TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 12 Chapters
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۸۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَافِرُوا تَصِحُّوا وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر کیا کرو، تندرست رہو گے اور غزوہ کیا کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
Takhreej
(۲۲۸۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعیف صاحب مناکیر، أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۸۳۰۸ (انظر: ۸۹۵۴)
2285
Zaeef
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۸۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ خَارِجٍ یَخْرُجُ یَعْنِی مِنْ بَیْتِہِ اِلَّا بِبَابِہِ رَایَتَانِ، رَایَۃٌ بِیَدِ مَلَکٍ، وَرَایَۃٌ بِیَدِ شَیْطَانٍ، فَاِنْ خَرَجَ لِمَا یُحِبُّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِتَّبعَہُ الْمَلَکُ بِرَایَتِہِ فَلَمْ یَزَلْ تَحْتَ رَایَۃِ الْمَلَکِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہِ، وَاِنْ خَرَجَ لِمَا یُسْخِطُ اللّٰہَ اِتَّبَعَہُ الشَّیْطَانُ بِرَایَتِہِ فَلَمْ یَزَلْ تَحْتَ رَایَۃِ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی نکلنے والا، جو اپنے گھر سے نکلتا ہے، مگر اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں، ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہو تا ہے اور ایک شیطان کے ہاتھ میں، اگر وہ شخص اللہ کے پسندیدہ کام کے لیے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور وہ شخص فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتاہے یہاں تک کہ گھر واپس آ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے کام کے لیے نکلتا ہے جو اللہ کو ناراض کرتا ہے، تو اس کے پیچھے شیطان اپنا جھنڈا لے کر چل پڑتا ہے اور وہ شخص شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہی رہتا ہے یہاں تک وہ گھر واپس لوٹ آتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۸۶) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۷۸۳، والبیھقی فی ’’الزھد‘‘: ۶۹۹ (انظر: ۸۲۸۶)
2286
Sahih
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۸۷) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِکَۃُ رُفْقَۃً فِیْہَا کَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں کتا ہو یا گھنٹی کی آواز ہو۔
Takhreej
(۲۲۸۷) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۲۱۱۳ (انظر: ۷۵۶۶)
2287
Sahih
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۸۸) عَنْ سُہَیْلِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْاِبِلَ حَظَّہَا، وَاِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّیْرَ، وَاِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِیْسَ فَتَنَکَّبُو الطَّرِیْقَ۔))ی (مسند احمد: ۸۴۲۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سبزہ زاروںمیں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو اور جب تم خشک زمین پر سفر کرو تو تیزی کے ساتھ چلا کرو اور جب تم رات کے آخر میں پڑائو ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے اتر کر ایک طرف پڑاؤ کیا کرو۔
Takhreej
(۲۲۸۸) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۱۹۲۶ (انظر: ۸۴۴۲)
2288
Sahih
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۸۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَاِذَا عَرَّسْتَمْ فَاجْتَنِبُوْا الْطُّرُق فَاِنَّھَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الھَوَامِّ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۵)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ ہے: اورجب تم رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالو تو راستوں سے ایک جانب ہو جایا کرو، کیونکہ یہ گزر گاہیں رات کو جانوروں کے راستے اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ بن جاتی ہیں۔
Takhreej
(۲۲۸۹) تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۸۹۱۸)
2289
Sahih
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۹۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سِرْتُمْ فِی الْخِصْبَ فَأَمْکِنُوا الرِّکَابَ أَسْنَانَہَا وَلَا تُجَاوِزُوْا الْمَنَازِلِ وَاِذَا سِرْتُمْ فِی الْجَدْبِ فَاسْتَجِدُّوا وَعَلَیْکُمْ بِالدَّلَجِ فَاِنَّ الْأَرْضَ تُطْوٰی بِاللَّیْلِ، وَاِذَا تَغَوَّلَتْ لَکُمُ الْغِیْلَانُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ، وَاِیَّاکُمْ وَالصَّلَاۃَ عَلٰی جَوَادِّ الطَّرِیْقِ وَالنُّزُولَ عَلَیْہَا، فَاِنَّہَا مَأْوَی الْحَیَّاتِ وَالْسِّبَاعِ، وَقَضَائَ الْحَاجَۃِ فَاِنَّہَا الْمَلَاعِنُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سر سبز و شاداب زمین میں چلو تو اپنی سواریوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دو، (مسافر لوگوں کے آرام کرنے والی) منزلوں سے تجاوز نہ کیا کرو، جب بنجر زمین میں سفر کرو توتیزی سے چلا کرو اوررات کے اندھیرے میں سفر کیا کرو، کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے، اور جب جادو گر جنّ (لوگوں کو راستے سے گمراہ کرنے کے لیے) مختلف رنگوں اور شکلوں میں ظاہر ہوں تو اذان کہا کرواور راستے کے درمیان میں نماز پڑھنے اور پڑاؤڈالنے سے بچو، کیونکہ یہ رات کو درندوں اور سانپوں وغیرہ کا ٹھکانہ ہوتے ہیں اور (راستے میں) پیشاب یا پاخانہ وغیرہ کرنے سے بھی بچو، کیونکہ یہ فعل لعنت کا سبب بنتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۹۰) تخریـج:… صحیح لغیرہ دون قولہ: ((اذا تغولت الغیلان فبادروا بالأذان))، وھذا السند منقطع، لم یسمع الحسن البصری من جابر، أخرجہ ابوداود: ۲۵۷۰، وابن ماجہ: ۳۲۹ (انظر: ۱۴۲۷۷، ۱۵۰۹۱)
2290
Sahih
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
۔ (۲۲۹۱) عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا عَرَّسَ بِلَیْلٍ اِضْطَجَعَ عَلٰی یَمِیْنِہِ، وَاِذَا عَرَّسَ قُبَیْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَیْہِ وَوَضَعَ رَأْسَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۰۹)
سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے اور جب صبح سے کچھ دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو زمین پر کھڑے کر کے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سر رکھ کر لیٹ جاتے۔
Takhreej
(۲۲۹۱) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۶۸۳ (انظر: ۲۲۵۴۶م، ۲۲۶۳۲)
2291
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَنَوْمَہُ فَاِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ نَہْمَتَہُ مِنْ سَفَرِہِ فَلْیُعَجِّلْ اِلٰی أَھْلِہِ)) (مسند احمد: ۷۲۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
Takhreej
(۲۲۹۲) تخریـج: أخرجہ البخاری: ۱۸۰۴، ۳۰۰۱، ۵۴۲۹، ومسلم: ۱۹۲۷ (انظر: ۷۲۲۵)
2292
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۳) عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یُسَافِرَ لَمْ یُسَافِرْ اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۰)
سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے
Takhreej
(۲۲۹۳) تخریـج: حدیث صحیح بغیر ھذہ السیاقۃ، فقد تفرد بھا ابن لھیعۃ، وھو سییء الحفظ، ومثلہ لایحتمل تفردہ، وھذا السیاق الصحیح سیأتی فی الحدیث بالطریق الثانی(انظر: ۲۷۱۷۸)
2293
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ اِذَا أَرَادَ سَفَراً اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۷۳)
۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۹۴)تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۲۹۴۹ (انظر: ۱۵۷۸۱)
2294
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُ سَفَراً فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوْصِنِی، قَالَ: ((أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالتَّکْبِیرِ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ۔)) فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ ازْوِ لَہُ الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرانے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔
Takhreej
(۲۲۹۵) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۷۱، والترمذی: ۳۴۴۵ (انظر: ۸۳۱۰، ۹۷۲۴)
2295
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ أَبِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا أَتَی الرَّجُلُ وَھُوَ یُرِیْدُ السَّفَرَ قَالَ لَہُ: اُدْنُ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوَدِّعُنَا فَیَقُوْلُ: ((اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۵۲۴)
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتاتو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
Takhreej
(۲۲۹۶) تخریـج:… صحیح، وھذا اسناد فیہ وھم، أخرجہ ابوداود: ۲۶۰۰، والترمذی: ۳۴۴۲، ۳۴۴۳ (انظر: ۴۵۲۴، ۴۹۵۷)
2296
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۷)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ: تَعَالَ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ فَأَخَذَ بِیَدِی فَقَالَ: اَسْتَوْدِعُُُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۹۵۷)
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوںجیسے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
Takhreej
(۲۲۹۷)تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول۔
2297
Sahih
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
۔ (۲۲۹۸) عَنْ مُوْسَی بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعُکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ کَمَا وَدَّعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِی لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُہُ۔ (مسند احمد: ۹۲۱۹)
موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔
Takhreej
(۲۲۹۸) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۲۵ (انظر: ۸۶۹۴، ۹۲۳۰)
2298
Sahih
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۲۲۹۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَیْبَرَ فَاتَّبَعَہُ رَجُلَانٍ وَآخَرُ یَتْلُوھُمَا یَقُوْلُ: اِرْبَعَا اِرْبَعَا حَتّٰی رَدَّھُمَا، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَانِ شَیْطَانَانِ وَاِنِّی لَمْ أَزَلْ بِہِمَا حَتّٰی رَدَدْتُّھُمَا، فَاِذَا أَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْرِئْہُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّا ھٰہُنَا فِی جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ کَانَتْ تَصْلُحُ لَہُ لَبَعَثْنَا بِہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِیْنَۃَ أَخْبَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَلْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹)
عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔
Takhreej
(۲۲۹۹) تخریـج:… اسنادہ صحیح، أخرجہ أبو یعلی: ۲۵۸۹، والحاکم: ۲/ ۱۰۲، والبزار: ۲۰۲۲ (انظر: ۲۵۱۰، ۲۷۱۹)
2299
Sahih
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۲۳۰۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی الْوَحْدَۃِ مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَہُ بِلَیْلٍ أَبَداً۔)) (مسند احمد: ۵۹۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ رات کواکیلا سفر کرنے میں کیا نقصان ہے تو کوئی بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔
Takhreej
(۲۳۰۰) تخریـج:… حدیثB صحیح، مؤمل بن اسماعیل ضعیف لکنہ قد توبع، أخرجہ البخاری: ۲۹۹۸(انظر: ۴۷۴۸)
2300
Sahih
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۲۳۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنِ الْوَاحْدَۃِ أَنْ یَبِیْتَ الرَّجُلُ وَحْدَہُ أَوْ یُسَافِرَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے کہ آدمی اکیلا رات گزارے یا اکیلا سفر کرے۔
Takhreej
(۲۳۰۱) تخریـج:… صحیح دون النھی عن ان یبیت الرجل وحدہ، وھی زیادۃ شاذۃ، انظر الحدیث السابق: ۱۱۶۳ (انظر: ۵۶۵۰)
2301
Sahih
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۲۳۰۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرَّاکِبُ شَیْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَۃُ رَکْبٌ۔)) (مسند احمد: ۶۷۴۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلا سفر کرنے والا سوار شیطان ہے اور دو سفر کرنے والے سوار بھی شیطان ہیں، البتہ تین کا قافلہ بن جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۰۲) تخریـج:… حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۶۰۷، والترمذی: ۱۶۷۴(انظر: ۶۷۴۸)۔
2302
Sahih
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۲۳۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَائِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَنِی بِمَالٍ اِلٰی أَبِی سُفْیَان یَقْسِمُہُ فِی قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَقَالَ: ((الْتَمِسْ صَاحِبًا)) قَالَ: فَجَائَ نِی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَ: بَلَغَنِی اَنَّکَ تُرِیْدُ الْخُرُوْجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَکَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِباً، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدْتَّ صَاحِباً فَآذِنِّی۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((مَنْ؟)) قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِذَا ھَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِہِ فَاحْذَرْہُ فَاِنَّہُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ ’’أَخُوکَ الْبِکْرِیُّ وَلَا تَأْمَنْہُ‘‘۔)) قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتّٰی اِذَا جِئْتُ الْأَبْوَائَ، فَقَالَ لِی: اِنِّی أُرِیْدُ حَاجَۃً اِلٰی قَوْمِی بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِی، قَالَ: قُلْتُ: رَاشِداً، فَلَمَّا وَلّٰی ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسِرْتُ عَلٰی بَعِیْرِی ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُہُ حَتّٰی اِذَا کُنْتُ بِالْأَصَافِرِ اِذَا ھُوَ یُعَارِضُنِی فِی رَھْطِہِ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُہُ، فَلَمَّا رَآنِی قَدْ فُتُّہُ اِنْصَرَفُوْا وَجَائَ نِی، قَالَ: کَانَتْ لِی اِلٰی قَوْمِی حَاجَۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، فَمَضَیْنَا حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ اِلٰی أَبِی سُفْیَانَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۵۹)
عبد اللہ بن عمرو بن فغواء اپنے باپ سیّدنا عمرو بن فغوائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا، کیونکہ آپ مجھے کچھ مال دے کر سیّدنا ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔ طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔
Takhreej
(۲۳۰۳) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن عمرو بن الفغواء ، قال الذھبی: لایعرف، وقال ابن حجر: مستور، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘، وعیسی بن معمر، قال ابن حجر: لین الحدیث، وقال الذھبی: صالح الروایۃ، وقیل: ان الأزدی ضعفہ، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘، أخرجہ ابوداود: ۴۸۶۱ (انظر: ۲۲۴۹۲)
2303
Zaeef
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ لِیَرْکَبَھَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الرِّکَابِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ، فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہَا قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ} ثُمَّ حَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً وَکَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْلِی ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ بِاأَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِہِ اِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِی، وَیَقُوْلُ: عَلِمَ عَبْدِی أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ غَیْرِی۔)) (مسند احمد: ۷۵۳)
علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا ، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۳۰۴) تخریـج:… حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۶۰۲، والترمذی: ۳۴۴۶ (انظر: ۷۵۳)۔
2304
Sahih

Chapters

12
01
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
7 Hadith
02
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
03
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
5 Hadith
04
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
12 Hadith
05
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
06
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
7 Hadith
07
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
08
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
9 Hadith
09
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
12 Hadith
10
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
14 Hadith
11
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
6 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
1 Hadith
No chapter matched that.