TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان - پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 12 · 3 Hadith
۔ (۳۶۰)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْہُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا: نَشْہَدُ الْفَجْرَ مَعَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَعَکَ مَائٌ؟۔)) قُلْتُ: لَیْسَ مَعِیَ مَائٌ وَلَکِنْ مَعِیَ اِدَاوَۃٌ فِیْھَا نَبِیْذٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔))، فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۴۲۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنّوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔
Takhreej
(۳۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی زید مولی عمرو بن حریث ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۴، والترمذی: ۸۸، ابن ماجہ: ۳۸۴(انظر: ۴۲۹۶)
Explanation
فوائد:… میرے پاس الفتح الربانی والے نسخے میں ثَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے۔ لیکن ابو داود اور ترمذی میں تَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ معنی دونوں لحاظ سے درست بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
360
Zaeef
۔ (۳۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَعَکَ طَہُوْرٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَمَا ھٰذَا فِی الْاِدَاوَۃِ؟)) قُلْتُ: نَبِیْذٌ، قَالَ: ((أَرِنِیْہَا، ثَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔)) فَتَوَضَّأَ مِنْہَا وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۴۳۰۱)
۔ (دوسری سند) سیدناابن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
Takhreej
(۳۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
361
Zaeef
۔ (۳۶۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَبْدَاللّٰہِ! أَمَعَکَ مَائٌ؟)) قَالَ: مَعِیَ نَبِیْذٌ فِیْ اِدَاوَۃٍ، فَقَالَ: ((اُصْبُبْ عَلَیَّ۔)) فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (یَاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! شَرَابٌ طَہُوْرٌ)) (مسند أحمد)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔
Takhreej
(۳۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، یہ نبیذ انگور سے بھی تیار کی جاتی ہے۔ جب یہ مشروب جوش مارنے لگے تو وہ شراب بن جاتا ہے، جس کا پینا مومنوں پر حرام ہے۔یہ حدیث ضعیف ہے، بہرحال نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ مائے مطلق نہیں ہے، درج ذیل بحث کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: {فَلَمْ تَجِدُوْا مَائً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} … جب تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ (سورۂ نساء:۴۳) ، نیز فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً طَھُوْرًا} … ہم نے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ (سورۂ فرقان: ۴۸)، مزید ارشاد ہے: {ویُنَزِّل عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَائِ مَائً لِیُطَھِّرَکُمْ بِہِ} (الانفال: ۱۱) یعنی اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کردے ۔ ان آیاتِ مبارکہ میں مائِ مطلق (مطلق پانی) کا ذکر ہے‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کسی پانی پر مائِ مطلق کا اطلاق ہو سکتا ہو‘ اس وقت تک وہ طاہر (پاک) اور مطہِّر (پاک کرنے والا) ہو گا‘ بشمول امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کے جمہور کا یہی مسلک ہے‘ لیکن جب پانی کو کسی وصف کی طرف منسوب کیا جائے‘ جیسے لیموں کا پانی‘ گلاب کے پھول کا پانی‘ انگور کا پانی‘ کھجور کا پانی وغیرہ‘ تو ایسی صورت میں وہ مائِ مطلق نہیں رہے گا‘ جس سے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر پانی میں کوئی طاہر چیز اتنی معمولی مقدار میں پائی جائے کہ اس پانی پر ماء مطلق کا اطلاق ختم نہ ہو سکے‘ تو وہ پانی اس قابل ہو گا کہ اس سے وضوء اور غسل کیا جائے‘ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ((عَنْ اُمِّ ھَانِیٍٔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِغْتَسَلَ ھُوَ وَمَیْمُوْنَۃُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فِیْ قَصْعَۃٍ فِیْھَا اَثَرُ الْعَجِیْنِ))سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اورآپ کی بیوی میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایسے ٹب میں غسل کیا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کے نشانات تھے ۔ (ابن ماجہ:۳۷۸، نسائی: ۲۴۱، مسند احمد: ۶/۳۴۲) یعنی آٹے کے آثار اتنی معمولی مقدار میں تھے کہ اس پانی کو آٹے والا پانی نہیں، بلکہ مائِ مطلق کہا جا سکتا تھا، جیسا کہ شیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانیؒ نے کہا: یدل علی ان الطاھر القلیل لا یخرج الماء عن الطھوریۃ۔ (اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ قلیل مقدار میں طاہر چیز کے مل جانے سے پانی مطہِّر ہی رہتا ہے۔) (التعلیقات السلفیۃ: ۱/۳۰) امام شوکانی نے کہا: کسی پاک چیز کے ملنے کی وجہ سے جس پانی پر مائِ مطلق کا نام نہ بولا جا سکے بلکہ اس پر کوئی خاص نام بولا جاتا ہو، مثلًا گلاب کا پانی وغیرہ تو وہ فی نفسہ تو طاہر ہو گا، لیکن دوسروں کیلئے مطھِّر نہیں ہو گا۔ (السیل الجرار: ۱/۵۶)امام ابن حزم نے کہا: جب تک پانی پر ماء (مطلق پانی) کا لفظ بولا جا سکتا ہو اس وقت تک وہ طاہر ومطہِّر رہے گا ۔ (المحلی بالآثار: ۱/۱۹۳) نتیجہ بحـث :…انگور کا پانی اور نبیذ وغیرہ خود تو پاک ہے، لیکن ان سے وضوء یا غسل کر کے پاکیزگی حاصل نہیں کی جاسکتی‘ کیونکہ ان پر مطلق ماء (پانی) کے لفظ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا‘ قاضی خاں حنفی نے بھی اسی فتوے کی تائید کی۔امام ابوحنیفہ کامسلک یہ ہے کہ جب نبیذ اس قدر پتلی ہو کہ اعضا پر بہہ سکتی ہو اور میٹھی ہو، نشہ آور نہ ہو، تو آدمی اس کے ساتھ وضو کر لے اور تیمم نہ کرے۔ لیکن امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ تیمم کر لینا چاہیے اور نیبذ کے ساتھ وضو نہیں کرنا چاہیے، جمہور اور باقی ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ امام طحاوی نے بھی اسی کو اختیار کیا اور کہا: امام ابو حنیفہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکی حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے شروع شروع میں (نبیذ کے ساتھ وضو کرنے کی) جو رائے اختیار کی تھی، اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔
362
Zaeef