TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل - اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 12 · 2 Hadith
۔ (۳۸۹)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَوَضَّأُ مِنْہَا وَہِیَ یُلْقٰی فِیْھَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۳۶)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے رہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
Takhreej
(۳۸۹) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۶۶، والترمذی: ۶۶، والنسائی: ۱/ ۱۷۴، وابن ماجہ: ۵۱۹(انظر: ۱۱۱۱۹)
389
Sahih
۔ (۳۹۰)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّؓ قَالَ: سَقَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ مِنْ بُضَاعَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۸)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے ہاتھ سے بئرِ بُضاعہ سے پانی پلایا تھا۔
Takhreej
(۳۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام محمد بن ابی یحیی۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۳۲، وابویعلی: ۷۵۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۰۲۶، والبیھقی: ۱/ ۲۵۹(انظر: )
Explanation
فوائد:… بنوساعدہ کے محلے یا کنویں کے مالک یا اس مقام کا نام بُضَاعہ تھا، وہاں ایک کنواں تھا، جس کو بئرِ بُضَاعہ کہتے تھے۔ بدبودار چیزیں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کنواں ایسی جگہ پر واقع تھا کہ اس قسم کی متأثرہ چیزیں ہوا یا پانی کے بہاؤ کے ذریعے اس میں گرجاتی تھی، اس تاویل کی وجہ یہ ہے کہ ذی شعور لوگوں سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں جا سکتی، جبکہ وہ تو پاکیزہ ترین شخصیات کا دور تھا۔ امام ابو داود نے سنن میں کہا: قتیبہ بن سعیدنے اس کنویں کے نگران سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: اس کا زیادہ سے زیادہ پانی شرمگاہ تک آ جاتا ہے اور جب پانی کم پڑ جاتا ہے، تو پردہ والی جگہ سے نیچے تک رہتا ہے۔ امام ابو داود مزید کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر کے ذریعے اس کنویں کے عرض کی پیمائش کی اور اس کو چھ ہاتھ چوڑا پایا، پھر میں نے باغ کا دروازہ کھولنے والے سے پوچھا کہ کیا اس کی ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے، اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے دیکھا کہ اس کے پانی کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کنویں کی چوڑائی (9) فٹ تھی اور اگر اس کی لمبائی اور گہرائی (3.5) فٹ تسلیم کر لی جائے تو یہ تقریبا (3200) لٹر پانی بنتا ہے۔اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ اس کنویں کا پانی مائے کثیر کی مقدار سے کہیں زیادہ تھا اور کثیر پانی کے بارے میں قانون یہ ہے کہ نجاست کے گرنے کی وجہ سے جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہیں ہو گا، وہ اس وقت تک پاک رہے گا۔ مائے کثیر اور مائے قلیل کی وضاحت اگلے باب میں کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالی۔
390
Zaeef