سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے…۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
فوائد: …کتنی حیران کن بات ہے کہ دشمنان اسلام کا نظریہ یہ تھا کہ عصر کی نماز مسلمانوں کو ان کی جانوں اور اولادوں سے بھی عزیز ہے اور وہ کبھی بھی اس کو ترک نہیں کریں گے، کاش عصر حاضر کے مسلمان بھی ان حقائق کو سمجھ جاتے۔ یہ پوری آیت پچھلی حدیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔ جب دشمن یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ عصر کی نماز میں مصروف مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دینا ہے، اس وقت بھی آپaنے نماز سے غفلت کو گوارہ نہ کیا، لیکن ہم مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے بانوے ترانوے فیصد لوگ بے نمازی ہیں۔ راجح قول کے مطابق عسفان مقام پر پہلی دفعہ آپaنے نمازِ خوف اس طریقے کے مطابق ادا کی تھی، یہ چھ یا سات سن ہجری کا واقعہ تھا۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نماز خوف اسی طرح ہوتی تھی جس طرح آج کل کے تمہارے پہرہ دار اماموں کے پیچھے ادا کرتے ہیں، البتہ ان کی نماز باری باری ہوتی تھی اور وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کرتے تو پہلی صف والے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور پچھلی صف والے کھڑے رہتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے بعدکھڑے ہوتے تو پچھلی صف والے، جو کھڑے رہے تھے، وہ اپنا سجدے کرتے اور پھر سب (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے اور جب آپ سجدے کرتے تو پہلی رکعت میں جو لوگ کھڑے رہے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور جن لوگوں نے پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے تھے، وہ اب کی بار کھڑے رہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک صف والے سجدوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے تو کھڑے ہوئے لوگ اپنے سجدے کرکے بیٹھ جاتے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو سلام میں جمع کر لیتے۔
سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔
Takhreej
(۲۹۵۱) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، سلیم بن عبد السلولی تفرد بالروایۃ عنہ أبو اسحاق السبیعی أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۳۶۵، والبیھقی: ۳/۲۵۲ (انظر: ۲۳۴۵۴)
Explanation
فوائد: …یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سے ملتی جلتی نماز خوف کی ایک صورت صحیح مسلم (۸۴۰) کی سیّدنا جابرbکی حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ اور یہ حدیث مسند احمد (۲۳۲۶۸، ۲۳۴۳۳) میں بھی صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے، لیکن اس کا سیاق اس سے ذرا مختلف ہے۔
’سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔
Takhreej
(۲۹۵۲) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ (انظر: ۱۴۷۵۱)
Explanation
فوائد: …چھ غزوات سے مراد وہ غزوے ہیں، جن میں لڑائی ہوئی تھی، وہ بالترتیب یہ ہیں: غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، غزوۂ قریظہ، غزوۂ مریسیع، غزوۂ خیبر۔اس باب میں نمازِ خوف کی اس صورت کا ذکر ہے، جس کے مطابق دشمن، اسلامی فوج اور ان کے قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، لوگ دو صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئی اور دوسری دشمن کے مدمقابل رہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والی صف کو ایک رکعت پڑھائی۔ اس کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور دوسری صف والے ان کے مقام پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اٹھ کر ایک ایک رکعت پڑھی اور پھر سلام پھیر کر میدان میں دشمن کے سامنے چلے گئے،وہ لوگ (جائے نماز کی طرف) لوٹے اور آ کر ایک ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔
Takhreej
(۲۹۵۳) تخریـج: …صحیح ، وھذا اسناد منقطع، أبو عبیدۃ لم یسمع من أبیہ عبد اللہ بن مسعود أخرجہ أبوداود: ۱۲۴۴، ۱۲۴۵(انظر: ۳۵۶۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو نماز خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل رہا، پہلا گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا گیا اور دوسرے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اور اُن لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کر لی۔
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ (اس کی تفصیل یہ تھی:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، ہم میں سے ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا کر (نماز شروع کر دی) اور ایک گروہ دشمن پر متوجہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، یہ رکعت نمازِ فجر کے نصف کے برابر تھی، پھر یہ لوگ پھر گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسرا گروہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح ایک رکعت پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو دو گروہوں میں سے ہر بندہ کھڑا ہوا اور علیحدہ علیحدہ دوسجدوں سمیت ایک ایک رکعت ادا کر لی۔
Takhreej
(۲۹۵۵) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …اس روایت سے یہ تو معلوم ہو رہا ہے کہ یہ فجر کی نماز نہیں تھی اور صحیح بخاری کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نمازِ عصر تھی۔
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شرکت کی، پس ہم دشمن کے سامنے آگئے …۔
Takhreej
(۲۹۵۶) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے نماز خوف کا یہ طریقہ ثابت ہوا کہ امام، لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، ایک گروہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا دشمن کے سامنے کھڑا رہے، پہلی رکعت کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کی جگہ پر آجائیں، پھر جب امام سلام پھیرے تو یہ ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ یہ کیفیت اس وقت ہو گی، جب دشمن قبلہ کی سمت میں نہیں ہو گا۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
Takhreej
(۲۹۵۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۶۹ (انظر: ۲۰۶۳، ۲۱۵۹۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پر ہی اکتفا کیا تھا، جبکہ آپaنے دو رکعتیں ادا کی تھیں، سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ انْصَرَفَ ھٰؤُلَائِ اِلٰی مَکَانِ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ أُولٰئِکَ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَۃً وَلَمْ یَقْضُوْا۔ یعنی: پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی جگہ پر چلا گیا اور وہ اِدھر آ گئے، آپaنے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضائی نہیں دی۔ یہ مسئلہ درج ذیل حدیث، جو نماز خوف والے ابواب کے شروع میں گزر چکی ہے، سے بھی ثابت ہوتا ہے: عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْVعَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسلم: ۶۸۷) سیّدنا عبد اللہ بن عباسbکہتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمaکی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔
Takhreej
(۲۹۵۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۷۴ (انظر: ۱۴۱۸۰)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کر دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
فائدہ: …ممکن ہے کہ اس حدیث میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جو سیّدنا ابو عیاش زرقیbکی حدیث میں بیان ہو چکا ہے، اگر یہ تسلیم کیا جائے تو پھر مقتدیوں کی بھی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بہرحال دوسری احادیث سے صرف ایک رکعت کا ثبوت بھی فراہم ہو چکا ہے۔
مخمل بن دماث کہتے ہیں: میں سعید بن عاص کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھا، انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ یہ لوگ (ایک رکعت پڑھ کر) دشمن کے بالمقابل اپنے ساتھیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک ۔
Takhreej
(۲۹۶۰) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، مُخمِل بن دماث تفرد بالروایۃ عنہ عطیۃ بن الحارث، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، فھو مجھول الحال۔ أخرجہ أبوداود مختصرا: ۱۲۴۶، والنسائی: ۳/ ۱۶۷، ۱۶۸ (انظر: ۲۳۲۶۸، ۲۳۳۵۲)
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ خوف ایک رکعت بھی ادا کی جا سکتی ہے، چونکہ کئی موقعوں پر آپaنے اپنے مقتدیوں کو دو دو رکعتیں بھی پڑھائیں، اس لیے یہ تأویل کرنا بہتر ہے کہ جب شدتِ خوف ہو اور دشمن کی طرف سے کسی حملے کا واقعی خطرہ ہو تو امام لوگوں کو ایک ایک رکعت پڑھا دے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ اتنی دیر بیٹھے رہے، کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالکk کہتے ہیں:نماز خوف کے بارے جو کچھ میں نے سنا ہے اس میں سے صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
فوائد: …واقعی یہ بڑی دلچسپ صورت ہے، جو ہمارے اسلام کے موقع شناس ہونے پر دلالت کرتی ہے۔پہلا گروہ دوسری رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد اور سلام سے فارغ ہو کر جائے گا، جیسا کہ ابو داود کی روایت کے الفاظ ہیں: وَأَتَمُّوْا لِأَنْفُسِھِمُ الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ثُمَّ سَلَّمُوْا وَانْصَرَفُوْا وَالْاِمَامُ قَائِمٌ۔ یعنی: اور انھوں نے دوسری رکعت پڑھی، سلام پھیرا اور پھر چلے گئے، جبکہ امام (نبی کریمa) کھڑے رہے۔ دوسرا گروہ امام کے ساتھ سلام پھیرے گا اور امام ان کے سلام کا انتظار کرے گا، جیسا کہ اگلی حدیث کے ایک طریق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ جب مختلف منزلوں پر مشتمل مسجد میں خواتین و حضرات نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں اور سپیکر کے بند ہو جانے کی وجہ سے مقتدیوں کا امام کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں ایسے مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ امام کی اقتدا سے نکل کر نماز کا بقیہ حصہ خود ادا کر لیں، جیسا کہ اِس صورت میں صحابۂ کرام نے دوسری رکعت میں کیا۔
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: امام نماز کے لیے کھڑا ہو جائے گا اور ایک صف اس کے پیچھے اور ایک صف اس کے آگے (یعنی دشمن کے سامنے) کھڑی ہو جائے گی۔ امام اپنے پیچھے والے لوگوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے گا، اس کے بعد وہ کھڑا رہے گا، یہاں تک کہ یہ لوگ از خود دوسری رکعت پڑھ لیں۔ ایک روایت میں ہے: پھر امام اپنی جگہ پر بیٹھ جائے یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت اور دوسجدے پورے کر کے اپنے ساتھیوں کے مقام پر چلے جائیں اور وہ آ کر (امام کے پیچھے) پہلے والوں کی جگہ پر کھڑے ہو جائیں، پس وہ ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے اور پھر بیٹھ جائے گا، یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت از خود ادا کر لیں، پھر امام ان پر سلام پھیر دے۔
فوائد: …ایک روایت میں ہے کہ امام کھڑے ہو کر انتظار کرے اور دوسری میں ہے کہ بیٹھ کر انتظار کرے، ان میں جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ جب تک پہلا گروہ دوسری رکعت ادا کرتا رہے، امام بیٹھا رہے اور جب وہ چلا جائے تو امام کھڑے ہو کر دوسرے گروہ کے آنے کا انتظار کرے۔
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے آ کر ان کے مقام پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
فوائد: …آپaکی چار رکعات میں فرض نماز تو دو رکعت ہی تھی، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب امام نفل پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا میں فرض پڑھے جا سکتے ہیں، کیونکہ رسول اللہaجب دوسرے گروہ کو امامت کروا رہے تھے تو وہ آپaکی نفلی نماز تھی۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی نخل میں محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔ جب ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا مشاہدہ کیا تو ایک دشمن غورث بن حارث موقعہ پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر تلوار لیے آ پہنچا اور بولا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ۔ اتنے میںتلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، اب کی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ وہ بولا: آپ اس تلوار کو پکڑنے والے بہترین آدمی بن جائیں (یعنی مجھ پر احسان کریں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ کے مقابلے میں آئوں گا اور نہ آپ کے ساتھ لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور جا کر کہا: میں بہترین آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔ پھر جب ظہر یا عصر کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی۔ لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا اور دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر یعنی دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ نماز کے لیے آ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار۔
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
Takhreej
(۲۹۶۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …امام نووی کہتے ہیں کہ طحادی نے نمازِ خوف کی اس صورت کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر ان کا یہ دعویٰ ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کے نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔محارب، خصفہ کا بیٹا تھا اور خصفہ بن قیس کی چوتھی پشت پر مضر کا نام آتا تھا، قیس کی اولاد کے محاربی لوگ اسی محارب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ یہ لڑائی غزوۂ ذات الرقاع کے موقع پر ہوئی۔اس واقعہ سے آپ کے حسن اخلاق کا بھی چلتا ہے کہ آپaنے اپنے جانی دشمن کو اس قدر فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا اور اس سے انتقام نہ لیا۔
مروان بن حکم نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے پوچھا: کب؟ انھوں نے کہا: غزوہ نجد کے موقع پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے، اِس گروہ کی پشت قبلہ کی جانب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والی صف نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے کئے تو انہی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔ اس دوران دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے بعد (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو یہ لوگ سجدوں سے اٹھ کر دشمن کے سامنے چلے گے اور وہ گروہ اِ س گروہ کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) آ گیا، اِن لوگوں نے آ کر (پہلی رکعت کے) رکوع اور سجدے کیے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت ادا کی اور ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدے کیے، پھر دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والا گروہ آیا اور (دوسری رکعت) کے رکوع و سجود ادا کیے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے نمازی بیٹھے رہے، پھر سلام تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی دو رکعتیں تھیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کی بھی دو دو رکعتیں تھیں۔
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ پہلی رکعت کے قیام میں ایک گروہ کی اور دوسری رکعت کے قیام میں دوسرے گروہ کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ کاش ان صورتوں سے بے نمازی لوگوں کو بھی شرم و حیا آ جاتا۔ غزوۂ نجد، غزوۂ ذات الرقاع ہی ہے، کیونکہ یہ نجد کی زمین میں تھا۔