِیْ الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَکَ أَیْ أَخِیْ؟ قَالَ: حَدِیْثٌ، بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا قَدِمْتَ اِلَّا فِیْ طَلْبِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہِ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَاِنَّہُ لَیَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّی الْحِیْتَانُ فِی الْمَائِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ،اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنَّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
قیس بن کثیرکہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداءؓ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انھوں نے اس سے پوچھا: میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟ اس نے کہا: ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کرتے ہو، انھوں نے کہا: کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: پس بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتی کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انھوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔
Takhreej
(۲۴۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود ۳۶۴۲، والترمذی: ۲۶۸۲، وابن ماجہ: ۲۳۹ (انظر: ۲۱۷۱۵)
247
Sahih
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۴۸)۔عَنْ زِرِّبْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ اِلٰی صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ أَسْأَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقَالَ: مَا جَائَ بِکَ؟ قُلْتُ: اِبْتِغَائَ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُکَ، وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا یَطْلُبُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۵۸)
زِرّ بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انھوں نے کہا: کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے، انھوں نے کہا: تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں، پھر انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ حدیث بیان کی: بیشک فرشتے طالب ِ علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۱۶۵، ۱۱۶۶، والدارمی: ۳۶۳، والطبرانی فی الکبیر : ۷۳۵۹ (انظر: ۱۸۰۸۹)
Explanation
فوائد: …یہ عظمتیں حاصل کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو، علمائے اسلام اور مبلغین علم اور عمل صالح کے ذریعے عظیم تر بننے کی کوشش کریں، حصول علم کے بعد دین کی تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد اور مشن سمجھیں، اخلاص میں نکھار پیدا کریں، نمود ونمائش سے کنارہ کشی اختیار کریں، اس شعبے کو کسی مجبوری کا نتیجہ مت سمجھیں اور اس معاملے میں کسی دنیوی مقصد کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں، دنیا و آخرت کی رفعتیں اور برکتیں ایسے لوگوں کے لیے ہیں، کاش! ان برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس گُر ہوتے۔ حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔
248
Sahih
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۴۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَحَلَ اِلَی فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ وَھُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَھُوَ یَمُدُّ نَاقَۃً لَہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ لَمْ آتِکَ زَائِرًا، اِنَّمَا أَتَیْتُکَ لِحَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، رَجَوْتُ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَکَ مِنْہُ عِلْمٌ، فَرَآہُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِیْ أَرَاکَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِیْرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہَانَا عَنْ کَثِیْرٍ مِنَ اْلاِرْفَاہِ وَرَآہُ حَافِیًا، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِیَ أَحْیَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۶۹)
عبد اللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبیدؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے، جب انھوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے، نیز انھوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انھوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۲۴۹) تخریج: قال الالبانی: صحیح (سنن ابی داود) ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۶۰، وأخرجہ النسائی: ۸/ ۱۸۵ مختصرا (انظر: ۲۳۹۶۹)
Explanation
فوائد: …یہ صحابۂ کرام کے نزدیک فرموداتِ نبویہ کی عظمت تھی کہ حدیث کی خاطر مصر تک کا سفر کیا جا رہا ہے، حدیث ِ مبارکہ کے اگلے حصے سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار سادگی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
249
Sahih
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۵۰)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۹۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹(انظر: ۸۳۱۶)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ ہمیں علم شرعی کا حقیقی طالب بنا دے۔ (آمین)
250
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۱)۔عَنْ عَیَاضٍ بْنِ حِمَارٍالْمُجَاشِعِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنِیْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا، وَأَنَّہُ قَالَ: اِنَّ کُلَّ مَا نَحَلْتُہُ عِبَادِیْ فَہُوَ لَہُمْ حَلَالٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۲۹)
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک خطبے میں ارشادفرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میںنے اپنے بندوںکو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔
Takhreej
(۲۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۶۵ (انظر: ۱۸۳۳۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ شرعی علم کو عام کریں، دوسری نصوص میں حرام اشیاء کی تفصیل موجود ہے۔
251
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((عَلِّمُوْا وَ بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تعلیم دو اور خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔
Takhreej
(۲۵۲) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۶۰۸، وابن ابی شیبۃ: ۸/۵۳۲، والبزار: ۱۵۲ (انظر: ۲۱۳۶)
Explanation
فوائد: …معلم، مربیّ اور مبلغ کو حکیم اور دانا ہونا چاہیے اورلوگوں کی ذہنی سطح اور ان کے مزاج کا اندازہ کر کے ان سے گفتگو کرنی چاہیے۔ غصے کی حالت میں عام لوگوں کو اچھے بھلے کی تمیز نہیں رہتی اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خود بولنے والی کو بھی ندامت ہوتی ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس حالت میں خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
252
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.