مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازِکسوف کے ابواب

اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے


۔ (۲۹۰۳) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَکَانَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَسْأَلُ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یَسْأَلُ، حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ أَوْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَاِنَّمَا یَنْکَسِفُ لِمَوْتِ عَظِیْمٍ مِنْ عُظَمَائِ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّ ذَاکَ لَیْسَ کَذٰلِکَ، وَلٰکِنَّہُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ، فَاِذَا تَجَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِشَیْئٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۱)

سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کیا کہ دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر (گرہن کے بارے میں) پوچھتے، پھر دو رکعت پڑھاتے، پھر پوچھتے، حتی کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سورج اور چاند اس وقت بے نور ہوتے ہیں، جب کہ اہل زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت واقع ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت ایسے نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لیے تجلّی فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۲۹۰۳) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن النعمان أخرجہ البیھقی: ۳/ ۳۳۳، وأخرج النسائی بنحوہ: ۳/ ۱۴۵، وتقدم ھذا الحدیث برقم: ۱۶۸۹ (انظر: ۱۸۳۵۱)