مسنداحمد

Musnad Ahmad

مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب

مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو

۔ (۲۶۰۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حُجْرَتِی وَالنَّاسُ یَأْتَمُّوْنَ بِہِ مِنْ وَرَائِ الْحُجْرَۃِ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔

۔ (۲۶۰۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِی حُجْرَتِہِ فَجَائَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہٖ فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَیْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا کُلُّ ذٰلِکَ یُصَلِّی، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِی صَلَاتِکَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ بِمَکَانِکُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۲۸)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات حجرے میں نماز پڑھی، کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں تخفیف کردی اور پھر گھر میں داخل ہو گئے، (وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طویل نمازپڑھی) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے (اور ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کئی مرتبہ لوٹے، ہر دفعہ نماز پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز پڑھی تھی اور ہم یہ پسند کر رہے تھے کہ آپ نماز کو لمبا کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق میں تمہارے مکان ((اور تمہاری اس حالت)) کو جان گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر یہ کام کیا تھا۔