مسنداحمد

Musnad Ahmad

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا

۔ (۲۳۷۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُثْمَانَ ابْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بِمِنًی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَأَنْکَرَہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی تَأَھَّلْتُ بِمَکَّۃَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَأَھَّلَ فِی بَلَدٍ فَلْیُصَلِّ صَلَاۃَ الْمُقِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۳)

عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔