مسنداحمد

Musnad Ahmad

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے

۔ (۲۵۴۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالسَّقِیْمَ وَالْکَبِیْرَ (وَفِی رِوَایَۃٍ وَالصَّغِیْرَ بَدَلَ السَّقِیْمِ) وَاِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِنَفْسِہِ فَلْیُطَوِّلْ مَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۱۱)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ہاں جب کوئی آدمی اپنی علیحدہ نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ ایک روایت میں کمزور کی بجائے چھوٹے کا لفظ ہے۔

۔ (۲۵۴۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَاِنَّ فِیْھِمُ الضَّعِیْفَ وَالشَّیْخَ الْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ ۔ (مسند احمد: ۷۶۵۴)

(دوسری سند) یہ بھی اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس بے شک ان میں کمزور، بڑی عمر والے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔

۔ (۲۵۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عُثْمَانُ! أُمَّ قَوْمَکَ، وَمَنْ أَمَّ الْقَوْمَ فَلْیُخَفِّفْ، فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ، فَاِذَا صَلَّیْتَ لِنَفْسِکَ فَصَلِّ کَیْفَ شِئْتَ)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۵)

سیّدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عثمان! اپنی قوم کی امامت کرواؤ، (لیکن یاد رکھو کہ) جو کسی قوم کی امامت کروائے اسے چاہیے کہ وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں، ہاں جب تو علیحدہ اپنی نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھ۔

۔ (۲۵۴۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ آخِرُ شَیْئٍ عَھِدَہُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ أَنْ قَالَ: ((تَجَوَّزْ فِی صَلَاتِکَ وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِہِمْ، فَاِنَّ مِنْہُمُ الصَّغِیْرَ وَالْکَبِیْرَ وَالضَّعِیْفَ وَذَا الْحَاجَۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۰۷۱)

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: آخری چیز، جس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پابند کیا، یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: (امامت کے دوران) نماز میں تخفیف کر اور لوگوں میں اس بندے کا خیال رکھ جو سب سے زیادہ کمزور ہے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑی عمر والے، کمزور اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔

۔ (۲۵۵۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ آخِرَ کَلَامٍ کَلَّمَنِی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَعْمَلَنِی عَلَی الطَّائِفِ فَقَالَ: ((خَفِّفِ الصَّلَاۃَ عَلَی النَّاسِ حَتّٰی وَقَّتَ لِی {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} وَأَشْبَاھَہَا مِنَ الْقُرْآنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۷۹)

(تیسری سند )وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ کو طائف کا عامل بنایا تو سب سے آخر میں مجھے یہ بات ارشاد فرمائی: نماز کے معاملے میں لوگوں پر تخفیف کرنا، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے سورۂ علق اور اس جیسی سورتوں کا تقرر کر دیا۔

۔ (۲۵۵۱) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی لَأَتَأَخَّرُ فِی صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَخَافَۃَ فُلَانٍ یَعْنِی اِمَامَہُمْ قَالَ: فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ غَضَبًا فِی مَوْعِظَۃٍ مِنْہُ یَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّریْنَ فَأَیُّکُمْ مَا صَلّٰی بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۲)

سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراء ت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔