TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازِکسوف کے ابواب - نمازِکسوف کے ابواب - Book 53 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 53 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 40 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

40 Hadith · 10 Chapters
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۸۵) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ النَّاسُ: اِنْکَسَفَتْ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَادْعُوا اللّٰہَ وَصَلُّوا حَتّٰی تَنْکَشِفَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۶۲)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں جس دن (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے) ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم یہ چیز دیکھو تو دعا کیا کرو اور نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Takhreej
(۲۸۸۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۶۰، ومسلم: ۹۱۵ (انظر: ۱۸۱۷۸)
2885
Sahih
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۸۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا خَسَفَا أَوْ أَحَدُھُمَا، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی یَنْجَلِیَ خُسُوْفُ أَیِّہِمَا خَسَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۲۱)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سورج اور چاند یا ان میں سے ایک بے نور ہو جائے اور تم اس چیز کو دیکھ لو تو نماز پڑھا کرو، حتی کہ گرہن ختم ہو جائے، وہ جس کو بھی لگا ہوا ہو۔
Takhreej
(۲۸۸۶) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف من أجل ابن لھیعۃ أخرجہ مطولا مسلم: ۹۰۴ (انظر: ۱۴۷۶۲، ۱۵۰۱۸)
2886
Zaeef
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَۃٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی،فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا)) (مسند احمد: ۵۸۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں، اس لیے جب تم ان دونوں کو (گرہن زدہ) دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
Takhreej
(۲۸۸۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۲، ۳۲۰۱، ومسلم: ۹۱۴ (انظر: ۵۸۸۳)
2887
Sahih
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۸۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کُنَّا نَرَی الْآیَاتِ فِی زَمَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَرَکَاتٍ وَأَنْتُمْ تَرَوْنَھَا تَخْوِیْفًا۔ (مسند احمد: ۳۷۶۲)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔
Takhreej
(۲۸۸۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ مطوّلا البخاری: ۳۵۷۹ (انظر: ۳۷۶۲، ۴۳۹۳)
2888
Sahih
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۸۹) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، قَالَ یَزِیْدُ (أَحد الرواۃ) وَلَا لِحِیَاتِہِ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَعَالیٰ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۳۰)
سیّدناابومسعودبدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کے موقع پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
Takhreej
(۲۸۸۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۱، ۱۰۵۷، ۳۲۰۴، ومسلم: ۹۱۱ (انظر: ۱۷۱۰۱)
2889
Sahih
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۹۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: مَا سَجَدْتُّ سُجُوْدًا قَطُّ وَلَا رَکَعْتُ رُکُوْعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۶۶۳۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، اس لیے الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج صاف ہوگیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کبھی بھی ایسا سجدہ نہیں کیا اور نہ ایسا رکوع کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو۔
Takhreej
(۲۸۹۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۵۱، ومسلم: ۹۱۰ (انظر: ۶۶۳۱)
2890
Sahih
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
۔ (۲۸۹۱) عَنْ أَبِی حَفْصَۃَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ لَمَّا کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُوْدِیَ أَنِ الصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ فِی صَلَاتِہِ، قَالَتْ فَأَحْسِبُہُ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ یَسْجُدُ ثُمَّ رَکَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۷۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: عہد نبوی میں سورج کو گرہن لگا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور حکم دیا، پس الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نے نماز شروع کر دی اور) لمبا قیام کیا، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا اور پھر گزشتہ قیام کی طرح قیام کیا اور سجدہ نہ کیا، اس کے بعد دوبارہ رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا، جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا، یعنی ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پر (تشہد کے لیے) بیٹھ گئے اور اتنے میں سورج صاف ہو گیا۔
Takhreej
(۲۸۹۱) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۱۰۴۴، ۵۲۲۱، ومسلم: ۹۰۱، ومالک: ۱/ ۱۸۶، وابوداود: ۱۱۹۱ (انظر: ۲۴۰۴۵، ۲۴۶۷۰)
2891
Sahih
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
۔ (۲۸۹۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکُسُوْفَ (وَفِی لَفْظٍ صَلَاۃَ الْخُسُوْفِ) فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْہُ فِیْہَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۷۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔
Takhreej
(۲۸۹۲) تخریـج: …حسن، روی عبد اللہ بن المبارک عن عبد اللہ بن لھیعۃ فی روایۃ أخرجہ أبویعلی: ۲۷۴۵، والطحاوی: ۱/ ۳۳۲، والبیھقی: ۳/ ۳۳۵ (انظر: ۲۶۷۳)
2892
Sahih
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
۔ (۲۸۹۳) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ، فَقَالَ: فَقَامَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ رَکَعَ کَأَطْوَلِ مَا رَکَعَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۰)
سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ کسوف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ کسی نماز میں بھی اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں بھی نہیں کیا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۲۸۹۳) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ ثعلبۃ بن عباد، ولبعضہ شواھد أخرجہ مطوّلا ومختصرا ابوداود: ۱۱۸۴، والنسائی: ۳/ ۱۴۰، وابن ماجہ: ۱۲۶۴، والترمذی: ۵۶۲، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۶۹، وابن خزیمۃ: ۱۳۹۷، وابن حبان: ۲۸۵۲(انظر: ۲۰۱۶۰، ۲۰۱۷۸)
2893
Zaeef
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
۔ (۲۸۹۴) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتٰی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُصَلّٰی فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ وَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِی الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ…)) الْحَدِیْثِ (مسند احمد: ۲۴۹۷۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قراء ت کی اور جہری قراء ت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراء ت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے…۔
Takhreej
(۲۸۹۴) تخریـج: …أخرجہ مطوّلا ومختصرا البخاری: ۱۰۴۶، ۱۲۱۲، ومسلم: ۹۰۱، وابوداود: ۱۱۸۰ (انظر: ۲۴۹۷۷)
2894
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۸۹۵) عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوا: کَسَفَتٍ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، أَلَا وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا کَذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ۔)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِیْمَا نُرَی بَعْضَ {الٓرکِتَابٌ} ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۲۴۰۲۹)
سیّدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابرہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔
Takhreej
(۲۸۹۵) تخریـج: …اسنادہ جید (انظر: ۲۳۶۲۹)
2895
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۸۹۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَیْسَ بِرَاکِعٍ ثُمَّ رَکَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ،ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی الْأَرْضِ وَیَبْکِی وَھُوَ سَاجِدٌ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْھِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضٰی صَلَاتَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کَسَفَ أَحَدُھُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ أَشَائُ لَتَعَاطَیْتُ بَعْضَ أَغْصَانِہَا وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ حَتّٰی اِنِّی لَأُطْفِئُہَا خَشْیَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ، وَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً مِنْ حِمْیَرَ سَوْدَائَ طُوَالَۃً تُعَذَّبُ بِہِرَّۃٍ لَھَا تَرْبِطُھَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَا تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ کُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَہَشَتْہَا، وَکُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَھَشَتْہَا وَرَأَیْتُ فِیْہَا أَخَابَنِی دَعْدَعٍ وَرَأَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّکِئًا فِی النَّارِ عَلٰی مِحْجَنِہِ کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ، فَاِذَا عَلِمُوا بِہِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُکُمْ، اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Takhreej
(۲۸۹۶) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ بذکر صلاۃ الکسوف البخاری: ۱۰۵۱، ومسلم: ۹۱۰، وابوداود: ۱۱۹۴(انظر: ۶۴۸۳، ۶۶۳۱)
2896
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۸۹۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْیَۃَ أَنْ یَغْشَاکُمْ حَرُّھَا، وَرَأَیْتُ فِیْہَا سَارِقَ بَدَنَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۳)
۔ (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Takhreej
(۲۸۹۷)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2897
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۸۹۸) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِکُمْ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۲)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر تمہاری نماز کی طرح کی نماز پڑھی کہ اس میں رکوع اور سجدہ بھی کیا۔
Takhreej
(۲۸۹۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، أبوقلابۃ لم یسمع من النعمان بن بشیر أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۶۷، والنسائی: ۳/ ۱۴۵، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۳۳۰۔ وأخرجہ أبوداود: ۱۱۹۳ بلفظ: کسفت الشمس علی عھد رسول النبیV فجعل یصلی رکعتین رکعتین ویسأل عنھا حتی انجلت۔ وأخرجہ أحمد بلفظ آخر مقارب منہ، سیأتی: ۱۶۹۳ ، وفیہ رجل مبھم عن النعمان (انظر: ۱۸۳۵۱، ۱۸۳۶۵، ۱۸۳۹۲)۔
2898
Zaeef
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۸۹۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ قَالَ حَجَّاجٌ مِثْلَ صَلَاتِنَا ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۴)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں رکوع و سجود کیے، حجاج نے کہا: وہ ہماری نمازکی طرح ہی تھی۔
Takhreej
(۲۸۹۹)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2899
Zaeef
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۹۰۰) عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِیِّ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: شَہِدْتُ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِیْ فِی غَرَضَیْنِ لَنَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحَیْنِ أَوْ ثَـلَاثَۃٍ فِی عَیْنِ النَّاظِرِ اِسْوَدَّتْ حَتّٰی آضَتْ کَأَنَّہَا تَنُّوْمَۃٌ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِہِ: اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَوَاللّٰہِ! لَیُحْدِثَنَّ شَأْنُ ھٰذِہِ الشَّمْسِ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أُمَّتِہِ حَدَثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا ھُوَ بَارِزٌ قَالَ: وَوَافَقْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ خَرَجَ اِلَی النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَانَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا ثُمَّ رَکَعَ کَا طْوَلِ مَا رَکَعَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ فَوَافَقَ تَجَلِّی الشَّمْسِ جُلُوْسَہُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، قَالَ زُھَیْرٌ (أَحد الرواۃ): حَسِبْتُہُ، قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَشَہِدَ أَنَّہُ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی قَصَّرْتُ عَنْ شَیْئٍ مِنْ تَبْلِیْغِ رِسَالَاتِ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی کَمَا یَنْبَغِی لَھَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَاِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّکَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِکَ وَقَضَیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ ثُمَّ سَکَتُوْا۔ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ رِجَالًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ کُسُوْفَ ھٰذِہِ الشَّمْسِ وَکُسُوْفَ ھٰذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ ھٰذِہِ النُّجُوْمِ عَنْ مَطَالِعِہَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَائَ مِنْ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّہُمْ قَدْ کَذَبُوا، وَلٰکِنَّہَا آیَاتٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یَعْتَبِرُ بِھَا عِبَادُہُ فَیَنْظُرُ مَنْ یُحْدِثُ لَہُ مِنْہُمْ تَوْبَۃً، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ رَأَیْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّیْ مَا أَنْتُمْ لَاقُوْنَ فِی أَمْرِ دُنْیَاکُمْ وَآخِرَتِکُمْ وَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابًا، آخِرُھُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ الْیُسْرٰی کَأَنَّہَا عَیْنُ أَبِی یَحْیٰی لِشَیْخٍ حِیْنَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَاِنَّہُ مَتٰی یَخْرُجُ أَوْ قَالَ مَتٰی مَا یَخْرُجُ فَاِنَّہُ سَوْفَ یَزْعُمُ أَنَّہُ اللّٰہُ، فَمَنْ آمَنَ بِہِ وَصَدَّقَہُ وَاتَّبَعَہُ لَمْ یَنْفَعْہُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِہِ سَبَقَ، وَمَنْ کَفَرَ بِہِ وَکَذَّبَہُ لَمْ یُعَاقَبْ بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ سَلَفَ) وَاِنَّہُ سَیَظْہَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ یَظْہَرُ عَلَی الْأَرْضِ کُلِّہَا اِلَّا الْحَرَمَ وَبَیْتَ الْمَقْدِسِ وَاِنَّہُ یَحْصُرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَیُزَلْزَلُوْنَ زِلْزَالاً شَدِیْدًا ثُمَّ یُہْلِکُہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَجُنُوْدَہُ حَتّٰی اِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ، وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْیَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَۃِ لَیُنَادِیْ أَوْ قَالَ یَقُوْلُ: یَامُؤْمِنُ! أَوْ قَالَ یَا مُسْلِمُ! ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ أَوْ قَالَ ھٰذَا کَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْہُ قَالَ وَلَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ حَتّٰی تَرَوْا أُمُوْرًا یَتَفَاقَمُ شَأْنُہَا فِی أَنْفُسِکُمْ وَتَسَائَلُوْنَ بَیْنَکُمْ ھَلْ کَانَ نَبِیُّکُمْ ذَکَرَ لَکُمْ مِنْہَا ذِکْرًا، وَحَتّٰی تَزُوْلَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِہَا ثُمَّ عَلٰی أَثَرِ ذٰلِکَ الْقَبْضُ ثُمَّ شَہِدْتُ خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ ذَکَرَ فِیْھَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ، فَمَا قَدَّمَ کَلِمَۃً وَلَا أَخَّرَھَا عَنْ مَوْضِعِھَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۰)
ثعلبہ بن عباد عبدی، جو اہل بصرہ میں سے تھے، کہتے ہیں: میں ایک دن سیّدنا سمرۃ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے اس خطبے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا عہد ِ نبوی میں دو نشانوں کے درمیان تیر پھینک رہے تھے، جب سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو تین نیزے بلند ہوا تو وہ کالا ہونا شروع ہو گیا اور (سیاہ رنگ کا پھل) تنومہ کی طرح ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مسجد کی طرف چلیے، اللہ کی قسم! سورج کی یہ کیفیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس امت میں کوئی نیا حکم پیدا کرے گی، پس ہم مسجد کی طرف بھاگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی باہر آئے ہوئے تھے، پھر جب آپ لوگوں کے پاس آئے تو آگے بڑھے اور (نماز شروع کر دی) اور اتنا لمبا قیام کروایاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی نماز میں کبھی بھی ایسی طوالت اختیار نہیں کی تھی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انتہائی لمبا رکوع کیا کہ کبھی بھی ہمیں ایسا رکوع نہیں کروایا تھا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھے تو سورج بھی صاف ہو گیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ شہادت دی کہ آپ خود اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے رب تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو تم مجھ کو اس کی خبر دو گے، (میں خود تو یہ کہتا ہوں کہ) میں اپنے رب کے پیغامات کے اس طرح پہنچا دئیے، جس طرح پہنچانے کا حق تھا، بہرحال اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں تو تم مجھے اس کی خبر دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں اور آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کردی ہے اور جو حق آپ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حمد و ثناء کے بعد، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کا بے نور ہو جانا اور ستاروں کا اپنے مقام سے ہٹ جانااہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ جھوٹے ہیں،یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتاہے اور پھر وہ دیکھتاہے کہ ان میں سے کون اس موقع پر توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب میں اس نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے وہ سارا کچھ دیکھ لیا جس کو تم دنیا و آخرت میں ملنے والے ہو۔اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ، جب تک تیس کذاب نہ نکل آئیں، ان میں سے آخری دجال ہوگا، جو کانا ہو گا اور جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا کہ وہ ابویحیی کی آنکھ ہے۔ یہ ایک انصاری شیخ تھا جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دجال نکلے گا تو وہ یہ دعوی کرے گا کہ وہی اللہ ہے، پس جو شخص اس کے ساتھ ایمان لائے گا،اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا تو سابقہ نیک اعمال بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، (یعنی اس کے اعمال صالحہ ضائع ہو جائیں گے)۔اور جس نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی تکذیب کردی تواس کا اس کے سابقہ (برے) اعمال کی وجہ مؤاخذہ نہیں ہو گا، (یعنی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے)۔ بے شک وہ دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا، ما سوائے حرم اور بیت المقدس کے، وہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کردے گا اور ان کو انتہائی سختی سے ہلا دیا جائے گا، (یعنی وہ اِس کی وجہ سے سخت گھبراہٹ، تنگی اور پریشانی میں ہوں گے)۔ پھر اللہ اس کو اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا، حتیٰ کہ دیوار کی بنیاد یا درخت کا بنیادی تناپکار پکار کر کہے گا: او مومن! او مسلمان! یہ یہودی (چھپا ہوا) ہے، یہ کافر ہے، ادھر آ اور اس کو قتل کر دے۔ لیکن یاد رکھو کہ دجال والا یہ معاملہ اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تلک تم بڑے بڑے امور نہ دیکھ لو گے اور جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی ان کا کوئی ذکر کیا تھا، بطور مثال پہاڑ اپنی جگہوں سے سرک جائیں گے، پھر اس کے بعد قیامت بپا ہوجائے گی۔
Takhreej
(۲۹۰۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ ثعلبۃ بن عباد، ولبعضہ شواھد أخرجہ مطوّلا ومختصرا ابن ابی شیبۃ: ۲… ۴۶۹، وابوداود: ۱۱۸۴، والنسائی: ۳/ ۱۴۰، وابن خزیمۃ: ۱۳۹۷ (انظر: ۲۰۱۷۸)
2900
Zaeef
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۹۰۱) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ یَجُرُّ ثَوْبَہُ مُسْتَعْجِلًا حَتّٰی أَتٰی الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَجُلِّیَ عَنْھَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ وَلَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ۔)) قَالَ وَکَانَ ابْنُہُ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَاتَ، ((فَاِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمَا شَیْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوْا حَتَّی یَنْکَشِفَ مِنْہُمَا مَا بِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۶۱)
سیّدنا ابوبکرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ کھڑے ہوئے اور کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی جلدی مسجد پہنچے اور لوگ بھی لگاتار جمع ہونا شروع ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سورج کا گرہن ختم ہوگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، یہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ اس دن دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیٹا(ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) فوت ہوا تھا۔ پس جب تم ان میں اس قسم کی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، حتیٰ کہ وہ چیز ختم ہو جائے، جس میں تم مبتلا ہو۔
Takhreej
(۲۹۰۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۰، ۵۷۹۵ (انظر: ۲۰۳۹۰)
2901
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
۔ (۲۹۰۲) عَنْ قَبِیْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَأَطَالَ فِیْہِمَا الْقِرَائَ ۃَ، فَانْجَلَتْ، فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا کَأَحدَثِ صَلَاۃٍ صَلَّیْتُمُوْھَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۸۳)
سیّدنا قبیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں قراء ت کو لمبا کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتاہے، پس جب تم اس چیز کو دیکھو تو جو تم نے تازہ تازہ فرض نماز پڑھی ہے، اس کی طرح کی نماز پڑھو۔
Takhreej
(۲۹۰۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، أبوقلابۃ بن عبد اللہ بن زید الجرمی کان کثیر الارسال، ولم یصرح ھنا بسماعہ من قبیصۃ بن مخارق، وذکر البیھقی فی ’’السنن‘‘ انہ لم یسمع منہ، انما رواہ عن رجل عنہ، وھذا الرجل ھو ھلال بن عامر وقیل: عمرو البصری، وھو لا یعرف کما قال الذھبی، وروی بعضھم ھذا الحدیث من طریق أیوب وغیرہ عن أبی قلابۃ عن النعمان، وابو قلابۃ لم یسمع من النعمان، فھذا یفید أن فی الحدیث اضطرابا أیضا أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۴۴، وابوداود: ۱۱۸۶، وانظر: ۱۶۸۹ (انظر: ۲۰۶۰۷)
2902
Zaeef
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
۔ (۲۹۰۳) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَکَانَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَسْأَلُ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یَسْأَلُ، حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ أَوْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَاِنَّمَا یَنْکَسِفُ لِمَوْتِ عَظِیْمٍ مِنْ عُظَمَائِ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّ ذَاکَ لَیْسَ کَذٰلِکَ، وَلٰکِنَّہُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ، فَاِذَا تَجَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِشَیْئٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۱)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کیا کہ دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر (گرہن کے بارے میں) پوچھتے، پھر دو رکعت پڑھاتے، پھر پوچھتے، حتی کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سورج اور چاند اس وقت بے نور ہوتے ہیں، جب کہ اہل زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت واقع ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت ایسے نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لیے تجلّی فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔
Takhreej
(۲۹۰۳) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن النعمان أخرجہ البیھقی: ۳/ ۳۳۳، وأخرج النسائی بنحوہ: ۳/ ۱۴۵، وتقدم ھذا الحدیث برقم: ۱۶۸۹ (انظر: ۱۸۳۵۱)
2903
Zaeef
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۴) عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ تْنِی یَہُوْدِیَّۃٌ تَسْأَلُنِیْ، فَقَالَتْ: أَعَاذَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنُعَذَّبُ فِی الْقُبُوْرِ؟ قَالَ: ((عَائِذٌ بِاللّٰہِ۔)) فَرَکِبَ مَرْکَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَکُنْتُ بَیْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَۃِ فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَرْکَبِہِ فَأَتَی مُصَلَّاہُ فَصَلَّی النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ ثُمَّ قَامَ أَیْسَرَ مِنْ قِیَامِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ أَیْسَرَ مِنْ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ أَیْسَرَ مِنْ سُجُوْدِہِ الْأَوَّلِ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ کَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ یَسْتَعِیْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت کوئی سوال کرنے کے لیے میرے پاس آئی، اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تومیں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیںقبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا،پس میں نکلی اور ابھی تک عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے اتر کر آ گئے اور نماز کی جگہ پر تشریف لے آئے اور (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا،پھر اپنا سر اٹھایا اور (قومہ میں) لمبی دیر کے لیے کھڑے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور طویل سجدہ کیا، (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے) اور پہلی رکعت سے مختصر قیام کیا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر قیام کیا تو پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔ اس طرح (دو رکعت نماز میں) چار رکوع اور چار سجدے تھے، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے کی طرح قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد میں سنتی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلبکرتے تھے۔
Takhreej
(۲۹۰۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۹، ۱۰۵۰، ۱۰۵۵، ۱۰۵۶، ومسلم: ۹۰۷ (انظر: ۲۴۲۶۸)
2904
Sahih

Chapters

10
01
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
7 Hadith
02
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
3 Hadith
03
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
8 Hadith
04
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
1 Hadith
05
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
8 Hadith
06
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
4 Hadith
07
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
1 Hadith
08
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
1 Hadith
09
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
1 Hadith
10
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.