سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔
محمد بن جعفر سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے سعیدنے ایوب سے اور انھوں نے ابن سیرین سے بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اورفرمایا: اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو وہ اس کو سات دفعہ دھوئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد ِ نبوی میں مسجد میںرات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔