مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم

۔ (۳۸۷)۔عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍؓ قَالَتْ: نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعَلٰی مَکَّۃَ فَأَتَیْتُہٗ، فَجَائَ أَبُوْ ذَرٍّ بِجَفْنَۃٍ فِیْھَا مَائٌ، قَالَتْ: اِنِّیْ لَأَرٰی فِیْھَا أَثَرَ الْعَجِیْنِ، قَالَتْ: فَسَتَرَہٗ یَعْنِیْ أبا ذَرٍّؓ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانَ رَکْعَاتٍ وَذٰلِکَ فِیْ الضُّحٰی۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۲۵)

سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر اترے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور سیدنا ابو ذر ؓپانی کا ایک ٹب لے آئے، مجھے اس میں آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، پھر انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پردہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعتیں ادا کیں، یہ چاشت کا وقت تھا۔

۔ (۳۸۸)۔و عَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِغْتَسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَیْمُوْنَۃِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ، قَصْعَۃٍ فِیْھَا أَثَرُ الْعَجِیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۳۴)

سیدہ ام ہانی ؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور سیدہ میمونہ ؓ نے ایک برتن سے غسل کیا، اس میں آٹے کے نشانات تھے۔