مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

کتے کے جوٹھے کا بیان

۔ (۳۹۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا وَلَغَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا شَرِبَ) الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ)) (مسند أحمد: ۷۴۴۰)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔

۔ (۳۹۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْاِنَائِ یَلِغُ فِیْہِ الْکَلْبُ، قَالَ: ثَنَا سَعَیْدٌ عَنْ أَیُّوْبَ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُوْلَاہُنَّ بِالتُّرَاب)) (مسند أحمد:۱۰۳۴۶)

محمد بن جعفر سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے سعیدنے ایوب سے اور انھوں نے ابن سیرین سے بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔

۔ (۳۹۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَہُمْ وَلَہَا؟)) فَرَخَّصَ فِیْ کَلْبِ الصَّیْدِ وَفِیْ کَلْبِ الْغَنَمِ، قَالَ: ((وَاِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ الْاِنَائِ فَاغْسِلُوْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامِنَۃَ عَفِّرُوْہُ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۱۵)

سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اورفرمایا: اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔

۔ (۳۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُہْرُ اِنَائِ أَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ أَنْ یَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۳۳)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔

۔ (۴۰۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: کُنْتُ أَعْزَبَ شَابًّا أَبِیْتُ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَانَتِ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرُشُّوْنَ شَیْئًا۔ (مسند أحمد:۵۳۸۹)

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد ِ نبوی میں مسجد میںرات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔