مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل

۔ (۳۸۹)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَوَضَّأُ مِنْہَا وَہِیَ یُلْقٰی فِیْھَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۳۶)

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے رہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔

۔ (۳۹۰)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّؓ قَالَ: سَقَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ مِنْ بُضَاعَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۸)

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے ہاتھ سے بئرِ بُضاعہ سے پانی پلایا تھا۔