مسنداحمد

Musnad Ahmad

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے


۔ (۲۵۵۱) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی لَأَتَأَخَّرُ فِی صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَخَافَۃَ فُلَانٍ یَعْنِی اِمَامَہُمْ قَالَ: فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ غَضَبًا فِی مَوْعِظَۃٍ مِنْہُ یَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّریْنَ فَأَیُّکُمْ مَا صَلّٰی بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۲)

سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراء ت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۵۵۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۰، ۷۰۲، ۷۰۴، ۷۱۵۹، ومسلم: ۴۶۶ (انظر: ۱۷۰۶۵)