۔ (۲۵۶۳) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ أَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جَوَّزَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ جَوَّزْتَ؟ قَالَ: ((سَمِعْتُ بُکَائَ صَبِیٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ مَعَنَا تُصَلِّی، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ تُصَلِّی مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ)) (مسند احمد: ۱۳۷۳۶)
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔