سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر کیا کرو، تندرست رہو گے اور غزوہ کیا کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
Takhreej
(۲۲۸۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعیف صاحب مناکیر، أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۸۳۰۸ (انظر: ۸۹۵۴)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی نکلنے والا، جو اپنے گھر سے نکلتا ہے، مگر اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں، ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہو تا ہے اور ایک شیطان کے ہاتھ میں، اگر وہ شخص اللہ کے پسندیدہ کام کے لیے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور وہ شخص فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتاہے یہاں تک کہ گھر واپس آ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے کام کے لیے نکلتا ہے جو اللہ کو ناراض کرتا ہے، تو اس کے پیچھے شیطان اپنا جھنڈا لے کر چل پڑتا ہے اور وہ شخص شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہی رہتا ہے یہاں تک وہ گھر واپس لوٹ آتا ہے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں کتا ہو یا گھنٹی کی آواز ہو۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سبزہ زاروںمیں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو اور جب تم خشک زمین پر سفر کرو تو تیزی کے ساتھ چلا کرو اور جب تم رات کے آخر میں پڑائو ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے اتر کر ایک طرف پڑاؤ کیا کرو۔
۔ (دوسری سند) اس میں یہ ہے: اورجب تم رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالو تو راستوں سے ایک جانب ہو جایا کرو، کیونکہ یہ گزر گاہیں رات کو جانوروں کے راستے اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ بن جاتی ہیں۔
Takhreej
(۲۲۸۹) تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۸۹۱۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سر سبز و شاداب زمین میں چلو تو اپنی سواریوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دو، (مسافر لوگوں کے آرام کرنے والی) منزلوں سے تجاوز نہ کیا کرو، جب بنجر زمین میں سفر کرو توتیزی سے چلا کرو اوررات کے اندھیرے میں سفر کیا کرو، کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے، اور جب جادو گر جنّ (لوگوں کو راستے سے گمراہ کرنے کے لیے) مختلف رنگوں اور شکلوں میں ظاہر ہوں تو اذان کہا کرواور راستے کے درمیان میں نماز پڑھنے اور پڑاؤڈالنے سے بچو، کیونکہ یہ رات کو درندوں اور سانپوں وغیرہ کا ٹھکانہ ہوتے ہیں اور (راستے میں) پیشاب یا پاخانہ وغیرہ کرنے سے بھی بچو، کیونکہ یہ فعل لعنت کا سبب بنتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۹۰) تخریـج:… صحیح لغیرہ دون قولہ: ((اذا تغولت الغیلان فبادروا بالأذان))، وھذا السند منقطع، لم یسمع الحسن البصری من جابر، أخرجہ ابوداود: ۲۵۷۰، وابن ماجہ: ۳۲۹ (انظر: ۱۴۲۷۷، ۱۵۰۹۱)
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے اور جب صبح سے کچھ دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو زمین پر کھڑے کر کے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سر رکھ کر لیٹ جاتے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے
۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرانے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتاتو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوںجیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ رات کواکیلا سفر کرنے میں کیا نقصان ہے تو کوئی بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔
Takhreej
(۲۳۰۰) تخریـج:… حدیثB صحیح، مؤمل بن اسماعیل ضعیف لکنہ قد توبع، أخرجہ البخاری: ۲۹۹۸(انظر: ۴۷۴۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے کہ آدمی اکیلا رات گزارے یا اکیلا سفر کرے۔
Takhreej
(۲۳۰۱) تخریـج:… صحیح دون النھی عن ان یبیت الرجل وحدہ، وھی زیادۃ شاذۃ، انظر الحدیث السابق: ۱۱۶۳ (انظر: ۵۶۵۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اکیلا سفر کرنے والا سوار شیطان ہے اور دو سفر کرنے والے سوار بھی شیطان ہیں، البتہ تین کا قافلہ بن جاتا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن فغواء اپنے باپ سیّدنا عمرو بن فغوائ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا، کیونکہ آپ مجھے کچھ مال دے کر سیّدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔ طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔
Takhreej
(۲۳۰۳) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن عمرو بن الفغواء ، قال الذھبی: لایعرف، وقال ابن حجر: مستور، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘، وعیسی بن معمر، قال ابن حجر: لین الحدیث، وقال الذھبی: صالح الروایۃ، وقیل: ان الأزدی ضعفہ، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘، أخرجہ ابوداود: ۴۸۶۱ (انظر: ۲۲۴۹۲)
علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا ، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔