مسنداحمد

Musnad Ahmad

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان

۔ (۲۳۳۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ اِمْرَأَۃٌ اِلَّا وَمَعَہَا ذُومَحْرَمٍ۔)) وجَائَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: اِنِّیْ اُکْتُتِبْتُ فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا وَامْرَأَتِی حَاجَّۃٌ۔ قَالَ: ((فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۲۳۱)

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت سفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیااور اس نے کہا: فلاں فلاںغزوے میں میرا نام لکھا جا چکا ہے ، جبکہ میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ اور اس کے ساتھ حج کرو۔

۔ (۲۳۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ سَفَرَ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ فَصَاعِداً اِلَّا مَعَ أَبِیْہَا أَوْ أَخِیْہَا أَوِ ابْنِھَا أَوْ زَوْجِہَا أَوْ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۳۵)

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر نہ کرے، مگر اس صورت میں کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یابھائی یا بیٹایا خاوند یا کوئی اور محرم رشتہ دار ہو۔

۔ (۲۳۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَـلَاثاً اِلَّا وَمَعَہَا ذُو مَحْرَمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۱۵)

سیّدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دنوں کاسفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔

۔ (۲۳۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً اِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنْ أَھْلِہَا۔(وَفِی لَفْظٍ) اِلَّا مَعَ ذِی رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۸)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر کرے، مگر ذی محرم کے ساتھ۔

۔ (۲۳۴۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تُسَافِرُ لَیْلَۃً اِلَّا وَمَعَہَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَۃٍ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۸۴۷۰)

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک رات کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ ذو محرم مرد ہونا چاہیے۔

۔ (۲۳۴۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۴۵)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرع اندازی کرتے تھے۔

۔ (۲۳۴۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسِیْرُ وَحَادٍ یَحْدُو بِنِسَائِہِ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا ھُوَ قَدْ تَنَحّٰی بِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: ((یَا أَنْجَشَۃُ! وَیْحَکَ اُرْفُقْ بِالْقَوَارِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۹۱)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خواں، حدی کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں والے اونٹ چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے، تو وہ تیزی کے ساتھ چلا کر ان کو دُور لے گیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔

۔ (۲۳۴۴) عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّھَا کَانَتْ مَعَ نِسَائِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُنَّ یَسُوْقُ بِہِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْ أَنْجَشَۃُ! رُوَیْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِیْرِ)) (مسند احمد: ۲۷۶۵۷)

سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ وہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عورتوں کے ساتھ تھیںاور ان کی سواریوں کو ایک حدی خوان چلا رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اے انجشہ! آرام سے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔