سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے…۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نماز خوف اسی طرح ہوتی تھی جس طرح آج کل کے تمہارے پہرہ دار اماموں کے پیچھے ادا کرتے ہیں، البتہ ان کی نماز باری باری ہوتی تھی اور وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کرتے تو پہلی صف والے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور پچھلی صف والے کھڑے رہتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے بعدکھڑے ہوتے تو پچھلی صف والے، جو کھڑے رہے تھے، وہ اپنا سجدے کرتے اور پھر سب (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے اور جب آپ سجدے کرتے تو پہلی رکعت میں جو لوگ کھڑے رہے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور جن لوگوں نے پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے تھے، وہ اب کی بار کھڑے رہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک صف والے سجدوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے تو کھڑے ہوئے لوگ اپنے سجدے کرکے بیٹھ جاتے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو سلام میں جمع کر لیتے۔
سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔
’سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔