TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا

Chapter 3 of نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 8 · 3 Hadith
۔ (۲۹۵۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ بِذِی قَرَدٍ، أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ صَفٌّ مُوَازِی الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِالصَّفِّ الَّذِی یَلِیِْہِ رَکْعَۃً ثُمَّ نَکَصَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ ، وَہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً أُخْرٰی (زَاد فی روَایۃ) فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکَعَتَیْنِ وَلِکُلِّ طَائِفَۃٍ رَکَعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
Takhreej
(۲۹۵۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۶۹ (انظر: ۲۰۶۳، ۲۱۵۹۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پر ہی اکتفا کیا تھا، جبکہ آپaنے دو رکعتیں ادا کی تھیں، سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ انْصَرَفَ ھٰؤُلَائِ اِلٰی مَکَانِ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ أُولٰئِکَ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَۃً وَلَمْ یَقْضُوْا۔ یعنی: پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی جگہ پر چلا گیا اور وہ اِدھر آ گئے، آپaنے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضائی نہیں دی۔ یہ مسئلہ درج ذیل حدیث، جو نماز خوف والے ابواب کے شروع میں گزر چکی ہے، سے بھی ثابت ہوتا ہے: عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْVعَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسلم: ۶۸۷) سیّدنا عبد اللہ بن عباسbکہتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمaکی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
2957
Sahih
۔ (۲۹۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَیْنَ یَدَیْہِ وَصَفٌّ خَلْفَہُ، فَصَلّٰی بِالَّذِی خَلْفَہُ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ ہٰؤُلَائِ حَتّٰی قَامُوْا فِی مَقَامِ أَصْحَابِہِمْ وَجَائَ أُوْلٰئِکَ حَتّٰی قَامُوْا مَقَامَ ہٰؤُلَائِ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ وَلَہُمْ رَکْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۲۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔
Takhreej
(۲۹۵۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۷۴ (انظر: ۱۴۱۸۰)
2958
Sahih
۔ (۲۹۵۹) عَنْ أَبِی ہُرَْیرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ بَیْنَ ضَجْنَانَِ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّ لَہُمْ صَلَاۃً ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَاَبْنَائِہِمْ وَہِیَ الْعََصْرُ، فَأَجْمِعُوْا أَمْرَکُمْ فَمِیْلُوْا عَلَیْہِمْ مَیْلَۃً وَاحِدَۃً، وَأِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَہُ أَنْ یَقْسِمَ أَصْحَابَہٗ شَطْرَیْنِ فَیُصَلِّیَ بِبَعْضِہِمْ، وَتَقُوْمُ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی وَرَائَ ہُمْ، وَلْیَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ، ثُمَّ تَأْتِیْ الأُخْرَی فَیُصَلُّوْنَ مَعَہُ وَیَأْخُذُ ہٰؤُلَائِ حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ لِتَکُوْنَ لَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۵)
ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کر دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
Takhreej
(۲۹۵۹) تخریـج: …اسنادہ جیّد أخرجہ الترمذی: ۳۰۳۵، والنسائی: ۳/ ۱۷۴ (انظر: ۱۰۷۶۵)
Explanation
فائدہ: …ممکن ہے کہ اس حدیث میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جو سیّدنا ابو عیاش زرقیbکی حدیث میں بیان ہو چکا ہے، اگر یہ تسلیم کیا جائے تو پھر مقتدیوں کی بھی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بہرحال دوسری احادیث سے صرف ایک رکعت کا ثبوت بھی فراہم ہو چکا ہے۔
2959
Sahih

Chapters

8
01
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
6 Hadith
02
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
4 Hadith
03
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
3 Hadith
04
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
3 Hadith
05
نماز خوف کی پانچویں صورت امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
3 Hadith
06
نمازِ خوف کی چھٹی صورت دونوں گروہوں کا قیام اور سلام میں امام کے ساتھ شریک ہونا
1 Hadith
07
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
1 Hadith
08
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
2 Hadith
No chapter matched that.