TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز جنازہ کے ابواب - نماز جنازہ کے ابواب - Book 60 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 60 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 20 Chapters
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَلَہُ قِیْرَاطٌ وَمَنِ انْتَظَرَ حَتّٰی یُفْرَغَ مِنْہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا قِیْرَاطَانِ؟ قَالَ: ((مِثْلُ الْجَبَلَیْنِ الْعَظِیْمَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۸۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَاتَّبَعَہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ مِثْلَیْ أُحُدٍ وَمَنْ صَلّٰی وَلَمْ یَتْبَعْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ مِثْلُ أُحُدٍ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ الْقِیْرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ)) (مسند احمد: ۷۶۷۶)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی میت کی نماز جنازہ پڑھے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہو گا اور جو تدفین سے فراغت تک انتظار کرے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دو قیراط کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں۔
Takhreej
(۳۱۳۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۲۳، ۱۳۲۴، ۱۳۲۵، مسلم: ۹۴۵ (انظر: ۷۱۸۸)
3133
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَلَہُ قِیْرَاطٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِثْلُ قِیْرَاطِنَا ہٰذَا؟ قَالَ: ((لَا، بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اس قیراط کی طرح؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ قیراط تو احد پہاڑ کے برابر ہے یا اس سے بھی بڑا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۴) تخریـج: …حدیث صحیح، وفی ھذا الاسناد علۃ تفطن لھا البخاری امام ھذہ الصنعۃ، فقال فی ’’تاریخہ‘‘: ۲/ ۲۷۴: … عن سالم البراد عن أبی ھریرۃ قولہ۔ وقال ابن أبی خالد: سمع سالما أبا عبد اللہ البراد، سمع ابن عمر، عن النبیV، مثلہ، وھذا لایصح، لأن الزھری قال عن سالم: ان ابن عمر أنکر علی أبی ھریرۃ حتی سأل عائشۃ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۲۰ (انظر: ۴۶۵۰)
3134
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلَیْہَا فَإِنَّ لَہُ قِیْرَاطًا۔)) فَسُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقِیْرَاطِ، فَقَالَ: ((مِثْلُ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۰)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جنازے کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی تو اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قیراط کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احد پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …اہل عرب کے ہاں قیراط بہت تھوڑی مقدار پر مشتمل ایک وزن کا نام تھا، اس لیے صحابہ نے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کیا، مزید وضاحت باب کے آخر میں آئے گی۔
3135
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۶)(۱۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ مَرَّ بِأَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً فَصَلّٰی عَلَیْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ،فَإِنْ شَہِدَ دَفْنَہا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ، اَلْقِیْرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ۔)) فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَبَا ہِرٍّ! اُنْظُرْ مَا تُحَدِّثُ بِہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (وَفِی لَفْظٍ: اُنْظُرْ مَا تُحَدِّثُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَإِنَّکَ تُکْثِرُ الْحَدِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَقَامَ إِلَیْہِ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتَّی انْطَلَقَ بِہِ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَنْشُدُکِ بِاللّٰہِ أَمَا سَمِعْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً فَصَلّٰی عَلَیْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ، فَإِنْ شَہِدَ دَفْنَہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ۔))؟ قَالَتْ: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَشْغَلُنِی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَرْسُ الْوَادِیِّ وَلَا صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ، إِنِّی إِنَّمَا کُنْتُ أَطْلُبُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلِمَۃً یُعَلِّمُنِیْہَا وَاُکْلَۃً یُطْعِمُنِیْھَا؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنْتَ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! کُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَنَا بِحَدِیْثِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ سیّدنا ابرہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی میت کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور اگر وہ دفن تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے، ایک قیراط احدپہاڑ سے بھی بڑا ہوتاہے۔ یہ حدیث سن کر سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابوہِر! ذرا خیال کروکہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا کچھ بیان کر رہے ہو؟ایک روایت میں ہے: انہوں نے کہا: ابوہریرہ! ذرا غور کرو کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا بیان کر رہے ہو؟ تم رسول اللہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہو۔ یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس لے گئے اور کہا اے ام المومنین! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو آدمی میت کے ساتھ چلے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط اور جو آدمی دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط اجر ملتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:(اصل بات یہ ہے کہ) نہ کھیتی باڑی مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مصروف رکھ سکی اور نہ بازاروں میں سودا کرنا، میں تو اس تلاش میں رہتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کسی کلمے اور فرمان کی تعلیم دے دیں اور کوئی کھانا کھلا دیں۔ یہ سن کر سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابوہریرہ! واقعی تم ہم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہم سب سے بڑھ کر احادیث رسول کو جانتے ہیں۔
Takhreej
(۳۱۳۶)تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۲۳، ۱۳۲۴، ومسلم: ۹۴۵ (انظر: ۴۴۵۳)
Explanation
فوائد: …پہلے تو سیّدنا عبد اللہ بن عمرbنے تعجب کا اظہار کیا کہ ان کی طرح کا ایک آدمی اس قدر کثرت سے احادیث کیوں بیان کرتا ہے، لیکن جب متعلقہ شخص نے شہادت پیش کرنے کے بعد ساری وجوہات پیش کیں تو سیّدنا عبد اللہbکا شبہ زائل ہو گیا، دراصل وہ سب لوگ حق کے متلاشی تھے اور جب حقائق سامنے آ جاتے تو ان کے شبہات زائل ہو جاتے تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ کے مطابق آخر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمرb نے یہ افسوس بھی کیا تھا کہ وہ تو پھر میت کی تدفین سے غائب ہو کر کئی قیراط ضائع کر چکے ہیں۔
3136
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۷) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً، وَفِی رِوَایَۃٍ مَنْ صَلّٰی عَلٰی جِنَازَۃٍ) فَلَہُ قِیْرَاطٌ وَمَنْ شَہِدَ دَفْنَہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ۔)) قِیْلَ: وَمَا الْقِیْرَاطَانِ؟ قَالَ: ((أَصْغَرُہُمَا مِثْلُ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۳۴)
مولائے رسول سیّدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جا کر نماز جنازہ پڑھے، اسے ایک قیراط اور جو دفن تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط اجر ملتا ہے۔ کسی نے کہا: دو قیراطوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوٹاقیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۷) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۴۶ (انظر: ۲۲۳۷۶)
3137
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً یُصَلِّیْ عَلَیْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَہَا حَتّٰی یُفْرَغَ مِنْہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۲۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوآدمی نماز جنازہ پڑھنے تک میت کے ساتھ رہتا ہے اسے ایک قیراط اجر ملتا ہے اور جو شخص انتظار کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دفن سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کو دو قیراط ثواب ملتا ہے ۔
Takhreej
(۳۱۳۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۴/۵۵ (انظر: ۱۶۷۹۸، ۲۰۵۷۵)
3138
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۳۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً یَحْمِلُ مِنْ عُلُوِّہَا، وَحَثَا فِی قَبْرِہَا وَقَعَدَ حَتّٰی یُؤْذَنَ لَہُ، آبَ بِقِیْرَاطَیْنِ مِنَ الْأَجْرِ، کُلُّ قِیْرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۸۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۹) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن ھرمز (انظر: ۱۰۸۷۵)
Explanation
فوائد: …’’مِنْ عُلُوِّھَا‘‘ کا مرادی معنی ’’مِنْ اِبْتِدَائِھَا‘‘ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
3139
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۴۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جَائَ جَنَازَۃً فِی أَہْلِہَا فَتَبِعَہَا حَتَّی یُصَلِّیَ عَلَیْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ، وَمَنْ مَضٰی مَعَہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ مِثْلُ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۲)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اہل میت کے ہاں جائے، پھر نمازجنازہ پڑھنے تک میت کے ساتھ رہے تو اسے ایک قیراط اور جو (دفن تک) اس کے ساتھ رہے، اسے ثواب کے دو قیراط ملیں گے، (ایک قیراط) احد پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۴۰) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ البزار: ۸۲۴، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۲۱، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۱۲۵۸ (انظر: ۱۱۱۵۲، ۱۱۲۱۸، ۱۱۹۲۰)
3140
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۴۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ وَشَیَّعَہَا کَانَ لَہُ قِیْرَاطَانِ، وَمَنْ صَلّٰی عَلَیْہَا وَلَمْ یُشَیِّعْہَا کَانَ لَہُ قِیْرَاطٌ، وَالْقِیْرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۶۹)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہے، پھر اسے رخصت کرنے کے لیے (قبر تک) ساتھ رہتا ہے تو اسے اجر کے دو قیراط ملتے ہیں اور جو نماز پڑھ کر (واپس آ جاتا ہے اور) آخر تک اس کے ساتھ نہیں رہتا، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے، ایک قیراط احد پہاڑ جتنا بڑا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۴۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3141
Sahih
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۱۴۲) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَبِـعَ جَنَازَۃً حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْہَا وَیُفْرَغَ مِنْہَا فَلَہُ قِیْرَاطَانِ، وَمَنْ تَبِـعَ حَتّٰی یُصَلَّی عَلَیْہَا فَلَہُ قِیْرَاطٌ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدِ بِیَدِہِ! لَہُوَ أَثْقَلُ فِی مِیْزَانِہِ مِنْ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۰)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جائے (اور اس کے ساتھ ہی رہے) یہاں تک کہ نماز جنازہ اور (تدفین) سے فارغ ہو جائے تو اس کے دو قیراط اجر ہو گا اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس پر نماز سے فارغ ہوا جائے، اس کے لیے ایک قیراط اجر ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! یہ قیراط اس شخص کے ترازو میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۴۲) تخریـج: …حدیث صحیح، حجاج بن أرطاۃ قد توبع أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۴۱ (انظر: ۲۱۲۰۱)
Explanation
فوائد: …اس باب کی احادیث میں میت کے ساتھ جانے، نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین تک ساتھ رہنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ نماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جانے والے کو اجر و ثواب کا ایک قیراط اور نماز کے بعد تدفین کے مراحل سے فارغ ہونے کے بعد آنے والے کو دو قیراط ملیں گے۔ ’’قیراط‘‘ تھوڑی مقدار کے ایک وزن کا نام تھا، جودرہم کے بارہویں حصے کے برابر تھا، اِن احادیث میں مذکورہ قیراط سے مراد یہ نہیں ہے، اس کی مقدار کتنی ہے؟ اس کی آپaنے خود وضاحت کر دی ہے۔
3142
Sahih
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
۔ (۳۱۴۳) عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَزَنِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یَمُوْتُ فَیُصَلِّیَ عَلَیْہِ أُمَّۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَبْلَغُوْا أَنْ یَکُوْنُوا ثَـلَاثَۃَ صُفُوْفٍ، إِلَّا غُفِرَ لَہُ)) قَاَل: فَکَانَ مَالِکُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ یَتَحَرّٰی إِذَا قَلَّ أَہْلُ الْجَنَازَۃِ أَنْ یَجْعَلَہُمْ ثَـلَاثَۃَ صُفُوْفٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۴۴)
سیّدنا مالک بن ہبیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مومن فوت ہو جائے اور تین صفوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیّدنا مالک بن ھبیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب دیکھتے کہ جنازہ میں نمازیوں کی تعداد کم ہے تو ان کی تین صفیں بنا لیتے۔
Takhreej
(۳۱۴۳) تخریـج:… اس کی سند میں محمد بن اسحاق راوی مدلس ہے، لیکن شیخ البانی نے فوائد میں مذکور حدیث کی بنا پر اس کو قابل حجت قرار دیا ہے۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۹۰ (انظر: ۱۶۷۲۴)
Explanation
فوائد: …سیّدنا ابوامامہbکہتے ہیں: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلٰی جَنَازَۃٍ وَمَعَہٗ سَبْعَۃُ نَفَرٍ، فَجَعَلَ ثَـلَاثَۃً صَفًّا، وَاثْنَیْنِ صَفًّا وَاثْنَیْنِ صَفًّا۔ یعنی: رسول اللہa نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، جبکہ آپaکے ساتھ سات افراد تھے، پس آپaنے تین کو ایک صف میں، دو کو ایک صف میں اور بقیہ دو کو ایک صف میں کھڑا کیا۔ (معجم کبیر للطبرانی، وفیہ ابن لھیعۃلکنہ مستشھد بحدیث مالک بن ہبیرۃB)
3143
Zaeef
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
۔ (۳۱۴۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمُوْتُ اَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیُصَلِّی عَلَیْہِ أُمَّۃٌ مِنَ النَّاسِ یَبْلُغُوْنَ أَنْ یَکُوْنُوْا مَائَۃً، فَیَشْفَعُوْا لَہُ إِلَّا شُفِّعُوْا فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۳۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر ایک سو آدمیوں کی جماعت نمازجنازہ پڑھ کر سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔
Takhreej
(۳۱۴۴) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۴۷ (انظر: ۲۴۰۳۸)
3144
Sahih
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
۔ (۳۱۴۵) وَعَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۴۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۱۴۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۴۷ (انظر: ۱۳۸۰۴)
3145
Sahih
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
۔ (۳۱۴۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ فَیَقُوْمُ عَلٰی جَنَازَتِہِ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا لَا یُشْرِکُوْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا إِلَّا شَفَّعَہُمْ اللّٰہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت جائے اور اس کے جنازے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے چالیس آدمی کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کر لیتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۴۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۴۸ (انظر: ۲۵۰۹)
3146
Sahih
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
۔ (۳۱۴۷) عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصَلِّی عَلَیْہِ أُمَّۃٌ إِلَّا شُفِّعُوْا فِیْہِ۔)) قَالَ أَبُوْ الْمَلِیْحِ: اَلْأُمَّۃُ أَرْبَعُوْنَ إِلٰی مَائِۃٍ فَصَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۸)
سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے والی ایک امت ہو تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ ابوملیح راوی کہتا ہے: چالیس سے سو اور اس سے زائد تک کے افراد کو امت کہتے ہیں۔
Takhreej
(۳۱۴۷) تخریـج: …صحیح، وھذا اسناد ضعیف أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۱۰۶۰، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۲۱، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۵/ ۱۱۳ (انظر: ۲۶۸۱۲)
Explanation
فوائد: …ابو ملیح کی یہ تفسیر مذکورہ بالا احادیث کے مفہوم کے موافق ہے، کیونکہ ایک حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے اور ایک میں سوکا۔ ان احادیث میں نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے شریک ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بہرحال ان کا اہل توحید اور اہل اخلاص ہونا ضروری ہے۔
3147
Sahih
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
۔ (۳۱۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا بَہْزٌ وَأَبُوْ کَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ (یَعْنِی الْجَوْنِیَّ) عَنْ أَبِی عَسِیْبٍ أَوْ أَبِیْ عَسِیْمٍ قَالَ بَہْزٌ: إِنَّہُ شَہِدَ الصَّلَاۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: کَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْہِ؟ قَالَ: اُدْخُلُوْا أَرْسَالاً أَرْسَالاً، قَالَ: فَکَانُوْا یَدْخُلُوْنَ مِنْ ہٰذاَ الْبَابِ فَیُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ ثُمَّ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ، الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۴۷)
سیّدنا ابوعسیب (یا ابوعسیم) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، جبکہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ جنازہ میں حاضر تھے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپس میں کہا کہ اب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ ایک نے کہا: مختلف گروہوں کی صورت میں داخل ہوتے جاؤ۔ پس وہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ پڑھتے اور دوسرے دروازہ سے باہر نکل جاتے،…۔ الحدیث۔
Takhreej
(۳۱۴۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۷۶۶)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے مختلف گروہوں کی شکل میں نبی کریم aکی نماز جنازہ ادا کی تھی، ممکن ہے کہ ہر گروہ باجماعت نماز جنازہ ادا کرتا ہو یا علیحدہ علیحدہ، دونوں احتمال موجود ہیں۔اسی طرح آپaکی اس انداز میں نماز جنازہ ادا کرنا، اس کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام آپaکی میت کو سیدہ عائشہcکے حجرے سے باہر نہیں نکالنا چاہتے تھے۔ آپaکی نماز جنازہ کی روایات (سنن ابن ماجہ :۱۶۲۸) میں سیّدنا عبد اللہ بن عباسbسے اور دلائلِ (بیہقی :۷/ ۲۵۰) میں سیّدنا سہل بن سعدbسے بھی مروی ہیں، لیکن وہ ضعیف ہیں، البتہ نماز جنازہ کا قصہ شواہد کی بنا پر درست ہے۔
3148
Sahih
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
۔ (۳۱۴۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی قَتْلٰی أُحُدٍ: ((لَا تُغَسِّلُوْہُمْ، فَإِّنَّ کُلَّ جُرْحٍ أَوْ کُلَّ دَمٍ یَفُوْحُ مِسْکًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۳۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: تم انہیںغسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم یا خون سے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۴۹) تخریـج: …أخرج بنحوہ البخاری: ۱۳۴۳، ۱۳۴۵، ۱۳۴۶، ۱۳۵۳، ۴۰۷۹ (انظر: ۱۴۱۸۹)
3149
Sahih
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
۔ (۳۱۵۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: فَدَفَنَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہدائے احد کو نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا تھا۔
Takhreej
(۳۱۵۰) تخریـج: …حسن لغیرہ۔ أخرجہ أبوداود: ۳۱۳۶، والترمذی: ۱۰۱۶، ھذا حدیث طویل، تقدم برقم:۱۳۴، ولم یذکر ابوداود لفظۃ: ’’ولم یصلی علیھم‘‘ (انظر: ۱۲۳۰۰)
Explanation
فوائد: …’’شہید کو غسل نہ دینے کا بیان‘‘ کے باب میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں طرح درست ہے۔
3150
Sahih
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۱) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی ابْنِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمَاتَ وَہُوَ ابْنُ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَقَالَ: ((إِنَّہ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ مَنْ یُتِمُّ رَضَاعَہُ، وَہُوَ صِدِّیْقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۹۱)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو سولہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کے لیے جنت میں (خواتین) ہیں جو اس کی رضاعت مکمل کریں گی، (یہ میرا بیٹا) صِدِّیق ہے۔
Takhreej
(۳۱۵۱) تخریـج: …قولہ((إِنَّہ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ مَنْ یُتِمُّ رَضَاعَہُ))صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی أخرجہ البخاری: ۱۳۸۲، ۳۲۵۵ بلفظ: لما توفی ابراہیم g قال رسول اللہV: ((ان لہ مرضعا فی الجنۃ۔)) (انظر: ۱۸۴۹۷، ۱۸۵۰۲)
Explanation
فوائد: …آپaکے بیٹے سیّدنا ابراہیمb اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، صحیح روایت کے مطابق آپaنے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی، وہ تمام روایات جن میں ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے، سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ اس مسئلہ کے لیے ملاحظہ ہو: (نصب الرایۃ: ۲/ ۲۷۹،زاد المعاد: ۱/ ۵۱۳ )
3151
Zaeef
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسِّقْطُ (وَفِی رِوَایَۃٍ الطِّفْلُ) یُصَلّٰی عَلَیْہِ وَیُدْعٰی لِوَالِدَیْہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۵۸)
سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔
Takhreej
(۳۱۵۲) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۳۱، وابن ماجہ: ۱۵۰۷، والنسائی: ۴/ ۵۶ بلفظ: ((… والطفل یصلی علیہ۔)) (انظر: ۱۸۱۶۲، ۱۸۱۷۴)
Explanation
فوائد: …احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔
3152
Sahih

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.