سیدنا ابو بکرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوںنے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
۔ (۳۴۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِثْلُہُ۔
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
عبد اللہ بن رافع مخزومی کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: اے لوگو! جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: میرا سر ڈھانپ دے، اس نے کہا: میں تجھ پر قربان جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرما رہے ہیں: اے لوگو! میں نے کہا: تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں، پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آ واز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، پس میں کہوں گا: خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔