سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، …پھر لمبی حدیث بیان کی…، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔