سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
۔ (دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔
عبد اللہ بن مغیرہ کنانی کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۳۵۶) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۳۰، والحاکم: ۱/ ۱۴۱، عبد الرزاق: ۳۲۱ (انظر: ۲۳۰۹۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۳۵۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۸(انظر: ۱۵۰۱۲)
Explanation
فوائد:… عام طور پر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے ، دوسرے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو شبہ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شبہ کا ازالہ کر دیا اور اس کی ضرورت کے مطابق سمندر کے مردار کے حلال ہونے کی بھی وضاحت کر دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی اور عالم کو اتنا فہیم ہونا چاہیے کہ وہ سائل کے سوال کے مقصد اور اس کے متعلقات کو سمجھ سکے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ جس شخص کو سمندر کے پانی کے بارے میں شک پڑ رہا ہے، وہ لامحالہ طور پر اس کے مردار کے بارے متردّد ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے حکم کی بھی وضاحت کر دی، یہ چیز فتوی کے محاسن میں سے ہے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام سمندری حیوانات، جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں، حلال ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان عام ہے، جو ہر سمندری کو شامل ہے، نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ} … تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۶)البتہ امام ابو حنیفہ صرف مچھلی کے مردار کو ہی حلال سمجھتے ہیں۔
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۵۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ الدارقطنی:۱/۳۵، والحاکم: ۱/۱۴۰(انظر:۲۵۱۸)
سیدنا علی ؓ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طوافِ افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: اے بنو عبد المطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔
Takhreej
(۳۵۹) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۳۴۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ زمزم کے پانی سے وضو کرنا درست ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پانی کھینچتے تو لوگ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی اور حج سے متعلقہ سنت سمجھ کر ایسا کرنے پر ٹوٹ پڑتے اور بنو عبد المطلب اس سعادت سے محروم ہو جاتے۔ اور افراتفری پیدا ہوتی ہے اور نظام بھی خراب ہوتا۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنّوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔
Takhreej
(۳۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی زید مولی عمرو بن حریث ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۴، والترمذی: ۸۸، ابن ماجہ: ۳۸۴(انظر: ۴۲۹۶)
Explanation
فوائد:… میرے پاس الفتح الربانی والے نسخے میں ثَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے۔ لیکن ابو داود اور ترمذی میں تَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ معنی دونوں لحاظ سے درست بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
۔ (دوسری سند) سیدناابن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔
Takhreej
(۳۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، یہ نبیذ انگور سے بھی تیار کی جاتی ہے۔ جب یہ مشروب جوش مارنے لگے تو وہ شراب بن جاتا ہے، جس کا پینا مومنوں پر حرام ہے۔یہ حدیث ضعیف ہے، بہرحال نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ مائے مطلق نہیں ہے، درج ذیل بحث کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: {فَلَمْ تَجِدُوْا مَائً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} … جب تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ (سورۂ نساء:۴۳) ، نیز فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً طَھُوْرًا} … ہم نے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ (سورۂ فرقان: ۴۸)، مزید ارشاد ہے: {ویُنَزِّل عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَائِ مَائً لِیُطَھِّرَکُمْ بِہِ} (الانفال: ۱۱) یعنی اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کردے ۔ ان آیاتِ مبارکہ میں مائِ مطلق (مطلق پانی) کا ذکر ہے‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کسی پانی پر مائِ مطلق کا اطلاق ہو سکتا ہو‘ اس وقت تک وہ طاہر (پاک) اور مطہِّر (پاک کرنے والا) ہو گا‘ بشمول امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کے جمہور کا یہی مسلک ہے‘ لیکن جب پانی کو کسی وصف کی طرف منسوب کیا جائے‘ جیسے لیموں کا پانی‘ گلاب کے پھول کا پانی‘ انگور کا پانی‘ کھجور کا پانی وغیرہ‘ تو ایسی صورت میں وہ مائِ مطلق نہیں رہے گا‘ جس سے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر پانی میں کوئی طاہر چیز اتنی معمولی مقدار میں پائی جائے کہ اس پانی پر ماء مطلق کا اطلاق ختم نہ ہو سکے‘ تو وہ پانی اس قابل ہو گا کہ اس سے وضوء اور غسل کیا جائے‘ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ((عَنْ اُمِّ ھَانِیٍٔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِغْتَسَلَ ھُوَ وَمَیْمُوْنَۃُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فِیْ قَصْعَۃٍ فِیْھَا اَثَرُ الْعَجِیْنِ))سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کی بیوی میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایسے ٹب میں غسل کیا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کے نشانات تھے ۔
(ابن ماجہ:۳۷۸، نسائی: ۲۴۱، مسند احمد: ۶/۳۴۲)
یعنی آٹے کے آثار اتنی معمولی مقدار میں تھے کہ اس پانی کو آٹے والا پانی نہیں، بلکہ مائِ مطلق کہا جا سکتا تھا، جیسا کہ شیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانیؒ نے کہا: یدل علی ان الطاھر القلیل لا یخرج الماء عن الطھوریۃ۔ (اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ قلیل مقدار میں طاہر چیز کے مل جانے سے پانی مطہِّر ہی رہتا ہے۔)
(التعلیقات السلفیۃ: ۱/۳۰)
امام شوکانی نے کہا: کسی پاک چیز کے ملنے کی وجہ سے جس پانی پر مائِ مطلق کا نام نہ بولا جا سکے بلکہ اس پر کوئی خاص نام بولا جاتا ہو، مثلًا گلاب کا پانی وغیرہ تو وہ فی نفسہ تو طاہر ہو گا، لیکن دوسروں کیلئے مطھِّر نہیں ہو گا۔ (السیل الجرار: ۱/۵۶)امام ابن حزم نے کہا: جب تک پانی پر ماء (مطلق پانی) کا لفظ بولا جا سکتا ہو اس وقت تک وہ طاہر ومطہِّر رہے گا ۔ (المحلی بالآثار: ۱/۱۹۳)
نتیجہ بحـث :…انگور کا پانی اور نبیذ وغیرہ خود تو پاک ہے، لیکن ان سے وضوء یا غسل کر کے پاکیزگی حاصل نہیں کی جاسکتی‘ کیونکہ ان پر مطلق ماء (پانی) کے لفظ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا‘ قاضی خاں حنفی نے بھی اسی فتوے کی تائید کی۔امام ابوحنیفہ کامسلک یہ ہے کہ جب نبیذ اس قدر پتلی ہو کہ اعضا پر بہہ سکتی ہو اور میٹھی ہو، نشہ آور نہ ہو، تو آدمی اس کے ساتھ وضو کر لے اور تیمم نہ کرے۔ لیکن امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ تیمم کر لینا چاہیے اور نیبذ کے ساتھ وضو نہیں کرنا چاہیے، جمہور اور باقی ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ امام طحاوی نے بھی اسی کو اختیار کیا اور کہا: امام ابو حنیفہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکی حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے شروع شروع میں (نبیذ کے ساتھ وضو کرنے کی) جو رائے اختیار کی تھی، اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فَرَق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے چلّو بھرتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے چلّو بھرتی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔
مولائے ام سلمہ ناعم کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبیِ کریم اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ اکٹھے غسل کر لیتے تھے، یہی معاملہ میاں بیوی کا ہو گا۔