۔ (۳۱۸۷) عَنْ أَبِی غَالِبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ أَنَّہُ أُتِیَ بِجَنَازَۃِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِیْرِ، ثُمَّ أُتِیَ بِجَنَازَۃِ امْرَأَۃٍ ، فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَالِکَ حِذَائَ السَّرِیْرِ، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ لَہُ الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! أَہٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْمُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ نَحْوًا مِمَّا رَأَیْتُکَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ فَقَالَ: اِحْفَظُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۴)
ابو غالب کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مرد کا جنازہ لایا گا، پس وہ چارپائی (یعنی میت) کے سر کے پاس کھڑے ہوئے، پھر جب عورت کا جنازہ لایا گیا تو وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد نے ان سے کہا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مرد اور عورت کے جنازہ میں اسی طرح کھڑے ہوا کرتے تھے، جس طرح میں نے آپ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر علاء بن زیاد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یہ مسئلہ یاد کر لو۔
Takhreej
(۳۱۸۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۴، وابن ماجہ: ۱۴۹۴، والترمذی: ۱۰۳۴(انظر: ۱۲۱۸۰)
Explanation
فوائد: …ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہٖ۔ (اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے) ’’وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔‘‘اس کی وضاحت بھی ابوداود کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: فَقَامَ عِنْدَ عَجِیْزَتِھَا۔ (پس وہ اس کے سرین کے پاس کھڑے ہوئے)
3187
Sahih