زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو نماز شروع میں فرض کی گئی، وہ مغرب کے علاوہ دو دو رکعتیں تھیں، مغرب کی تین رکعتیں تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ظہر، عصر، اور عشاء کی نمازوں کی حضر میں چار چار رکعتیں پوری کر دیں اور پہلے فرض ہونے والی ( دو دو رکعتوں) کو سفر میں مقرر کردیا۔
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراء ت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار رکعتیں، سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار اور سفر کی نماز دو رکعتیں فرض کی ہیں۔
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سفری نماز کی دو رکعتیں، نمازِ عیدالاضحی کی دو رکعتیں، نماز عید الفطر کی دو اور نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر پوری نمازیں ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
ابوحنظلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کے بار ے سوال کیا تو انہوں نے کہا: سفر کی نماز دو رکعتیں ہے۔ میں نے کہا: ہم تو اب امن میں ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
خالد بن اسید کی آل میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں قرآن مجید میں خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن ہم سفر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے، جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(دوسری سند)امیہ بن عبد اللہ کہتے ہیں : ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہاکہ ہم خوف اور حضر کی نمازیں تو قرآن میں پاتے ہیں ، لیکن ہم مسافر کی نماز کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا، جبکہ ہم سب لوگوں سے سب سے زیادہ سخت مزاج تھے، پس ہم تو اب اسی طرح کریں گے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے سفری نماز کے بارے میں پوچھتے تھے،وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیے، میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھی ہو اور ہم تو گمراہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ذریعے ہمیں ہدایت دی،سو ہم تو ان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔