مسنداحمد

Musnad Ahmad

علم کے ابواب

علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان

۔ (۲۵۹)۔عَنْ أَبِیْ وَاقَدٍ اللَّیْثِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ مَرَّ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ، فَجَائَ أَحَدُہُمْ فَوَجَدَ فُرْجَۃً فِی الْحَلْقَۃِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِہِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَبَرِ ہٰؤُلَائِ النَّفَرِ؟۔)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أَمَّا الَّذِیْ جَائَ فَجَلَسَ فَأَوٰی فَآوَاہُ اللّٰہُ، وَالَّذِیْ جَلَسَ مِنْ وَّرَائِکُمْ فَاسْتَحْیٰ فَاسْتَحْیَ اللّٰہُ مِنْہُ، وَأَمَّا الَّذِیْ اِنْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۵۲)

سیدنا ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوںکے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔

۔ (۲۶۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ لُقْمَانَ کَانَ یَقُوْلُ: یَا بُنَیَّ!لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاہِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ أَوْ تُمَارِیَ بِہِ السُّفَہَائَ وَتُرَائِیَ بِہِ فِی الْمَجَالِسِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۱)

عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔

۔ (۲۶۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَثَلُ الَّذِیْ یَجْلِسُ فَیَسْمَعُ الْحِکْمَۃَ، ثُمَّ لَا یُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِہِ اِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی رَاعِیًا فَقَالَ: یَا رَاعِیْ! اجْزُرْ لِیْ شَاۃً مِنْ غَنَمِکَ، قَالَ: اذْہَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَیْرِہَا، فَذَہَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ کَلْبِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۲۴)

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شرّ والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے کے پاس آ کر کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لیا گیا۔