سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت سفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیااور اس نے کہا: فلاں فلاںغزوے میں میرا نام لکھا جا چکا ہے ، جبکہ میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ اور اس کے ساتھ حج کرو۔
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر نہ کرے، مگر اس صورت میں کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یابھائی یا بیٹایا خاوند یا کوئی اور محرم رشتہ دار ہو۔
سیّدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دنوں کاسفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر کرے، مگر ذی محرم کے ساتھ۔
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک رات کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ ذو محرم مرد ہونا چاہیے۔
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت ایک پورے دن کی مسافت کا سفر نہ کرے، مگر ذو محرم کے ساتھ۔ v
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرع اندازی کرتے تھے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خواں، حدی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں والے اونٹ چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے، تو وہ تیزی کے ساتھ چلا کر ان کو دُور لے گیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عورتوں کے ساتھ تھیںاور ان کی سواریوں کو ایک حدی خوان چلا رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اے انجشہ! آرام سے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔