سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر ؓپیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھیں، بہنیں تھیں ، {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}
سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنامروان بن حکمؓ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو بال گرتا ہے ، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔
سیدنا ابوجحیفہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت نکلے اور وضو کیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو چھونا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (بطورِ سترہ) برچھی تھی۔