سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کر دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔