سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنّوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدناابن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔