مسنداحمد

Musnad Ahmad

میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب

میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان


۔ (۳۰۵۲) عَنْ حَفْصَہَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: بَایَعْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخَذَ عَلَیْنَا فِیْمَا أَخَذَ أَنْ لَّا نَنُوْحَ، فَقَالَتِ امْرَأَ ۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُوْنِیْ فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفِیْہِمْ مَأْتَمٌ فَـلَا أُٔبَایِعُکَ حَتّٰی أُسْعِدَہُمْ کَمَا أَسْعَدُوْنِیْ فَقَالَ: فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَافَقَہَا عَلٰی ذَالِکَ فَذَہَبَتْ فَأَسْعَدَتْہُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَایَعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ فَمَاوَفَتِ امْرَأَۃٌ مِنَّا غَیْرُ تِلْکَ، وَغَیْرُ أُمِّ سُلَیْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۵۰)

سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۰۵۲) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۷۲
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …مجموعۂ روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس عورت کو مبہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد سیدہ ام عطیہ cخود ہیں۔