حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی، خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند، بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھے نہا لیں)۔
سیدنا حکم بن عمرو غفاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو اس سے منع کیا کہ وہ عورت کے جوٹھے پانی سے وضو کرے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا، اب وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی مراد تھا، یا اس کا جوٹھا۔
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو اس سے منع فرمایا کہ وہ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔
بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔