سیّدنا مطر بن عکامس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی علاقے میں موت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے کی طرف کوئی حاجت بنا دیتا ہے (اور وہ اس کے بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے)۔
(دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کے لیے کسی علاقے میں وفات کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اس کو اس آدمی کا پسندیدہ علاقہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے اس کی طرف کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔
سیّدنا ابوعزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔