مسنداحمد

Musnad Ahmad

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان

۔ (۲۵۵۸) عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاۃً وَأَوْجَزِہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۹)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں نماز کو سب سے زیادہ مکمل کرنے والے بھی تھے اور اس میں تخفیف کرنے والے بھی تھے۔

۔ (۲۵۵۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاۃً فِی تَمَامٍ ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۷)

(دوسری سند )سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں لوگوں میں سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن آپ کی نماز مکمل بھی ہوتی تھی۔

۔ (۲۵۶۰) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا صَلَّیْتُ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً أَخَفَّ مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِمَامِ رُکُوْعٍ وَسُجُوْدٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۳)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد (کسی ایسے شخص کے پیچھے) نماز نہیں پڑھی جو رکوع و سجود کی تکمیل کے ساتھ ساتھ زیادہ تخفیف کرنے والا ہو۔

۔ (۲۵۶۱) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنِّی لَأَدْخُلُ الصَّلَاۃَ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أُطِیْلَہَا فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ فَأَتجَاوَزُ فِی صَلَاتِی مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمِّہِ مِنْ بُکَائِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۹۰)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ میں اس کو لمبا کروں گا، لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تواس میں تخفیف کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے گی۔

۔ (۲۵۶۲) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۷۴)

سیّدنا ابی قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔

۔ (۲۵۶۳) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ أَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَوَّزَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ جَوَّزْتَ؟ قَالَ: ((سَمِعْتُ بُکَائَ صَبِیٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ مَعَنَا تُصَلِّی، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ تُصَلِّی مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ)) (مسند احمد: ۱۳۷۳۶)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔

۔ (۲۵۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ صَبِیٍّ فِی الصَّلَاۃِ فَخَفَّفَ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۹۵۷۸)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں بچے (کے رونے) کی آواز سنی، اس وجہ سے نماز کو مختصر کر دیا۔

۔ (۲۵۶۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ اِمَامًا أَشْبَہَ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِمَامِکُمْ ھٰذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ، وَھُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ یَوْمَئِذٍ، وَکَانَ عُمَرُ لَا یُطِیْلُ الْقِرَائَ ۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۲)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ پایا ہے، انھوں نے یہ بات عمر بن عبد العزیز کے حق میں کہی تھی، وہ اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور وہ لمبی قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔

۔ (۲۵۶۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِنَا الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَلَا یُطِیْلُ فِیْہَا وَلَا یُخَفِّفُ، وَسَطًا مِنْ ذٰلِکَ، وَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَتَمَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۱)

سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ تو اس کو لمبا کرتے تھے اور نہ بالکل تخفیف کرتے تھے۔ بلکہ اس کے درمیان درمیان (پڑھاتے تھے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔

۔ (۲۵۶۷) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرَأُ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ بِـ{قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} وَکَانَتْ صَلَاتُہُ بَعْدُ تَخْفِیْفًا۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۴)

سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نمازِ فجر پڑھاتے تو طلوع آفتاب تک اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز میں سورۂ ق کی تلاوت کرتے تھے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز مختصر ہوتی تھی۔

۔ (۲۵۶۹) عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أُصَلِّ خَلْفَ اِمَامٍ کَانَ أَوْجَزَ مِنْہُ صَلَاۃً فِی تَمَامِ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۰۷)

سیّدنا مالک بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بہ نسبت کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نماز میں زیادہ تخفیف کرنے والا ہو، جبکہ اس کے رکوع و سجود بھی پورے ہوں۔

۔ (۲۵۷۰) عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ یَعْنِی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِیْفِ وَاِنْ کَانَ لَیَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۱)

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز میں تخفیف کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ خود سورۂ صافات کی قراء ت کر کے ہماری امامت کراتے تھے۔

۔ (۲۵۷۱) عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تَجَوَّزَ فِیْہَا، فَقُلْتُ لَہُ: ھٰکَذَا کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ۔ (مسند احمد: ۱۰۰۹۹)

ابو خالد کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور اس میں کافی تخفیف کی، میں نے ان کو کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بھی اسی طرح ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی۔

۔ (۲۵۷۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی ھُرَیْرَۃَ: أَھَکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی لَکُمْ؟ قَالَ: وَمَا أَنْکَرْتَ مِنْ صَلَاتِی؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ ذٰلِکَ، قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ، قَالَ: وَکَانَ قِیَامُہُ قَدْرَ مَا یَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَۃِ وَیَصِلُ اِلَی الصَّفِّ۔ (مسند احمد: ۸۴۱۰)

(دوسری سند) ان کا باپ کہتا ہے: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم لوگوں کو اس طرح نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تو میری نماز میں سے کس چیز کا انکار کیا ہے؟ میں نے کہا:میں آپ سے اِس (تخفیف) کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی، (یوں سمجھیں کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ جتنا مؤذن کو مینار سے اتر کر صف میں ملنے کا وقت لگتا ہے۔

۔ (۲۵۷۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنْ أَبَا ھُرَیْرَۃَ کَانَ یُصَلِّی بِہِمْ بِالْمَدِیْنَۃِ نَحْوًا مِنْ صَلَاۃِ قَیْسٍ وَکَانَ قَیْسٌ لَا یُطَوِّلُ، قَالَ: قُلْتُ: ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزُ۔ (مسند احمد: ۹۶۳۵)

(تیسری سند )اس کا باپ ابو خالد کہتا ہے: بے شک سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتے، جیسے قیس پڑھاتا تھا، جبکہ یہ قیس نماز کو لمبا نہیں کرتا تھا، تو میں پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے؟ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، بلکہ آپ کی نماز اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی۔

۔ (۲۵۷۴) عَنْ حَیَّانَ (یَعْنِی الْبَارِقِیَّ) قَالَ: قِیْلَ لِاِبْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اِنَّ اِمَامَنَا یُطِیْلُ الصَّلَاۃَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَکْعَتَانِ مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَفُّ أَوْ مِثْلُ رَکْعَۃٍ مِنْ صَلَاۃِ ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۵۰۴۴)

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے کہا: ہمارا امام تو لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی دو رکعتیں اس امام کی ایک رکعت کے برابر یا اِس سے بھی ہلکی ہوتی تھیں۔