مسنداحمد

Musnad Ahmad

جنازہ کے احکام و مسائل

اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان


۔ (۳۰۲۵) عَنْ أَبِی عَزَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوْحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ فِیْہَا أَوْقاَل بِہَا حَاجَۃً)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۴)

سیّدنا ابوعزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۰۲۵) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۷ (انظر: ۱۵۵۳۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …سیّدنا عبد اللہ بن مسعود bبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((إِذَاکَانَ أَجَلُ أَحَدِکُمْ بِاَرْضٍ، أَثْبَتَ اللّٰہُ لَہٗ إِلَیْھَا حَاجَۃً، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِہٖ تَوَفَّاہُ، فَتَقُوْلُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَارَبِّ! ھٰذَا مَااسْتَوْدَعْتَنِيْ۔)) (ابن ماجہ: ۲/۵۶۶، الصحیحۃ: ۱۲۲۲) یعنی: ’’آدمی نے زمین کے جس (علاقے) میں مرنا ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اس علاقے تک پہنچنے کے لیے کسی حاجت (کا بہانہ) بنا دیتے ہیں۔ جب وہ آدمی اپنی (زندگی) کے آخری نشانات تک پہنچتا ہے تو اسے موت آجاتی ہے۔ قیامت کے دن زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ (وہ بندہ) ہے جو تو نے مجھے سونپا تھا۔‘‘ ہر کسی کی موت کے زمان و مکاںکا فیصلہ ہو چکا ہے، ہر کسی کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنتا ہے اور وہ اپنی جائے موت تک پہنچ جاتا ہے۔