مسنداحمد

Musnad Ahmad

طہارت کے ابواب

بلی کے جوٹھے کا بیان

۔ (۴۰۲)۔ عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَؓ دَخَلَ عَلَیْہَا فَسَکَبَتْ لَہُ وَضُوْئَ ہُ فَجَائَ ت ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَأَصْغٰی لَہَا الْاِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ، قَالَتْ کَبْشَۃُ: فَرَآنِیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَتَعْجَبِیْنَ یَا ابْنَۃَ أَخِیْ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ، اِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ عَلَیْکُمْ وَالطَّوَّافَاتِ۔)) وَقَالَ اِسْحٰقُ: ((أَوِ الطَّوَّافَاتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۵۰)

سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک ؓ، جو سیدنا ابن ابی قتادہؓکی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی کہ سیدنا ابو قتادہ ؓاس کے پاس آئے اور اس نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈال کر رکھا، اتنے میں ایک بلی آ گئی اور اس نے اس برتن سے پینا شروع کر دیا، انھوں اس کے لیے برتن کو جھکایا، یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبشہ ؓ کہتی ہیں: جب انھوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں توانھوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تجھے تعجب ہو رہا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔

۔ (۴۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ وُضِعَ لَہُ وَضُوْئُ ہُ، فَوَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ فَأَخَذَ یَتَوَضَّأُ فَقَالُوْا: یَا أَبَا قَتَادَۃَ! قَدْ وَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((السِّنَّوْرُ مِنْ أَھْلِ الْبَیْتِ وَإِنَّہُ مِنَ الطَّوَّافِیْنَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۱۴)

سیدنا عبد اللہ بن ابو قتادہ ؓاپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انھوںنے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔