TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بلی کے جوٹھے کا بیان - بلی کے جوٹھے کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 12 · 3 Hadith
۔ (۴۰۲)۔ عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَؓ دَخَلَ عَلَیْہَا فَسَکَبَتْ لَہُ وَضُوْئَ ہُ فَجَائَ ت ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَأَصْغٰی لَہَا الْاِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ، قَالَتْ کَبْشَۃُ: فَرَآنِیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَتَعْجَبِیْنَ یَا ابْنَۃَ أَخِیْ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ، اِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ عَلَیْکُمْ وَالطَّوَّافَاتِ۔)) وَقَالَ اِسْحٰقُ: ((أَوِ الطَّوَّافَاتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۵۰)
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک ؓ، جو سیدنا ابن ابی قتادہؓکی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی کہ سیدنا ابو قتادہ ؓاس کے پاس آئے اور اس نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈال کر رکھا، اتنے میں ایک بلی آ گئی اور اس نے اس برتن سے پینا شروع کر دیا، انھوں اس کے لیے برتن کو جھکایا، یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبشہ ؓ کہتی ہیں: جب انھوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں توانھوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تجھے تعجب ہو رہا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۰۲) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۷۵، وابن ماجہ: ۳۶۷، والترمذی: ۹۲، والنسائی: ۱/ ۵۵(انظر: ۲۲۵۸۰)
402
Sahih
۔ (۴۰۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ حَدَّثَتْنِی امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ کَانَ یُصْغِی الْاِنَائَ لِلْہِرِّ فَیَشْرَبُ، وقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا: ((أَنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ، اِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ)) (مسند أحمد:۲۲۸۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن ابو طلحہ ؓکی بیوی بیان کرتی ہے کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ نے بلی کے لیے برتن کو جھکایا، پس اس نے پانی پیا، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۰۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
403
Sahih
۔ (۴۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ وُضِعَ لَہُ وَضُوْئُ ہُ، فَوَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ فَأَخَذَ یَتَوَضَّأُ فَقَالُوْا: یَا أَبَا قَتَادَۃَ! قَدْ وَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((السِّنَّوْرُ مِنْ أَھْلِ الْبَیْتِ وَإِنَّہُ مِنَ الطَّوَّافِیْنَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن ابو قتادہ ؓاپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انھوںنے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۰۴) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۴۰۲
Explanation
فوائد:…بلا شک و شبہ بلی حرام جانوروں میں سے ہے، لیکن ان روایات سے پتہ چلا کہ اس کا جوٹھا پاک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو۔ (سورۂ نور: ۵۸) خادم اور مالک کو آپس میں ہر وقت ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی ضرورت ِ عامہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو اس آیت میں یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ تین مخصوص اوقات کے علاوہ بغیر اجازت لیے اپنے مالکوں کے پاس آ سکتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ بلی کا ہے، اس کے مزاج میں اتنی مانوسیت ہے کہ یہ بکثرت گھر کے اندر آتی جاتی رہتی ہے، بلکہ رات کو گھر کے افراد کے پاس بستروں میں گھس آتی ہے اور اس کی یہ عادت بھی ہے کہ جہاں تک اس کا بس چلتا ہے، یہ برتنوں کے اندر گھستی رہتی ہے، پس شریعت نے غلاموں کی طرح اس کے لیے بھی رخصت نکال دی اور اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا اور پھر اس رخصت کے تقاضے کے مطابقت اس جانور کو صفائی پسند بنا دیا، مثلا کوئی چیز کھانے کے بعد منہ کو زمین پر رگڑنا اور اپنی گندگی پر پنجوں کے ذریعے مٹی ڈالنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔
404
Sahih