TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان - دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 12 · 9 Hadith
۔ (۲۳۱۶) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ یُرِیْدُ سَفَرًا أَوْ غَیْرَہُ فَقَالَ حِیْنَ یَخْرُجُ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، اِلَّا رُزِقَ خَیْرَ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْہُ شَرُّ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلتا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ … میں اللہ پرایمان لایا،اس (کی رسی) کو مضبوطی سے تھاما اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنے کی قدرت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ۔ تو اس کو اس راستے کی خیر و برکت دی جائے گی اور اس راستے کو اس کی برائی سے بچالیا جائے گا۔
Takhreej
(۲۳۱۶) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ صالح بن کیسان، أخرجہ الخطیب فی ’’تاریخ بغداد‘‘: ۵/ ۱۴۵، وابن السنی فی ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘: ۴۹۱ (انظر: ۴۷۱)
2316
Zaeef
۔ (۲۳۱۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ سَفَراً قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ)) (مسند احمد: ۱۲۹۶)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ۔ … اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہی (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں، تیرے ساتھ ہی میں حرکت کرتا ہوں اور تیرے ساتھ ہی میں چلتا ہوں۔
Takhreej
(۲۳۱۷) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عمران بن ظبیان الحنفی الکوفی قال البخاری: فیہ نظر، وقال ابو حاتم: یکتب حدیثہ، یعنی فی المتابعات، وتناقض ابن حبان فذکرہ فی الثقات، وقال فی ’’الضعفائ‘‘: فحش خطؤہ حتی بطل الاحتجاج بہ، وقال یعقوب بن سفیان: ثقۃ
2317
Zaeef
۔ (۲۳۱۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ اِلٰی سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔)) وَاِذَا أَرَادَ الرُّجُوْعَ قَالَ: ((آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) وَاِذَا دَخَلَ أَھْلَہُ قَالَ: ((تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔ … اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور ہمارے گھر میں خلیفہ ہے،اے اللہ! میں تجھ سے سفر میں کثرتِ عیال سے اور سفر سے ناکام واپسی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت کو کم کر دے) اور ہمارے لے یہ سفرآسان کردے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔ … واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اورجب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو فرماتے: تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔ ہم توبہ کرتے ہیں، ہم توبہ کرتے ہیں اور اپنے اس رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو ہمارا کوئی گناہ نہیں چھوڑتا، (بلکہ سب کو معاف فرما دیتا ہے)۔
Takhreej
(۲۳۱۸) تخریـج:… حدیث حسن، أخرجہ أبو یعلی: ۲۳۵۳، وابن حبان: ۲۷۱۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۱۷۳۵، والبزار: ۳۱۲۷، والحاکم: ۱/ ۴۸۸ (انظر: ۲۳۱۱)
2318
Sahih
۔ (۲۳۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (قَالَ عَاصِمٌ: وَقَدْ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ فِیْ سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَہَا اِلَّا أَنَّہُ یَقُوْلُ: ((وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔)) فَیَبْدَأُء بِالْأَھْلِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔( اے اللہ ! میں سفر کی مشقتوں سے، واپس لوٹنے کے غم سے سے، زیادہ ہو جانے کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بددعا سے اور مال اور گھر میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹتے تو یہی کلمات دوہراتے ۔ البتہ آخری جملے کو اس طرح کہتے تھے: وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔(اور اپنے اہل اور مال میں برے منظر۔) یعنی اس میں الْأَہْل کا لفظ پہلے آیا، (اور المَال کا بعد میں)
Takhreej
(۲۳۱۹) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۱۳۴۳(انظر: ۲۰۷۷۶)
2319
Sahih
۔ (۲۳۲۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنِ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ قَالَ حَارَ بَعْدَ مَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۲)
(دوسری سند) عاصم سے الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ کے (معنی کے) بارے میں پوچھاگیا تو انھوں نے کہا: (کسی نعمت کے) زیادہ ہو جانے کے بعد اس میں کمی آجانا۔
Takhreej
(۲۳۲۰)تخریـج:… أخرجہ الترمذی: ۳۴۳۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۷۸۱)
2320
Sahih
۔ (۲۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَکَہُ اللَّیْلُ قَالَ: ((یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوہ یا کسی اور سفر کے لیے نکلتے اور راستے میں رات ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھتے: یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔(اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شرّ سے، تیرے اندر کے شرّ سے، تیرے اندر پیدا کی ہوئی چیزوں کے شرّ سے اور تیرے اوپر رینگنے والی چیزوں کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر قسم کے شیر، شخص، سانپ اور بچھو کے شرّ سے اور اس علاقے میں رہنے والے کے شرّ سے ، (غرضیکہ) ہر جنم دینے والے اور ہر جنم لینے والے کے شرّ سے۔)
Takhreej
(۲۳۲۱) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، الزبیر بن الولید الشامی، تفرد بالروایۃ عنہ شُریح بن عبید الحضرمی، أخرجہ ابوداود: ۲۶۰۳ (انظر: ۶۱۶۱)
2321
Zaeef
۔ (۲۳۲۲) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ یَضُرَّہُ شَیْئٌ حَتَّی یَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِہِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۶۳)
سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ خولہ بنت حکیم سلمیۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کہیں پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ ( میں اللہ کے تمام اور مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جواس نے پیداکی۔)تو کوئی چیز اسے وہاں سے روانہ ہونے تک نقصان نہیں دے گی۔
Takhreej
(۲۳۲۲) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۲۷۰۸ (انظر: ۲۷۱۲۲)
2322
Sahih
۔ (۲۳۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا صَعِدْنَا کَبَّرْنَا وَاِذَا ھَبَطْنَا سَبَّحْنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۶۲۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، جب (بلند جگہ پر)چڑھ رہے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب (بلند جگہ سے) اتر رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۲۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۲۹۹۳، ۲۹۹۴ (انظر: ۱۴۵۶۸)
2323
Sahih
۔ (۲۳۲۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَعِدَ أَکَمَۃً أَوْ نَشَزًا قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (وَفِی لَفْظٍ) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۰۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی ٹیلے یا اونچی جگہ پر چڑھتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (ایک روایت کے الفاظ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کہتے) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ … اے اللہ! ہر بلند جگہ پر عزت و حیثیت تیرے لیے ہی ہے اور ہر قسم کی تعریف پر (اصل) تعریف لیے ہی ہے۔ اور (ایک روایت کے مطابق) ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہی ہے۔
Takhreej
(۲۳۲۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان و زیادِ بن عبد اللہ النمیری، أخرجہ أبویعلی: ۳۲۹۷، والطبرانی فی ’’الدعائ‘‘: ۸۴۹، والبیھقی فی ’’الدعوات الکبیر‘‘: ۴۱۳ (انظر: ۱۲۲۸۱)
2324
Zaeef

Chapters

12
01
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
7 Hadith
02
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
03
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
5 Hadith
04
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
12 Hadith
05
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
06
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
7 Hadith
07
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
08
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
9 Hadith
09
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
12 Hadith
10
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
14 Hadith
11
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
6 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
1 Hadith
No chapter matched that.