مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان

۔ (۳۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: لَقَدْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَاِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَکِنَّ الْمَائَ لَا یَجْنُبُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۹۱)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔

۔ (۳۶۴)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ، وَکَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْقَدَحِ وَھُوَ الْفَرَقُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۰)

سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فَرَق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔

۔ (۳۶۵)۔عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہَا قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَأَنَا أَقُوْلُ لَہُ: اَبْقِ لِیْ، اَبْقِ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۰۶)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہتے تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔

۔ (۳۶۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَأُبَادِرُہُ وَأَقُوْلُ: دَعْ لِیْ دَعْ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۷۸)

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس میں آپ سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی اور کہتی: میرے لیے بھی چھوڑو، میرے لیے بھی چھوڑو۔

۔ (۳۶۷)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْتَسِلُ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ یَغْرِفُ قَبْلَہَا وَتَغْرِفُ قَبْلَہُ، (وَفِیْ لَفْظٍ) کَانَ یَبْدَأُ قَبْلَہَا۔ (مسند أحمد:۲۵۵۰۵)

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سے پہلے چلّو بھرتے اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے پہلے چلّو بھرتی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔

۔ (۳۶۸)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۳)

سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔

۔ (۳۶۹)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّہَا کَانَتْ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ کَانَ یُقَبِّلُہَا وَھُوَ صَائِمٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۳۱)

سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔

۔ (۳۷۰)۔عَنْ نَاعِمٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَؓ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَۃُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا کَانَتْ کَیِّسَۃً، رَأَیْتُنِیْ وَرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْکَنٍ وَاحِدٍ نُفِیْضُ عَلَی أَیْدِیْنَا حَتّٰی نُنْقِیَہَا ثُمَّ نُفِیْضُ عَلَیْنَا الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۲۸۵)

مولائے ام سلمہ ناعم کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔

۔ (۳۷۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمَرْأَۃُ مِنْ نِسَائِ ہِ یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَکَانَ یَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَکَاکِیَّ وَیَتَوَضَّأُ بِمَکُّوْکٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۲۹)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبیِ کریم اور آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔