مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان

۔ (۳۶۰)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْہُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا: نَشْہَدُ الْفَجْرَ مَعَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَعَکَ مَائٌ؟۔)) قُلْتُ: لَیْسَ مَعِیَ مَائٌ وَلَکِنْ مَعِیَ اِدَاوَۃٌ فِیْھَا نَبِیْذٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔))، فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۴۲۹۶)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنّوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔

۔ (۳۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَعَکَ طَہُوْرٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَمَا ھٰذَا فِی الْاِدَاوَۃِ؟)) قُلْتُ: نَبِیْذٌ، قَالَ: ((أَرِنِیْہَا، ثَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔)) فَتَوَضَّأَ مِنْہَا وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۴۳۰۱)

۔ (دوسری سند) سیدناابن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔

۔ (۳۶۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَبْدَاللّٰہِ! أَمَعَکَ مَائٌ؟)) قَالَ: مَعِیَ نَبِیْذٌ فِیْ اِدَاوَۃٍ، فَقَالَ: ((اُصْبُبْ عَلَیَّ۔)) فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (یَاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! شَرَابٌ طَہُوْرٌ)) (مسند أحمد)

۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔