سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ! پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیااور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنیوالوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میںکوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
غضیف بن حارث شمالی کہتے ہیں: عبد الملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔ میں نے کہا: میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گا، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد سے سوال کیا، انھوں نے کہا:ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کیلئے) کر دو، پس بیشک میں نے سیدہ عائشہؓ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔