TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان - کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 5 Hadith
۔ (۳۴۰)۔عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَؓ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِیْ وَرَآنِیْ حَتَّی اِذَا رُفِعُوْا اِلَیَّ وَرَأَیْتُہُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَلَأَقُوْلَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِیْ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۷۶۸)
سیدنا ابو بکرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
Takhreej
(۳۴۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۴۳(انظر: ۲۰۴۹۴)
340
Sahih
۔ (۳۴۱)۔ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا (یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّؓ) یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہُ أَبَدًا، وَلَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ،(قَالَ أبُوْحَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِیْ عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَقَالَ: ہٰکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا یَقُوْلُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیْدُ فَیَقُوْلُ: ((اِنَّہُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ، فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۱۰)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوںنے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔
Takhreej
(۳۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۵۰، ۷۰۵۱، ومسلم:(انظر: ۲۲۸۲۲)
341
Sahih
۔ (۳۴۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۷۹)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۹۷(انظر: ۲۳۲۹۰)
342
Sahih
۔ (۳۴۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
343
Sahih
۔ (۳۴۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍٍ الْمَخْزُوْمِیِّ قَالَ: کَانَتْ أُمُّ سَلَمَۃَؓ تُحَدِّثُ، أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَہِیَ تَمْتَشِطُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ!۔)) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِہَا: لُفِّیْ رَأْسِیْ، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَیْتُکِ، اِنَّمَا یَقُوْلُ: أَیُّہَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَیْحَکِ، أَوَ لَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَہَا وَقَامَتْ فِیْ حُجْرَتِہَا فَسَمِعَتْہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! بَیْنَمَا أَنَا عَلَی الْحَوْضِ جِیْئَ بِکُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِکُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَیْتُکُمْ، أَلَا! ہَلُمُّوْا اِلَی الطَّرِیْقِ، فَنَادٰنِیْ مُنَادٍ مِنْ بَعْدِیْ فَقَالَ: اِنَّہُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ، فَقُلْتُ: أَ لَا! سُحْقًا، أَ لَا! سُحْقًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۸۱)
عبد اللہ بن رافع مخزومی کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: اے لوگو! جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: میرا سر ڈھانپ دے، اس نے کہا: میں تجھ پر قربان جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو فرما رہے ہیں: اے لوگو! میں نے کہا: تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں، پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آ واز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، پس میں کہوں گا: خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔
Takhreej
(۳۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۹۵(انظر: ۲۶۵۴۶)
Explanation
فوائد:… پچھلے باب میں بدعت کی حقیقت کو واضح کیا جا چکا ہے، اس باب میں بدعتی لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فکر، قول اور فعل کا قرآن و حدیث کے احکام کے ساتھ موازنہ کریں، اگرچہ فرقہ پرستی اور تعصب کے دور میں یہ موازنہ مشکل ہو گیا ہے، بہرحال فکرمند لوگوں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔
344
Sahih