عبد الرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی کہتے ہے: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۲) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ہم آپ کی زیارت اور تیماری داری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں، سیدنا عرباض ؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا مؤثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا،وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اِس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی و عظ ونصیحت ہے، پس آپ ہمیںکیا نصیحت کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا، اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مؤمن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ اُدھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتاہے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔
حسن بن جابر سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکربؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔
سیدنا مقدام بن معدیکرب ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جولوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔
سیدنا ابو رافع ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شرّ والی بات پہنچے تو میں شرّ کہنے والا نہیں ہوں۔