سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ہاں جب کوئی آدمی اپنی علیحدہ نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ ایک روایت میں کمزور کی بجائے چھوٹے کا لفظ ہے۔
(دوسری سند) یہ بھی اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس بے شک ان میں کمزور، بڑی عمر والے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔
سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عثمان! اپنی قوم کی امامت کرواؤ، (لیکن یاد رکھو کہ) جو کسی قوم کی امامت کروائے اسے چاہیے کہ وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں، ہاں جب تو علیحدہ اپنی نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھ۔
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: آخری چیز، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پابند کیا، یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: (امامت کے دوران) نماز میں تخفیف کر اور لوگوں میں اس بندے کا خیال رکھ جو سب سے زیادہ کمزور ہے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑی عمر والے، کمزور اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
(تیسری سند )وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو طائف کا عامل بنایا تو سب سے آخر میں مجھے یہ بات ارشاد فرمائی: نماز کے معاملے میں لوگوں پر تخفیف کرنا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے سورۂ علق اور اس جیسی سورتوں کا تقرر کر دیا۔
سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراء ت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
سیّدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص ہمیں امامت کرائے تو وہ رکوع و سجود کو مکمل کیا کرے، کیونکہ ہم میں کمزور،