TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب - کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب - Book 5 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 5 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 6 Chapters
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلَی زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ (ؓ) فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ قَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: لقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وسَمِعْتَ حَدِیْثَہَ وَغَزَوْتَ مَعَہُ وَصَلَّیْتَ مَعَہُ، لقَدْ رَأَیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، حَدِّثْنَا یَا زَیْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! وَاللّٰہِ! لقَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ وَقَدُمَ عَہْدِیْ وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ أَعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَـلَا تُکَلِّفُوْنِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا خَطِیْبًا فِیْنَا بِمَائٍ یُدْعٰی خُمًّا، یَعْنِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! أَ لَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِیَنِیْ رَسُوْلُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَأُجِیْبَ، وَاِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ، أَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فِیْہِ الْہُدٰی وَالنُّوْرُ، فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ۔)) فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ، قَالَ: ((وَأَھْلُ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ۔)) فَقَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: وَمَنْ أَھْلُ بَیْتِہِ یَا زَیْدُ؟ أَلَیْسَ نِسَائُ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ؟ قَالَ: اِنَّ نِسَائَ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ وَلَکِنَّ أَھْلَ بَیْتِہِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہُ، قَالَ: وَمَنْ ہُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِیٍّ وَ آلُ جَعَفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَکُلُّ ہٰؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۷۹)
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۰۸(انظر: ۱۹۲۶۵)
Explanation
فوائد: … ثَقَل کے معانی بیش قیمت نفیس چیز اور سامان کے ہیں، قرآن مجید اور اہل بیت کی شان و عظمت یا اس نصیحت کے مطابق کیے جانے والے عمل کے بھاری ہونے کی وجہ سے ان دو چیزوں کو ثَقَلَیْن کہا گیا ہے۔ امہات المؤمنین اس اعتبار سے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آل ہیں کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ رہتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کے کفیل ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، نیز ان کے احترام و اکرام اور حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنے کا خاص حکم دیا گیا ہے، لیکن یہ اس آل میں داخل نہیں ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔
322
Sahih
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔
Takhreej
(۳۲۳) تخریج: حدیث صحیح بشواہدہ دون قولہ: فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض وھذا اسناد ضعیف، عطیہ بن سعد العوفی ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۵۰۶، وابو یعلی: ۱۰۲۷ (انظر: ۱۱۱۰۴)
323
Sahih
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۴)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّـلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ أُمَّتَکَ مُخْتَلِفَۃٌ بَعْدَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَیْنَ الْمَخْرَجُ یَا جِبْرِیْلُ! قَالَ: فَقَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی، بِہِ یَقْصِمُ اللّٰہُ کُلَّ جَبَّارٍ، مَنِ اعْتَصَمَ بِہِ نَجَا، وَمَنْ تَرَکَہُ ہَلَکَ مَرَّتَیْنِ، قَوْلُہُ فَصْلٌ وَلَیْسَ بِالْہَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُہُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنٰی أَعَاجِیْبُہُ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَفَصْلُ مَا بَیْنَکُمْ وَخَبْرُ مَا ہُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۴)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرنے والی ہے، میں نے کہا: اے جبریل! اس سے نکلنے کی راہ کیا ہو گی؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کو تباہ کرے گا، جس نے اس کو تھام لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا، یہ بات دو دفعہ کہی، اس کی بات صحیح اور قطعی ہے اور مذاق نہیں ہے، اس کو زبانیں نہیں گھڑ سکتیں، اس کے عجائب ختم نہیں ہو سکتے، اس میں تمہارے اندر (کے نزاعات کا) فیصلہ ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے، اس کی اس میں خبریں ہیں۔
Takhreej
(۳۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث بن عبد اللہ الاعور، ثم ھو منقطع، لانہ لا تعرف لمحمد بن اسحاق روایۃ عن محمد بن کعب القرظی، بل ھو یروی فی السیرۃ عنہ بواسطۃ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۰۶(انظر: ۷۰۴)
324
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السُّنَنَ، ثُمَّ قَالَ: اِتَّبِعُوْنَا فَوَاللّٰہِ! اِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا تَضِلُّوْا۔ (مسند أحمد: ۲۰۲۴۰)
سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قرآن مجید نازل ہوا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مختلف طریقے جاری کیے، پھر انھوں نے کہا: پس تم ہم صحابہ کی پیروی کرو، اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔
Takhreej
(۳۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤمل بن اسماعیل سییء الحفظ، وعلی بن زید بن جدعان ضعیف، والحسن البصری لم یسمع من عمران (انظر: ۱۹۹۹۸)
Explanation
فوائد: …سیدنا عمران ؓکا مقصود یہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن مجید کی منازل اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنتوں کو جاننے والے اور اِن کا مشاہدہ کرنے والے تھے، اس لیے اس سلسلے میں ان کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
325
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۶)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَّ خَطًّا ہٰکَذَا أَمَامَہُ فَقَالَ: ((ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) وَخَطَّیْنِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَخَطَّیْنِ عَنْ شِمَالِہِ، قَالَ: ((ہٰذِہِ سَبِیْلُ الشَّیْطَانِ۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَأَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمَا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ، ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۵۳۵۱)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے سامنے والی سمت میں ایک (سیدھا) خط لگایا اور فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو لکیریں دائیں طرف اور دو لکیریں بائیں طرف لگائیں اور فرمایا: یہ شیطان کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے درمیان والے (سیدھے) خط پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت کی: اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (الانعام: ۱۵۳)
Takhreej
(۳۲۶) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱(انظر: ۱۵۲۷۷)
326
Sahih
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
۔ (۳۲۷)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقّّ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۶۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہمیشہ ایک جماعت اس دین پر حق کے ساتھ قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی حق پر برقرار ہوں گے۔
Takhreej
(۳۲۷) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن حبان: ۶۸۳۵، والبزار: ۳۳۲۰(انظر: ۸۴۸۴)
Explanation
فوائد: …ان احادیث میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ لوگ قرآن مجید کی پیروی کریں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آل کے حقوق ادا کریں اور ان کے صالح طرزِ حیات اور ان کے اہل علم کی مسنون سیرت کی پیروی کریں۔
327
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۲۸)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْروٍ السُّلَمِیُّ وَحُجْرُبْنُ حُجْرٍ الْکَلَاعِیُّ قَالَ: أَتَیْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ (ؓ) وَھُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِیْہِ: {وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ} فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَیْنَاکَ زَائِرِیْنَ وَ عَائِدِیْنَ وَمُقْتَبِسِیْنَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ أقَبْلَ عَلَیْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کأَنَّ ہٰذِہِ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا؟ فَقَالَ: ((أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ حَبَشِیًّا، فَاِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ، فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۵)
عبد الرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی کہتے ہے: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۲) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ہم آپ کی زیارت اور تیماری داری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں، سیدنا عرباض ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک دن ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا مؤثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا،وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اِس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
Takhreej
(۳۲۸) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۰۷، وابن ماجہ: ۴۴(انظر: ۱۷۱۴۵)
328
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وفِیْہِ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ہٰذِہِ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا، قَالَ: ((قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لَا یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ اِلَّا ہَالِکٌ وَمَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ، (وَفِیْہِ أَیْضًا) عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ فَاِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَیْثُمَا انْقِیْدَ انْقَادَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۲)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی و عظ ونصیحت ہے، پس آپ ہمیںکیا نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا، اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مؤمن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ اُدھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتاہے۔
Takhreej
(۳۲۹) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۷۱۴۲)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کی پیروی کرنے کا معاملہ تو واضح ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہی معیارِ حق اور نمونۂ اتباع ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ارشادات بنفس نفیس حجت ہیں، لیکن بعض لوگوں نے ان احادیث کی روشنی میں خلفائے راشدین کی سنت کو مستقل طور پر حجت ِ شرعی قرار دیا ہے، ان لوگوں کی یہ رائے درست نہیں ہے، وجوہات درج ذیل ہیں: (۱) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت ایک ہی چیز کا نام ہے، اس سے مراد سنت ِ نبوی ہی ہے، چونکہ خلفائے راشدین کی خلافت کا مقصد ہی کتاب و سنت کا نفاذ ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ساتھ ان کا ذکر بھی کیا ہے، کیا آپ لوگ غور نہیں کرتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کا ذکر کرنے کے بعد ان کی طرف واحد کی ضمیر لوٹائی اور فرمایا کہ فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو دفعہ واحد مؤنث کی ضمیر ھَا استعمال کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سے پیچھے ایک چیز کا ذکر ہوا ہے، نہ کہ دو کا، اگر خلفائے راشدین کی سنت الگ سے مراد لی جاتی تو بَعْدَھُمَا کہا جاتا۔(۲) عملی طور پر کوئی فرقہ یا شخص خلفائے راشدین کے تمام فیصلوں کو حجت نہیں مانتا، خود مقلدین کے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انھوں نے اپنے اماموں کی آراء اور فتاوی کو خلفائے راشدین کی آراء پر ترجیح دی۔ (۳)نہ صرف مذکورہ بالا احادیث میں، بلکہ قرآن وحدیث کی کئی نصوص میں امراء و خلفاء کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل قوانین بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہی متعارف کروائے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِیْمَا اَحَبَّ اَوْ کَرِہَ اِلَّا اَنْ یُّؤْمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِنْ اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ۔)) … مسلمان آدمی پر (خلیفہ کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، خواہ وہ اسے پسند کرتا ہو یا ناپسند کرتا ہو، الا کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو کوئی سننا اور ااطاعت کرنا نہیں۔ (صحیح بخاری: ۷۱۴۲) سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَاطَاعَۃَ فِیْ الْمَعْصِیَۃِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ۔)) … نافرمانی میں (امیر کی) اطاعت نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف نیکی کے کاموں میں ہی اطاعت کی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)لہٰذا خلفائے راشدین اور امراء کی وہ ہدایات واجب الاتباع ہوں گی، جو قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہوں گی۔ (۴)سب خلفائے راشدین نے قرآن و سنت کا پابند رہنے کا اقرار کیا اور زیادہ تر یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ فلاں فلاں مسئلے پر اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ پیش کرے۔ (۵)خلفائے راشدین کی چند ایک مثالیں، جن سے مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکر ؓنے جب منکرینِ زکوۃ سے قتال کرنا چاہا تو سیدنا عمر ؓنے اُن سے خوب مناقشہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے قتال کرنا درست نہیں، بالآخر خلیفۂ اول کے دلائل غالب آ گئے اور سیدنا عمر ؓنے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔ سیدنا ابو بکر ؓنے دو دفعہ چوری کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ اس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور ایک ٹانگ، تاکہ ایک ہاتھ سالم رہ سکے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر اس کے دونوں ہاتھ کاٹنا سنت ہیں، تو خلیفۂ اول نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور سنت کو ترجیح دی۔سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓحج تمتع سے منع کرتے تھے، لیکن اس معاملے میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور دیگر صحابہ نے ان دونوں خلفاء کی پیروی نہیں کی، اور عصر حاضر میں تقریباً تمام غیر ملکی حج تمتع ہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓنے ایک دفعہ یہ فیصلہ کر دیا کہ مقتول کی دیت سے بیوی کو میراث نہیں ملے گی، لیکن جب ایک صحابی نے ایک حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ اس موقع پر بیوی کو میراث ملے گی، تو خلیفۂ ثانی نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ جب سیدنا عمر ؓنے عورتوں کے حق مہر کی ایک مقدار مقرر کرنا چاہی، تو ایک بڑھیا نے ایک آیت پڑھ کر ان سے مناقشہ کیا، سیدنا عمر ؓنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ جب سیدنا علی ؓنے مرتدین کو قتل کرنے کی بجائے جلایا، تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے سنت کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، سیدنا علی ؓنے اعتراف کیا اور کہا کہ ابن عباس سچ کہہ رہے ہیں۔ خلفائے راشدین کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ باقاعدہ ان سے مناقشہ کیا گیا اور کسی موقع پر کسی خلیفہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وہ حاکمِ وقت ہے، لہٰذا اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ خلفائے راشدین کی شان وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، ان کی اس شان کا اعتراف ایمان کی علامت ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم سب سے بلند ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی خلفائے راشدین کی رفعت کا راز ہے۔
329
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۰)۔عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((مَامِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ أُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ أُمَّتِہِ حَوَارِیُّوْنَ وَ أَصْحَابٌ یَأْخُذُوْنَ بِِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِہِ، ثُمَّ اِنَّہَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۴۳۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۳۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۰(انظر: ۴۳۷۹)
Explanation
فوائد:… حواری سے مراد انبیاء کے مخلص اور منتخب پیروکار ہیں، جنہوں نے اطاعت و فرمابرداری، تائید و نصرت، جہاد، امراء و خلفاء کی اطاعت، غرضیکہ انھوں نے اپنے اپنے نبیوں کی فرمابرداری کا ہر تقاضا پورا کیا۔اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مخلص فرمانبرداروں کے بعد اس امت میں بھی ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے، لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں متنبہ رہنا چاہیے کہ کیا ہم وہ لوگ تو نہیں ہیں کہ جن کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔
330
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۱)۔عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ (ؓ) فِیْ سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَکَانٍ فَحَادَ عَنْہُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ھٰذَا فَفَعَلْتُ۔ (مسند أحمد: ۴۸۷۰)
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔
Takhreej
(۳۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ البزار: ۱۲۸(انظر: ۴۸۷۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اطاعت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
331
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۲)۔عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِیْکَرِبَ (ؓ) یَقُوْلُ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَ خَیْبَرَ أَشْیَائَ، ثُمَّ قَالَ: ((یُوْشِکُ أَحَدُکُمْ أَنْ یُّکَذِّبَنِیْ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ یُحَدِّثُ بِحَدِیْثِیْ فیَقُوْلُ: بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، فَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاہُ، أَلَا! وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۲۶)
حسن بن جابر سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکربؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔
Takhreej
(۳۳۲) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲، والترمذی: ۲۶۶۴(انظر: ۱۷۱۹۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث بنفس نفیس حجت ہے، اس کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس باب کے آخر میں جس بحث کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
332
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَ لَا! اِنِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ، أَ لَا! یُوْشِکُ رَجُلٌ یَنْثَنِیْ شَبْعَانَ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ، أَلَا! لَا یَحِلُّ لَکُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَہْلِیْ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَۃٌ مِنْ مَالِ مُعَاہِدٍ اِلَّا أَنْ یَسْتَغْنِیَ صَاحِبُہَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یَقْرُوْہُمْ، فَاِنْ لَمْ یَقْرُوْہُمْ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یُعْقِبُوْہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۰۶)
سیدنا مقدام بن معدیکرب ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جولوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔
Takhreej
(۳۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۰۴، وابن ماجہ: ۱۲، ۳۱۹۳ (انظر: ۱۷۱۷۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وحی کی دو اقسام عطا کی گئیں، ایک قرآن مجید، جس کو وحی متلو کہتے ہیں اور دوسری حدیث، جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ} … اور وہ (نبی) ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد سنت ِ نبوی ہے اور یہی سنت ہے، جس کی روشنی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کلام مقدس کی وضاحت کرنی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ} … اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس چیز کی وضاحت کریں، جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ ضیافت ہر مہمان کا حق ہے، ہماری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو، آج کل لوگ یہ حق ادا کرنے سے غافل ہیں، جبکہ مہمان کی ضیافت کرنا ایمان و ایقان کا تقاضا ہے، یہ تفصیل کا مقام نہیں ہے۔
333
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۴)۔عن أَبِیْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَعْرِفَنَّ مَا یَبْلُغُ أَحَدَکُمْ مِنْ حَدِیْثِیْ شَیْئٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: مَاأَجِدُ ھٰذَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۶۲)
سیدنا ابو رافع ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔
Takhreej
(۳۳۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۰۵، والترمذی: ۲۶۶۳، وابن ماجہ: ۱۳(انظر: ۲۳۸۶۱)
334
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
۔ (۳۳۵)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَتَاہُ عَنِّیْ حَدِیْثٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ فِیْ أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: اتْلُوْا عَلَیَّ بِہِ قُرْآنًا، مَا جَائَ کُمْ عَنِّیْ مِنْ خَیْرٍ قُلْتُہُ أَوْ لَمْ أَقُلْہُ فَاَنَا أَقُوْلُہُ وَمَا أَتَاکُمْ مِنْ شَرٍّ فَاَنَا لَا أَقُوْلُ الشَّرَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۷۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شرّ والی بات پہنچے تو میں شرّ کہنے والا نہیں ہوں۔
Takhreej
(۳۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی معشر نجیح بن عبد الرحمن السندی (انظر: ۱۰۲۶۹)
Explanation
فوائد:… آخری احادیث میں منکرین حدیث پر ردّ ہے، ہم نے اس کتاب کے شروع میں مقدمہ کے بعد حجیت ِ حدیث کے عنوان پر ایک سیر حاصل مضمون قلم بند کیا ہے، جس میں تکنیکی انداز میں اِن منکرین کا ردّ کیا گیا ہے، اس مضمون کا تعلق اس باب سے ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس عنوان کا بغور مطالعہ کریں۔
335
Zaeef
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
۔ (۳۳۶)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاُثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَاِنَّ أَفْضَلَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۸۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ! پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
Takhreej
(۳۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۶۷(انظر: ۱۴۳۳۴)
Explanation
فوائد:… ہم جس دین کے پیروکار ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حیات ِ مبارکہ میں اس کی تکمیل ہو گئی تھی، لہٰذا شریعت میں ہر موقع سے متعلق جس جس چیز کا تعین ہو چکا ہے، اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، مثال کے طور پر ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے، تو اس کی حالتِ نزع سے لے کر اس کو دفنانے تک تمام احکام کا تعین کر دیا گیا ہے اور کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی ہے، اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، میت کے پاس بیٹھ کر اس کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، نہ مخصوص انداز میں تلاوت کرنے کا، جب میت کو قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہو تو کلمۂ شہادت کا نعرہ لگانا اور جواباً اَشْھَدُ … کہنا ثابت نہیں ہے، جب میت کو دفن کر دیا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا حکم تو موجود ہے، لیکن قبر کے پاس اذان یا تلاوت جیسے امور ثابت نہیں ہیں۔ بدعت: وہ نئی بات جو دین میں اجر و ثواب کی غرض سے نکالی جائے اور جس کی دلیل کتاب وسنت سے نہ ہو۔ مثلا نماز عید سے پہلے خطبہ دینا، نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ کا اہتمام کرنا، مجلس میلاد، عرس، گیارہویں، چہلم، مجلس مرثیہ خوانی، رسم قل، رسم ختم وغیرہ وغیرہ۔
336
Sahih
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
۔ (۳۳۷)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعِ عَلَیْہَا کَانَ عَلَیْہِ مِثْلُ أَوْزَارِہِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃَ ہُدًی فَاتُّبِعِ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ مِثْلُ أُجْوْرِہِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۳)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیااور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنیوالوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میںکوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۳۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۷۴(انظر: ۱۰۵۵۶)
Explanation
فوائد:… جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا طریقہ جاری کیا جائے، جو اس عمومی حکم میں شامل ہو، جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے رغبت دلائی ہو، جیسے سیدنا عمر ؓنے قیام رمضان کا اہتمام کروایا تھا اور اس سے وہ سنت اور شرعی طریقہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے اپنا وجود کھو چکا ہو۔
337
Sahih
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
۔ (۳۳۸)۔عَنْ حَبِیْبِ بْنِ عُبَیْدٍ الرَّحَبِیِّ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحٰرِثِ الشُّمَالِیِّؓ قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ: یَا أَبَا أَسْمَائَ! اِنَّا قَدْ أَجْمَعْنَا النَّاسَ عَلَی أَمْرَیْنِ، قَالَ: وَمَا ہُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَیْدِیْ عَلَی الْمَنَابِرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا اِنَّہُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتِکُمْ عِنْدِیْ وَلَسْتُ مُجِیْبَکَ اِلٰی شَیْئٍ مِنْہُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلَّا رُفِعَ مِثْلُہَا مِنَ السُّنْۃِ، فَتَمَسُّکٌ بِسُنَّۃٍ خَیْرٌ مِنْ اِحْدَاثِ بِدْعَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۹۵)
غضیف بن حارث شمالی کہتے ہیں: عبد الملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔ میں نے کہا: میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گا، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۳۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم الغسانی ۔ أخرجہ البزار: ۱۳۱، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۱۸۷(انظر: )
338
Zaeef
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
۔ (۳۳۹)۔عَنْ سَعْدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ أَنَّ رَجُلًا أَوْصٰی فِیْ مَسَاکِنَ لَہُ بِثُلُثِ کُلِّ مَسْکَنٍ لِاِنْسَانٍ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: اجْمَعْ ثَلَاثَۃً فِیْ مَکَانٍ وَاحِدٍ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ (ؓ) تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ عَمِلَ عَمْلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَأَمْرُہُ رَدٌّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَہُوَ رَدٌّ)) (مسند أحمد:۲۶۷۲۱)
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد سے سوال کیا، انھوں نے کہا:ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کیلئے) کر دو، پس بیشک میں نے سیدہ عائشہؓ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔
Takhreej
(۳۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۹۷، ومسلم: ۱۷۱۸(انظر: ۲۶۱۹۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین سے متعلقہ ہر قول و فعل کے لیے شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ مردود ٹھہرے گا۔
339
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۳۴۰)۔عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَؓ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِیْ وَرَآنِیْ حَتَّی اِذَا رُفِعُوْا اِلَیَّ وَرَأَیْتُہُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَلَأَقُوْلَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِیْ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۷۶۸)
سیدنا ابو بکرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
Takhreej
(۳۴۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۴۳(انظر: ۲۰۴۹۴)
340
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۳۴۱)۔ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا (یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّؓ) یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہُ أَبَدًا، وَلَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ،(قَالَ أبُوْحَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِیْ عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَقَالَ: ہٰکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا یَقُوْلُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیْدُ فَیَقُوْلُ: ((اِنَّہُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ، فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۱۰)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوںنے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔
Takhreej
(۳۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۵۰، ۷۰۵۱، ومسلم:(انظر: ۲۲۸۲۲)
341
Sahih