TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب - مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب - Book 48 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 48 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 20 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

20 Hadith · 6 Chapters
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۵۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ثَنَا ھِشَامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ یُوْنُسَ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الرَّقَاشِیِّ أَنَّ الْأَشْعَرِیَّ صَلّٰی بِأَصْحَابِہٖ صَلَاۃً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ حِیْنَ جَلَسَ أُقِرَّتِ الصَّلَاۃُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاۃِ، فَلَمَّا قَضَی الْأَشْعَرِیُّ صَلَاتَہُ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَیُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَۃَ کَذَا وَکَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، (قَالَ أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ أَبِی: أَرَمَّ السُّکُوْتُ) قَالَ: لَعَلَّکَ یَا حِطَّانُ قُلْتَہَا، لِحِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنْ قُلْتُہَا، وَلَقَدْ رَھِبْتُ أَنْ تَبْعَکَنِی بِھَا، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُہَا وَمَا أَرَدْتُّ بِہَا اِلَّا الْخَیْرَ، فَقَالَ الْأَشْعَرِیُّ: أَلَا تَعْلَمُوْنَ مَا تَقُوْلُوْنَ فِی صَلَاتِکُمْ؟ فَاِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَیَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: ((أَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَقْرَؤُکُمْ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَاِذَا قَالَ {وَلَاالضَّالِّیْنَ} فَقُوْلُوْا آمِیْنَ یُجِبْکُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِذَا کَبَّرَ الْاِمَامُ وَرَکَعَ فَکَبِّرُوا وَارْکَعُوْا، فَاِنَّ الْاِمَامَ یَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْْ۔)) قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَتِلْکَ بِتِلْکَ، فَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ یَسْمَعِ اللّٰہُ لَکُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ اللّٰہَ لِمَنْ حَمِدَہُ، وَاِذَا کَبَّرَ الْاِمَامُ وَسَجَدَ فَکَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَاِنَّ الْاِمَامَ یَسْجُدُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ۔)) قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَتِلْکَ بِتِلْکَ، فَاِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوْلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ أَنْ یَقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۹۹)
حطان بن عبد اللہ رقاشی کہتے ہیں: سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کو ایک نماز پڑھائی، جماعت میں سے ایک آدمی نے بیٹھتے وقت کہا: نماز کو نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، جب سیّدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز مکمل کی تو لوگوں پرمتوجہ ہوئے اور کہا: فلاں فلاں بات کس نے کہی ہے؟ لوگ خاموش رہے۔ (ابوعبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا اَرَمَّ کے معانی خاموشی کے ہیں۔) تو انھوں نے حطان بن عبد اللہ سے کہا: اے حطان! شاید تو نے ہی یہ بات کہی ہو؟ انھوں نے جواباً کہا:اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی، ہاں مجھے یہ ڈر ضرور تھاکہ آپ مجھے ڈانٹیں گے۔ اتنے میں ایک آدمی نے کہا: میں نے یہ کلمہ کہا تھا اور میرا ارادہ تو خیر وبھلائی کا ہی تھا۔سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تمہیں علم نہیں کہ تم اپنی نماز میں کیا کہتے رہتے ہو، بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جس میں ہمارے دین کے معاملات کی تعلیم دی اور نماز کا طریقہ واضح کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کیا کرو، جسے زیادہ قرآن مجید یاد ہو، وہ امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اورجب وہ {وَلَاالضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے، پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو،پس بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھاتا ہے، یہ (امام کا پہلے جانا) تمہارا (تاخیر سے اٹھنے کے) بدلے ہے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو، اللہ تمہاری بات سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فرمایا ہے اور جب امام تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم تکبیر کہہ کر سجدہ کرو، پس بے شک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ (اُس کا پہلے جانا) تمہارے اس (تاخیر سے اٹھنے) کے بدلے میں ہے۔ جب نمازی قعدہ میں ہو تو وہ سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، … اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ (تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں صرف اللہ کے لیے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں)۔
Takhreej
(۲۵۹۵) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا مسلم: ۴۰۴ (انظر: ۱۹۶۶۵)
2595
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۵۹۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَـلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَیْہِ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبَّرُوا، وَلَا تُکَبِّرُوا حَتّٰی یُکَبِّرَ، فَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَلَا تَرْکَعُوا حَتّٰی یَرْکَعَ، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمُدُ، وَفِی أُخْرٰی: رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) وَاِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتّٰی یَسْجُدَ، وَاِنْ صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوْسًٰا أَجْمَعُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۸۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے تم اس پر اختلاف نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہہ لے تو تم تکبیر کہو اور تم اس وقت تک تکبیر نہ کہو جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے، اسی طرح جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہ کرے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو، ایک روایت میں اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور ایک میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ہے، جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
Takhreej
(۲۵۹۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۳۴، مسلم: ۴۱۵، ۴۱۷ (انظر: ۷۱۴۴، ۸۵۰۲)
2596
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۵۹۷) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ لَمْ یَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَہْرَہُ حَتّٰی یَسْجُدَ ثُمَّ نَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱۷)
سیّدنا برا بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، تو اس وقت تک ہم میں سے کوئی بھی سجدے کے لیے اپنی کمر کو ٹیڑھا نہ کرتا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے، پھر ہم سجدہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۵۹۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۱، ۷۴۷، ومسلم: ۴۷۴ (انظر: ۱۸۵۱۱، ۱۸۷۱۰)
2597
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۵۹۸) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ صَلّٰی رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یَرْکَعُ قَبْلَ أَنْ یَرْکَعَ، وَیَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ یَرْفَعَ،فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ قَالَ: ((مَنْ فَعَلَ ھٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَالِکَ أَمْ لَا۔ فَقَالَ: ((اِتَّقُوْا خِدَاجَ الصَّلَاۃِ اِذَا رَکَعَ الْاِمَامُ فَارْکَعُوْا وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے رکوع کر دیتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے اٹھ جاتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: اس طرح کرنے والا کون تھا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تھا، میں یہ جاننا پسند کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کے نقصان سے بچا کرو،جب امام رکوع کرے تو تب رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تب تم سر اٹھایا کرو۔
Takhreej
(۲۵۹۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ایوب بن جابر الحنفی الیمامی، وعبد اللہ بن عصمہ (او عُصْم) الحنفی ممن لایحتمل تفردہ، ومتابعۃ الامام فی الصلاۃ لھا شواھد أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۵۱۳(انظر: ۱۱۳۸۷)
2598
Zaeef
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۵۹۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ فَأَقْبَلَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنِّیْ اِمَامُکُمْ، فَـلَا تَسْبِقُوْنِی بِالرُّکُوْعِ وَلَا بِالسُّجُوْدِ وَلَا بِالْقِیَامِ وَلَا بِالْقُعُوْدِ وَلَابِالْاِنْصِرَافِ فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ أَمَامِی وَمِنْ خَلْفِی، وَاَیْمُ الَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَوْ رَأَیْتُمْ مَا رَأَیْتُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْتَ؟ قَالَ: ((رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ۔)) زَادَ فِی رِوَایَۃٍ وَحَضَّہُمْ عَلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۲۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! بے شک میں تمہارا امام ہوں، اس لیے رکوع و سجود ، قیام و قعود اور سلام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، میں تم کو اپنے آگے سے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تم ہنسنا تھوڑا کر دو اور رونا زیادہ کر دو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نماز پڑھنے پر ابھارا۔
Takhreej
(۲۵۹۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۲۶ (انظر: ۱۱۹۹۷)
2599
Zaeef
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۶۰۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا یَخَافُ الَّذِی یَرْفَعُ رَأْسَہُ وَالْاِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ یُحَوِّلَ اللّٰہُ رَأْسَہُ رَأْسَ حِمَارٍ۔)) (مسند احمد: ۷۵۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا جو شخص اپنا سر اٹھا لیتا ہے، جبکہ امام سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے۔
Takhreej
(۲۶۰۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۹۱، مسلم: ۴۲۶، ۴۲۷ (انظر: ۷۵۳۴، ۹۸۸۴)
2600
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۶۰۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَأْمَنُ الَّذِی یَرْفَعُ رَأْسَہُ قَبْلَ الْاِمَامِ وَھُوَ مَعَ الْاِمَامَ أَنْ یُحَوِّلَ اللّٰہُ صُوْرَتَہُ صُوْرَۃَ حِمَارٍ)) (مسند احمد: ۷۵۲۶)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ، لیکن اس سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے، کیا وہ اس بات سے بے خوف ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت کو گدھے کی صورت میں تبدیل کردے۔
Takhreej
(۲۶۰۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2601
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۶۰۲) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَادِرُوْنِیْ بِرُکُوعِ وَلَا بِسُجُوْدٍ فَاِنَّہُ مَہْمَا أَسْبِقُکُمْ بِہِ اِذَا رَکَعْتُ، تُدْرِکُوْنِی اِذَا رَفَعْتُ، وَمَہْمَا أَسْبِقُکُمْ بِہِ اِذَا سَجَدْتُّ، تُدْرِکُوْنِیْ اِذَا رَفَعْتُ، اِنِّی قَدْ بَدَّنْتُ)) (مسند احمد: ۱۶۹۶۳)
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رکوع و سجود میں مجھ سے آگے نہ بڑھو، اگر میں رکوع کرتے وقت تم سے آگے بڑھتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا، اسی طرح اگر میں سجدہ میں تم سے آگے بڑھ جاتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا،بیشک اب میں بڑی عمر والا ہو گیا ہوں۔
Takhreej
(۲۶۰۲) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۶۱۹، وابن ماجہ: ۹۶۳ (انظر: ۱۶۸۳۸)
2602
Sahih
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۶۰۳) عَنْ أَبِی اِسْحَاقَ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّ یَخْطُبُ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرَائُ (بْنُ عَازِبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ غَیْرُ کَذُوْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَامُوا قِیَامًا حَتّٰی یَسْجُدَ ثُمَّ یَسْجُدُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰۵)
عبداللہ بن یزید انصاری نے اپنے خطبے میں کہا: سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خبر دی اور وہ جھوٹے نہیں ہیں (یعنی سچے ہیں) کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ (سب صحابہ) کھڑے رہتے، یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے، پھر وہ سجدہ میں جاتے ۔
Takhreej
(۲۶۰۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۱، ۷۴۷، ومسلم: ۴۷۴ (انظر: ۱۸۵۱۱)
Explanation
فوائد: ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ امام کی متابعت کرنا فرض ہے اور کسی رکن کی ادائیگی میں سے اس سے آگے بڑھنا ناجائز ہے۔
2603
Sahih
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
۔ (۲۶۰۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ ثُمَّ یَأْتِیْ قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۹۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کو عشاء پڑھاتے تھے۔
Takhreej
(۲۶۰۴) تخریـج: …أخرجہ مطولا البخاری: ۷۰۵ (انظر: ۱۴۱۹۰، ۱۴۲۴۱)
Explanation
فوائد: … سیّدنا معاذ bنبی کریم aکی اقتداء میں نمازِ عشاء ادا کرتے، پھر وہ جا کر اپنی قوم کو یہی نماز پڑھاتے تھے۔ اس حدیث سے لازمی طور پر یہ ثابت ہوا کہ نفلی نماز ادا کرنے والے امام کی اقتداء میں فرضی نماز ادا کی جا سکتی ہے، یعنی ایسی صورتوں میں امام اور مقتدی کی نیتوں میں فرق آ سکتا ہے، دوسری احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مفترض کی اقتداء میں متنفل کا نماز پڑھنا بھی درست ہے۔ اسی طرح مسافر اور مقیم بھی ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، مقیم کی اقتداء میں مسافر پوری نماز پڑھے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۱۳) اور( ۱۲۱۷) میں وضاحت ہو
2604
Sahih
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
۔ (۲۶۰۵) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ مَعَہُ (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ: ((صَلُّوْا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۱۹)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں فتح مکہ کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں اٹھارہ دن قیام کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِس موقع پر دو رکعت (یعنی قصر نماز) ہی ادا کرتے رہے، اور آپ شہر والوں (مقیم لوگوں) کو فرماتے تھے: تم چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔
Takhreej
(۲۶۰۵) تخریـج: …صحیح لغیرہ دون قولہ: ((صلوا اربعا فانا سفْر))، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان أخرجہ ابوداود: ۱۲۲۹ (انظر: ۱۹۸۷۸)
2605
Sahih
وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۶۰۶) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: اِحْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسلْتُ أَنْ أَھْلِکَ فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِی صَلَاۃَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: یَا عَمْرُو! صَلَّیْتَ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ احْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَھْلِکَ وَذَکَرْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا} فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۵)
سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ذات السلاسل والے سال بھیجا تو سخت سردی والی رات کو مجھے احتلام ہو گیا،مجھے یہ خطرہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کیااور اپنے ساتھیوں کو نمازِ فجر پڑھائی۔ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تو نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے احتلام ہو گیا تھا اور سخت سردی والی رات تھی، مجھے یہ ڈر ہونے لگے کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد آ رہا تھا: اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہمیشہ سے بہت رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھا دی، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور کچھ نہ کہا:
Takhreej
(۲۶۰۶) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد فیہ عبد اللہ بن لھیعۃ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴ (انظر: ۱۷۸۱۲)
2606
Sahih
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
۔ (۲۶۰۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حُجْرَتِی وَالنَّاسُ یَأْتَمُّوْنَ بِہِ مِنْ وَرَائِ الْحُجْرَۃِ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔
Takhreej
(۲۶۰۷) تخریـج: …أخرج بنحوہ البخاری: ۷۲۹، ۵۸۶۱، ومسلم: ۷۸۲ (انظر: ۲۴۰۱۶، ۲۴۱۲۴)
2607
Sahih
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
۔ (۲۶۰۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِی حُجْرَتِہِ فَجَائَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہٖ فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَیْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا کُلُّ ذٰلِکَ یُصَلِّی، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِی صَلَاتِکَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ بِمَکَانِکُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۲۸)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات حجرے میں نماز پڑھی، کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں تخفیف کردی اور پھر گھر میں داخل ہو گئے، (وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طویل نمازپڑھی) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے (اور ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کئی مرتبہ لوٹے، ہر دفعہ نماز پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز پڑھی تھی اور ہم یہ پسند کر رہے تھے کہ آپ نماز کو لمبا کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق میں تمہارے مکان ((اور تمہاری اس حالت)) کو جان گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر یہ کام کیا تھا۔
Takhreej
(۲۶۰۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ البزار: ۷۳۱، وابویعلی: ۳۷۵۵، وابن خزیمۃ: ۱۶۲۷(انظر: ۱۲۰۰۵)
2608
Sahih
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
۔ (۲۶۰۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا ھٰؤُلَائِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ؟)) قَالُوْا: بَلٰی نَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللّٰہَ أَنْزَلَ فِی کِتَابِہِ: مَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ؟)) قَالُوْا: بَلَی نَشْہَدُ أَنَّہُ مَنْ أَطَاعَکَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَاِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ طَاعَتَکَ، قَالَ: ((فَاِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ أَنْ تُطِیْعُوْنِیْ، وَاِنَّ مِنْ طَاعَتِی أَنْ تُطِیْعُوْا أَئِمَّتَکُمْ، أَطِیْعُوْا أَئِمَّتَکُمْ، فَاِنْ صَلَّوْا قُعُوْدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۷۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگو!کیا تم جانتے نہیں کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی اطاعت سے ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت سے ہے کہ تم اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔
Takhreej
(۲۶۰۹) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۴۵۰، وابن حبان: ۲۱۰۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۳۲۳۸ (انظر: ۵۶۷۹)
2609
Sahih
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
۔ (۲۶۱۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا فَأَشَارَ اِلَیْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہٖ قُعُوْدًا، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنْ کِدْتُّمْ آنِفًا تَفْعَلُوْنَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ یَقُوْمُوْنَ عَلٰی مُلُوْکِہِمْ وَھُمْ قُعُوْدٌ فَـلَا تَفْعَلُوْا وَائْتَمُّوْا بِأَئِمَّتِکُمْ، اِنْ صَلّٰی قَائِمًا فَصَلَّوا قِیَامًا وَاِنَّ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُوْدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔
Takhreej
(۲۶۱۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۱۳ (انظر: ۱۴۵۹۰)
2610
Sahih
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
۔ (۲۶۱۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرْضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: اِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیْفٌ، فَمَتٰی یَقُوْمُ مَقَامَکَ تُدْرِکُہُ الرِّقَّۃُ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ، مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَصَلّٰی أَبُوْبَکْرٍ وَصَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسفf کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۱۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۳۳۸۴، ومسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۴۰۶۱، ۲۵۲۵۸)
Explanation
فوائد: …سیدہ عائشہcکا یہ مشورہ دینے کا اور آپaکا ’’صَوَاحِبَاتُ یُوْسُف‘‘ کہنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ تفصیل حدیث نمبر(۱۲۷۲) میں دیکھیں۔
2611
Sahih
فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۶۱۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْہُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُمَا، صَلَاۃُ الْاِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِیَّتِہِ، وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رَکْعَۃً مِنْ صَلَاۃٍ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجُلِ عَلٰی خُفَّیْہِ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۰)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۲۶۱۲) تخریـج: …حدیث صحیح ولہ طرق کثیرۃ، وھذا اسناد فیہ ضعف وانقطاع أخرجہ مسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۳۴، ۱۸۱۵۷، ۱۸۱۷۲)
2612
Sahih
فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۶۱۳) وَعَنْہُ أَیْضًا وَقَدْ سُئِلَ ھَلْ أَمَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ قَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرٍ وَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا فِیْہِ صِفَۃُ وُضُوْئِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْہِ: قَالَ: ثُمَّ لِحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَھَبْتُ لِأُوْذِنَہُ فَنَھَانِی فَصَلَّیْنَا الَّتِی أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الَّتِی سُبِقْنَا بِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۷)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، …پھر لمبی حدیث بیان کی…، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔
Takhreej
(۲۶۱۳) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۴۳۱ (انظر: ۱۸۱۶۴)
2613
Sahih
فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۶۱۴) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَتِہِ فَأَدْرَکَہُمْ وَقْتُ الصَّلَاۃٍ فَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ فَتَقَدَّمَہُمْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ خَلْفَہُ رَکْعَۃً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۵)
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔
Takhreej
(۲۶۱۴) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، رشدین بن سعد ضعفہ احمد وابن معین وابوداود والنسائی، وابن سعد، وابوسلمۃ لم یسمع من ابیہ أخرجہ الطیالسی: ۲۲۳، والبزار: ۱۰۱۴، وابویعلی: ۸۵۳ (انظر: ۱۶۶۵)
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے ثابت ہونے والا مسئلہ تو واضح ہے کہ امام اپنی رعایا میں سے کسی فرد کی اور فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہم ’’بَابُ مَا یُفْعَلُ اِذَا لَمْ یَحْضُرْ اِمَامُ الْحَیِّ‘‘ (قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے، اس کا بیان) میں درج بالا حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر مقرر امام وقت پر نہ پہنچے اور بظاہر اس کے پہنچنے کے آثار نظر نہ آ رہے ہوں تو کوئی اور آدمی نماز پڑھا سکتا ہے۔ عام طورپرصحابہ کرام نما ز کا وقت ہو جانے پر نبی کریمaکا انتظار کرتے تھے، لیکن اس موقع پر انتظار نہ کرنے کی یہ وجہ نظر آ رہی ہے کہ آپa قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے اور آپa کے واپس آنے میں دیر ہو گئی، صحابہ نے سفر کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ انتظار کرنا مناسبت نہ سمجھا اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف b نے نماز پڑھا دی، آپa نے آ کر اس کام کی تائید فرمائی اور ایسی صورت میں رعایا میں سے کوئی نماز پڑھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
2614
Sahih