TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان - میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان - میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 5 · 10 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۰۴۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُیُوْبَ، وَلَطَمَ الْخُدُوْدَ، وَدَعٰی بَدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ)) (مسند احمد: ۴۱۱۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا گریبان چاک کرے،رخسار پیٹے اور جاہلیت والی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔
Takhreej
(۳۰۴۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۹۸، ۳۵۱۹، ومسلم: ۱۰۳(انظر: ۴۱۱۱)
3046
Sahih
۔ (۳۰۴۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِلَفْظِ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُوْدَ، أَوْ شَقَّ الْجُیُوْبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۶۱)
(دوسری سند)جو شخص رخسار پیٹے، یا گریبان چاک کرے یا جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔
Takhreej
(۳۰۴۷)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …’’وہ ہم سے نہیں ہے۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپaکی سنت یا مکمل دین پر نہیںہے، یہ معنی نہیں کہ وہ دین سے خارج ہو گیا ہے۔
3047
Sahih
۔ (۳۰۴۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَائَ الْأَنْصَارِ یَبْکِینَ عَلٰی أَزْوَاجِہِنَّ، فَقَالَ: ((لٰکِنْ حَمْزَہُ لَا بَوَاکِیَ لَہُ۔)) فَبَلَغَ ذَالِکَ نِسَائَ الْأَنْصَارِ فَجِئْنَ یَبْکِیْنَ عَلٰی حَمْزَہَ ۔ قَالَ: فَانْتَبَہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَسَمِعَہُنَّ وَہُنَّ بَیْکِیْنَ فَقَالَ: ((وَیَحَہُنَّ، لَمْ یَزَلْنَ یَبْکِیْنَ مُنْذُ اللَّیْلَۃِ مُرُوْہُنَّ فَلْیَرْجِعْنَ وَلَا یَبْکِیْنَ عَلٰی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۶۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب احد سے واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصاری خواتین کی آواز سنی، جو اپنے شوہروں کی شہادت پر رو رہی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ، اس کے لیے تو رونے والیاں کوئی نہیں ہیں۔ جب یہ بات انصاری خواتین کو پہنچی تو وہ آئیں اور سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر رونے لگیں۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوئے اور ان کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان پر افسوس ہے، یہ رات سے روتی رہیں، ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کوئی کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔
Takhreej
(۳۰۴۸) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۹۱(انظر: ۵۵۶۳)
Explanation
فوائد: …’’وَیْح‘‘ کا لفظ کبھی رحمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی عذاب کے لیے، سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ شروع میں اس قسم کا رونا جائز تھا، بعد میں آپaنے اس سے منع فرما دیا۔
3048
Sahih
۔ (۳۰۴۹) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أُغْمِیَ عَلٰی أَبِی مَوْسَی الأَشْعَرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَبَکَوْا عَلَیْہِ، فَقَالَ: إِنِّی بَرِیْئٌ مِمَّنْ بَرِیَٔ مِنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ فَسَأَلُوْا عَنْ ذَالِکَ اِمْرَأَتَہُ، فَقَالَتْ: مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۶۸)
یزید بن اوس کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب لوگ رونے لگے تو انہوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے براء ت کا اظہار کیا ، میں بھی اس سے بری ہوں۔ لوگوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ (رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کن لوگوں سے براء ت کا اظہار کیا)۔ اس نے کہا: جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے، یا دامن پھاڑے یا ممنوعہ الفاظ کہتے ہوئے بلند آواز میں روئے۔
Takhreej
(۳۰۴۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۱۰۴(انظر: ۱۹۵۳۵، ۱۹۵۳۹)
3049
Sahih
۔ (۳۰۵۰) عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: أُغْمِی عَلٰی أَبِی مَوْسٰی فَبَکُوْا عَلَیْہِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ: إِنِّیْ أَبْرَأُ إِلَیْکُمْ مِمَّنْ بَرِیَٔ مِنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۶۹)
صفوان بن محرز کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، لوگ رونے لگے۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے براء ت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں، یعنی اس سے جو (مصیبت کے وقت) سرمنڈائے یا کپڑے پھاڑے یا بلند آواز سے واویلا کرے۔
Takhreej
(۳۰۵۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۷۰
Explanation
فوائد: …صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ رو رہے تھے، اس وقت سیّدنا ابو موسیbمیں ان کا ردّ کرنے کی طاقت نہیں تھی، بعد میں جب افاقہ ہوا تو انھوں نے شرعی حکم کی وضاحت کر دی۔
3050
Sahih
۔ (۳۰۵۱) عَنْ أُمِّ عَطِیْۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الآیَۃُ {یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا …اِلٰی قَوْلِہٖ… وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِی مَعْرُوْفٍ} قَالَتْ: کَانَ مِنْہُ النِّیَاحَۃُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِلَّا آلَ فُلَانِ وَإِنَّہُمْ قَدْ کَانُوْا أسْعَدُوْنِیْ فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ فَـلَا بُدَّ لِیْ مِنْ أَنْ اُسْعِدَہُمْ۔ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَّا آلَ فُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۷۷)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ ان معروف کاموں میں سے ایک نوحہ بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔
Takhreej
(۳۰۵۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۸۹۲، ۷۲۱۵، ومسلم: ۹۳۷(انظر: ۲۰۷۹۶)
Explanation
فوائد: …اس حدیث میں آپaنے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ c کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہc کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
3051
Sahih
۔ (۳۰۵۲) عَنْ حَفْصَہَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: بَایَعْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخَذَ عَلَیْنَا فِیْمَا أَخَذَ أَنْ لَّا نَنُوْحَ، فَقَالَتِ امْرَأَ ۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُوْنِیْ فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفِیْہِمْ مَأْتَمٌ فَـلَا أُٔبَایِعُکَ حَتّٰی أُسْعِدَہُمْ کَمَا أَسْعَدُوْنِیْ فَقَالَ: فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَافَقَہَا عَلٰی ذَالِکَ فَذَہَبَتْ فَأَسْعَدَتْہُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَایَعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ فَمَاوَفَتِ امْرَأَۃٌ مِنَّا غَیْرُ تِلْکَ، وَغَیْرُ أُمِّ سُلَیْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۵۰)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔
Takhreej
(۳۰۵۲) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۷۲
Explanation
فوائد: …مجموعۂ روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس عورت کو مبہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد سیدہ ام عطیہ cخود ہیں۔
3052
Sahih
۔ (۳۰۵۳) عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ تَعْنِی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ عَلَیْنَا فِی الْبَیْعَۃِ أَنْ لَا نَنُوْحَ فَمَا وَفَتِ أمْرَأَۃٌ مِنَّا، غَیْرُ خَمْسٍ أُمُّ سُلَیْمٍ وَامْرَأَۃُ مُعَاذٍ وَابْنَۃُ أَبِی سَبْرَۃَ، وَامْرَأَۃٌ أُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۸۴۸)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت اس بات کا عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ بھی نہیں کریں گی۔ ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا تھا: ام سلیم، زوجۂ معاذ، بنت ِ ابو سبرہ اور ایک اور خاتون۔
Takhreej
(۳۰۵۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۳۶ (انظر: ۲۷۳۰۵)
Explanation
فوائد: …پانچویں خاتون سیدہ ام عطیہ cخود تھیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جن عورتوں نے آپaکی بیعت کی تھی، ان میں سے پانچ نے پوری طرح اس عہد کو نبھایا تھا۔
3053
Sahih
۔ (۳۰۵۴) عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَا جَائَ نَعْیُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ، جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْرَفُ فِی وَجْہِہِ الْحُزْنُ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ نِسَائَ جَعْفَرٍ فَذَکَرَ مِنْ بُکَائِہِنَّ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَنْھَاہُنَّ فَذَہَبَ الرَّجَلُ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: قَدْ نَہَیْتُہُنَّ وَإِنَّہُنَّ لَمْ یُطِعْنَہُ حَتّٰی کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُحْثُوْا فِی وُجُوْہِہِنَّ التَّرَابَ۔)) فقَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : قُلْتُ: أَرْغَمَ اللّٰہُ بِأَنْفِکَ، وَاللّٰہِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا قَالَ لَکَ وَلَا تَرَکْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر بن ابی طالب، سیّدنازید بن حارثہ اور سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک آدمی نے آ کر کہا:اے اللہ کے رسول! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کو روکے۔ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا: میں نے انہیں منع تو کیا ہے، لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے جو حکم دیا، نہ تو تو نے اس پر عمل کیا اور نہ تو نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوا۔
Takhreej
(۳۰۵۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۹۹، ۳۰۵ٍ۱، ۴۲۶۳، ومسلم: ۹۳۵ (انظر: ۲۴۳۱۳)
Explanation
فوائد: …یہ تینوں صحابہ آٹھ سن ہجری میں ہونے والے غزوۂ مؤتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ آپaکا کہنا: ’’تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔‘‘ اس سے مراد رونے پر مبالغہ کے ساتھ انکار کرنا اور منع کرنا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدہ عائشہ cکے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو چاہیے تھا کہ آپaکے حکم پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو رونے سے روکتا، وگرنہ چپ ہو جاتا اور آپaکو مزید پریشان نہ کرتا۔
3054
Sahih
۔ (۳۰۵۵) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَا مَاتَ أَبُوْ سَلَمَۃَ قُلْتُ: غَرِیْبٌ وَمَاتَ بَأَرْضِ غُرْبَۃٍ، فَأَفَضْتُ بُکَائً فَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ تُرِیْدُ أَنْ تُسْعِدَنِی مِنَ الصَّعِیْدِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((تُرِیدِیْنَ أَنْ تُدْخِلِی الشَّیْطَانَ بَیْتًا قَدْ أَخْرَجَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہُ۔)) قَالَتْ: فَلَمْ أَبْکِ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰۵)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: پردیسی تھا اور پردیس میں فوت ہو گیا، پس میں رو پڑی۔ (مدینہ کی) بالائی بستیوں سے ایک خاتون آئی، اس کا ارادہ تھا کہ (نوحہ کرنے میں) میری مدد کرے گی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس گھر سے شیطان کونکال دیا ہے تم دوبارہ اس کو وہاں داخل کرنا چاہتی ہو۔ پس یہ سن کر میں نہ روئی۔
Takhreej
(۳۰۵۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۲۲ (انظر: ۲۶۴۷۲)
Explanation
فوائد: …سیدہ ابو سلمہ b مکہ مکرمہ سے تعلق رکھتے تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی اہلیہ پردیس سے یہی کچھ مراد لے رہی ہیں۔
3055
Sahih