سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے
۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرانے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتاتو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوںجیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔