TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا

Chapter 8 of نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 8 · 2 Hadith
۔ (۲۹۶۸) عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجَْمُع لِیَ النَّاسَ لِیَغْزُوْنِی وَہُوَ بِعُرَنَۃَ، فَأْتِہِ فَاقْتُلْہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْعَتْہُ لِی حَتّٰی أَعْرِفَہُ، قَالَ: ((إِذَا رَأَیْتَہُ وَجَدْتَّ لَہُ قُشَعْرِیْرَۃً۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَیْفِی حَتّٰی وَقَعْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ بِعُرَنَۃَ مَعَ ظُعُنٍ یَرْتَادُ لَہُنَّ مَنْزِلاً، وَحِیْنَ کَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ وَجَدْتُّ مَا وَصَفَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْقُشْعْرِیْرَۃِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَہُ وَخَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ مُحَاوَلَۃٌ تَشْغَلُنِیِ عَنِ الصَّلَاۃِ ، فَصَلَّیْتُ وَأَنا أَمْشِی نَحْوَہُ أُوْمِیُٔ بِرَأْسِی الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِکَ وَبِجَمْعِکَ لِہَذَا الرَّجُلِ، فَجَائَ کَ لِہَذَا، قَالَ: أَجَلَ أَناَ فِی ذَالِکَ، قَالَ: فَمَشَیِتُ مَعَہُ شَیْئًا، حَتّٰی إِذَا أَمْکَنَنِیِ، حَمَلْتُ عَلَیْہِ السَّیْفَ، حَتّٰی قَتَلْتُہُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَکْتُ ظَعَائِنَہُ مُکِبَّاتٍ عَلَیْہِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآنِی فَقَالَ: ((أَفْلَحَ الْوَجْہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح میرے مقابلہ کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت عُرَنَہ مقام میں ہے، تم جا ؤ اور اسے قتل کر دو ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کوئی علامت بیان فرمائیں ،تاکہ میں پہچان لوں کہ یہ وہی شخص ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو اس کی وجہ سے ایک دفعہ تم پر جھرجھری طاری ہو گی۔ پس میں نے تلوار لی اور اس کے پاس جا پہنچا۔ وہ واقعی عرنہ مقام میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا اور وہ ان کے لیے جگہ بنا رہا تھا۔ اُدھر نمازِ عصر کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے مطابق مجھ پر جھرجھری طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے جو نماز سے غافل کر دے۔ اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے ہی نماز پڑھنا شروع کر دی، اشارے سے رکوع و سجود کرتا گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں کہا : ایک عربی ہوں، آپ کے بارے سنا ہے کہ آپ اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کے مقابلے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہے ہو، اسی لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں، اس نے کہا: جی ہاں، میں اسی کوشش میں ہوں۔ پس میں اس کے ساتھ چلتا رہا، جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا اور اس حال میں وہاں سے نکل آیا کہ اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: کامیاب رہے ہو۔ میں عرض کیا: اے رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک کہتے ہو۔ الحدیث۔
Takhreej
(۲۹۶۸) تخریـج: …ابن عبد اللہ بن أنیس، ھو عبد اللہ بن عبدا للہ، لم یذکروا فیہ جرحا ولا تعدیلا لیکن یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے، شرح میں اس کی تفصیل دیکھیں۔ أخرجہ أبو یعلی: ۹۰۵، وابن خزیمۃ: ۹۸۳، وابن حبان: ۷۱۶۰، وأخرجہ مختصرا أبوداود: ۱۲۴۹ (انظر: ۱۶۰۴۷)
2968
Sahih
۔ (۲۹۶۹) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَکَ إِنَّ ہَاجَہُمْ ہَیْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ الْقِتَالُ وَالْکَلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۷)
سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔
Takhreej
(۲۹۶۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، سلیم بن عبد السلولی تفرد بالروایۃ عنہ أبو أِسحاق السبیعی تقدم مطوّلا برقم: ۱۷۳۴ (انظر: ۲۳۴۵۴)
2969
Zaeef

Chapters

8
01
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
6 Hadith
02
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
4 Hadith
03
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
3 Hadith
04
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
3 Hadith
05
نماز خوف کی پانچویں صورت امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
3 Hadith
06
نمازِ خوف کی چھٹی صورت دونوں گروہوں کا قیام اور سلام میں امام کے ساتھ شریک ہونا
1 Hadith
07
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
1 Hadith
08
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
2 Hadith
No chapter matched that.