سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ کسی نماز میں بھی اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں بھی نہیں کیا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراء ت کی اور جہری قراء ت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراء ت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے…۔