مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازِکسوف کے ابواب

اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں

۔ (۲۹۱۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّاسُ: اِنَّمَا کَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَامَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، کَبَّرَثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الثَّانِیَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوٌ مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُوْدِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ لَیْسَ فِیْھَا رَکْعَۃٌ اِلَّا الَّتِی قَبْلَہَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِی بَعْدَھَا، اِلَّا أَنَّ رُکُوْعَہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِی صَلَاتِہِ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوْفُ مَعَہُ ثُمَّ تَقَدَّم فَقَامَ فِی مَقَامِہِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوْفُ فَقَضَی الصَّلَاۃَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی تَنْجَلِیَ، اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی صَلَاتِی ھٰذِہ،ِ وَلَقَدْ جِیْئَ بِالنَّارِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِی تَأَخَّرْتُ مَخَافَۃَ أَنْ یُصِیْبَنِی مِنْ لَفْحِہَا حَتّٰی قُلْتُ: أَیْ رَبِّ! وَأَنَا فِیْہِمْ، وَرَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ فَاِنْ فُطِنَ بِہِ قَالَ: اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی، وَاِنْ غُفِلَ عَنْہُ ذَھَبَ بِہِ، وَحَتّٰی رَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ الَّتِیْ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَتْرُکْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، وَجِیْئَ بِالْجَنَّۃِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِیْ تَقَدَّمْتُ حَتّٰی قُمْتُ فِی مَقَامِی فَمَدَدْتُّ یَدِیَ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِھَا لِتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنْ لَا أَفْعَلَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷۰)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا: بے شک ابرہیم کی موت کی وجہ سے سورج بے نور ہو گیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، چار سجدوں (یعنی دو رکعتوں ) میں چھ رکوع کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبی قراء ت کی، پھر اسی قیام کے بقدر طویل رکوع کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور قراء ت کی ، جو کہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا رکوع کیاجتنی دیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور پھر قراء ت شروع کر دی، یہ دوسرے (نمبر والی) قراء ت سے کم تھی، پھر رکوع کیا، جوکہ اس سے پہلے والے قیام کے بقدر تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے کے لیے جھک گئے اور دو سجدے کیے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور (پہلے کی طرح) سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، اس میں سے ہر رکوع بعد والے رکوع کی بہ نسبت لمبا تھا، البتہ ہر رکوع اپنے سے پہلے والے قیام کے برابر ہوتا تھا۔ (یوں بھی ہوا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز کے دوران پیچھے ہٹے اور صفیں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے او راپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کر لی او راُدھر سورج صاف ہو چکا تھا۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم اس طرح کا معاملہ دیکھو تو سورج کے صاف ہونے تک نماز پڑھا کرو، میں نے اس نماز میں ہر وہ چیز دیکھی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، میرے پاس آگ لائی گئی، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا تھا، میں ڈرنے لگ گیا تھا کہ کہیں اس کی گرمی مجھ تک پہنچ نہ جائے، میں نے اس وقت کہا: اے رب! (ابھی تک تو) میں ان میں موجود ہوں۔ میں نے لاٹھی والے کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، وہ اپنی لاٹھی سے حاجیوں کی چوری کرتا تھا، اگر اس کی چوری کا پتہ چل جاتا تو وہ کہتا یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ ویسے لٹک گئی ہے، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اس کو لے جاتا، مجھے وہاں بلی والی عورت بھی نظر آئی، اس نے بلی کو باندھ دیا تھا، نہ تو اس نے خود اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے وغیرہ کھالیتی، حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی۔ میرے پاس جنت بھی لائی گئی، اس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے کو بڑھا، حتیٰ کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اس کے پھل کو پکڑلوں تاکہ تم اس کو دیکھ سکو، پھر میرے لیے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں ایسے نہ کروں۔

۔ (۲۹۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی صَلَاۃِ الْآیَاتِ فَیَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ، ثُمَّ یَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نشانیوں والی نماز میں کھڑے ہوئے اور تین رکوع کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر (دوسرے رکعت) میں تین رکوع کیے اور پھر سجدہ کیا۔

۔ (۲۹۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ حَدَّثَنِی عَبْدُالْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِالْوَھَّابِ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ الْأُمَوِیُّ ثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: کَسفِت الشَّمْسُ ضَحْوَۃً حَتّٰی اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُہَا فَقَامَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَقَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً مِنَ الْمَثَانِیْ ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَکَعَ الثَّانِیَۃَ مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ اِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ کَسَفَتْ یَوْمَ تُوُفِّیَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَاِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ نَزَلَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی الصَّلَاۃِ فَجَعَلَ یَنْفُخُ بَیْنَ یَدَیْہِ، ثُمَّ اِنَّہُ مَدَّ یَدَہُ کَأَنَّہُ یَتَنَاوَلُ شَیْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ النَّارَ أُدْنِیَتْ مِنِّی حَتّٰی نَفَخْتُ حَرَّھَا عَنْ وَجْہِی، فَرَأَیْتُ فِیْہَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ وَالَّذِی بَحَّرَ الْبَحِیْرَۃَ وَصَاحِبَۃَ حِمْیَرَ صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۳)

مجالد کہتے ہیں: چاشت کے وقت سورج کو گرہن لگ گیا اور اس کا اندھیرا سخت ہوگیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،مثانی میں سے ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا، پھر اسی طرح کا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا، (قیام کیا اور ) پھر اسی کے مثل رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اتنا ہی قیام کیا، پھر اسی طرح دوسرا رکوع کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا، پھر انھوں نے سجدہ کیا اور (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا اور پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد منبر پر چڑھے اور کہا: بے شک جس دن فرزند ِ رسول ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تھے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب ان میں سے کوئی ایک بے نور ہوجائے تو نماز کی طرف پناہ لو۔ پھر منبر سے نیچے اترے اور بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس نماز میں اپنے سامنے پھونکیں ماری اور پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، ایسے لگتا تھا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک آگ میرے اتنی قریب کی گئی کہ اپنے چہرے سے اس کی حرارت کو ہٹانے کے لیے میں نے پھونک ماری اور میں نے اس میں لاٹھی والے، بحیرہ ایجاد کرنے والے اور حمیر قبیلے کی بلی والی خاتون کو دیکھا۔

۔ (۲۹۱۵) عَنْ رَجُلٍ یُدْعَی حَنَشًا عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ یٰسٓ أَوْ نَحْوَھَا، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّوْرَۃِ یَدْعُو وَیُکَبِّرُ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ قِرَائَ تِہِ أَیْضًا، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ أَیْضًا قَدْرَ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ ذٰلِکَ أَیْضًا حَتّٰی صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَفَعَلَ کَفِعْلِہِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی ثُمَّ جَلَسَ یَدْعُوْ وَیُرَغِّبُ حَتَّی انْکَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذٰلِکَ فَعَلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶)

حنش نامی آدمی کہتا ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے سورۂ یس یا اس جیسی کسی اور سورت کی تلاوت کی، پھراس سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا، : پھر ایک سورت کی مقدار جتنا قیام کیا اور مزید دعا کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر قراء ت کی مقدار کے برابر رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور پھر ایک سورت کے بقدر قیام کیا، اور پھر اسی مقدار کے مطابق رکوع کیا، بہرحال چار رکوع پورے کیے، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،اس کے بعد سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح اس کو ادا کیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بیٹھ گئے اور دعا کرنے لگے، اور (لوگوں کو) رغبت دلانے لگے، حتیٰ کہ سورج صاف ہوگیا، پھر لوگوں کو بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔