مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان

۔ (۳۲۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلَی زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ (ؓ) فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ قَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: لقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وسَمِعْتَ حَدِیْثَہَ وَغَزَوْتَ مَعَہُ وَصَلَّیْتَ مَعَہُ، لقَدْ رَأَیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، حَدِّثْنَا یَا زَیْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! وَاللّٰہِ! لقَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ وَقَدُمَ عَہْدِیْ وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ أَعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَـلَا تُکَلِّفُوْنِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا خَطِیْبًا فِیْنَا بِمَائٍ یُدْعٰی خُمًّا، یَعْنِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! أَ لَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِیَنِیْ رَسُوْلُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَأُجِیْبَ، وَاِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ، أَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فِیْہِ الْہُدٰی وَالنُّوْرُ، فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ۔)) فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ، قَالَ: ((وَأَھْلُ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ۔)) فَقَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: وَمَنْ أَھْلُ بَیْتِہِ یَا زَیْدُ؟ أَلَیْسَ نِسَائُ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ؟ قَالَ: اِنَّ نِسَائَ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ وَلَکِنَّ أَھْلَ بَیْتِہِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہُ، قَالَ: وَمَنْ ہُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِیٍّ وَ آلُ جَعَفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَکُلُّ ہٰؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۷۹)

یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔

۔ (۳۲۴)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّـلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ أُمَّتَکَ مُخْتَلِفَۃٌ بَعْدَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَیْنَ الْمَخْرَجُ یَا جِبْرِیْلُ! قَالَ: فَقَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی، بِہِ یَقْصِمُ اللّٰہُ کُلَّ جَبَّارٍ، مَنِ اعْتَصَمَ بِہِ نَجَا، وَمَنْ تَرَکَہُ ہَلَکَ مَرَّتَیْنِ، قَوْلُہُ فَصْلٌ وَلَیْسَ بِالْہَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُہُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنٰی أَعَاجِیْبُہُ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَفَصْلُ مَا بَیْنَکُمْ وَخَبْرُ مَا ہُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۴)

سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرنے والی ہے، میں نے کہا: اے جبریل! اس سے نکلنے کی راہ کیا ہو گی؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کو تباہ کرے گا، جس نے اس کو تھام لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا، یہ بات دو دفعہ کہی، اس کی بات صحیح اور قطعی ہے اور مذاق نہیں ہے، اس کو زبانیں نہیں گھڑ سکتیں، اس کے عجائب ختم نہیں ہو سکتے، اس میں تمہارے اندر (کے نزاعات کا) فیصلہ ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے، اس کی اس میں خبریں ہیں۔

۔ (۳۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السُّنَنَ، ثُمَّ قَالَ: اِتَّبِعُوْنَا فَوَاللّٰہِ! اِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا تَضِلُّوْا۔ (مسند أحمد: ۲۰۲۴۰)

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قرآن مجید نازل ہوا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مختلف طریقے جاری کیے، پھر انھوں نے کہا: پس تم ہم صحابہ کی پیروی کرو، اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔

۔ (۳۲۶)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَّ خَطًّا ہٰکَذَا أَمَامَہُ فَقَالَ: ((ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) وَخَطَّیْنِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَخَطَّیْنِ عَنْ شِمَالِہِ، قَالَ: ((ہٰذِہِ سَبِیْلُ الشَّیْطَانِ۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَأَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمَا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ، ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۵۳۵۱)

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے سامنے والی سمت میں ایک (سیدھا) خط لگایا اور فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو لکیریں دائیں طرف اور دو لکیریں بائیں طرف لگائیں اور فرمایا: یہ شیطان کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے درمیان والے (سیدھے) خط پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت کی: اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (الانعام: ۱۵۳)

۔ (۳۲۷)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقّّ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۶۵)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہمیشہ ایک جماعت اس دین پر حق کے ساتھ قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی حق پر برقرار ہوں گے۔