سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی میت کی نماز جنازہ پڑھے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہو گا اور جو تدفین سے فراغت تک انتظار کرے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دو قیراط کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اس قیراط کی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ قیراط تو احد پہاڑ کے برابر ہے یا اس سے بھی بڑا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۴) تخریـج: …حدیث صحیح، وفی ھذا الاسناد علۃ تفطن لھا البخاری امام ھذہ الصنعۃ، فقال فی ’’تاریخہ‘‘: ۲/ ۲۷۴: … عن سالم البراد عن أبی ھریرۃ قولہ۔ وقال ابن أبی خالد: سمع سالما أبا عبد اللہ البراد، سمع ابن عمر، عن النبیV، مثلہ، وھذا لایصح، لأن الزھری قال عن سالم: ان ابن عمر أنکر علی أبی ھریرۃ حتی سأل عائشۃ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۲۰ (انظر: ۴۶۵۰)
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جنازے کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی تو اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیراط کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احد پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …اہل عرب کے ہاں قیراط بہت تھوڑی مقدار پر مشتمل ایک وزن کا نام تھا، اس لیے صحابہ نے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کیا، مزید وضاحت باب کے آخر میں آئے گی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ سیّدنا ابرہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی میت کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور اگر وہ دفن تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے، ایک قیراط احدپہاڑ سے بھی بڑا ہوتاہے۔ یہ حدیث سن کر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوہِر! ذرا خیال کروکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کچھ بیان کر رہے ہو؟ایک روایت میں ہے: انہوں نے کہا: ابوہریرہ! ذرا غور کرو کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا بیان کر رہے ہو؟ تم رسول اللہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہو۔ یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور کہا اے ام المومنین! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو آدمی میت کے ساتھ چلے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط اور جو آدمی دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط اجر ملتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:(اصل بات یہ ہے کہ) نہ کھیتی باڑی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصروف رکھ سکی اور نہ بازاروں میں سودا کرنا، میں تو اس تلاش میں رہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کسی کلمے اور فرمان کی تعلیم دے دیں اور کوئی کھانا کھلا دیں۔ یہ سن کر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوہریرہ! واقعی تم ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہم سب سے بڑھ کر احادیث رسول کو جانتے ہیں۔
فوائد: …پہلے تو سیّدنا عبد اللہ بن عمرbنے تعجب کا اظہار کیا کہ ان کی طرح کا ایک آدمی اس قدر کثرت سے احادیث کیوں بیان کرتا ہے، لیکن جب متعلقہ شخص نے شہادت پیش کرنے کے بعد ساری وجوہات پیش کیں تو سیّدنا عبد اللہbکا شبہ زائل ہو گیا، دراصل وہ سب لوگ حق کے متلاشی تھے اور جب حقائق سامنے آ جاتے تو ان کے شبہات زائل ہو جاتے تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ کے مطابق آخر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمرb نے یہ افسوس بھی کیا تھا کہ وہ تو پھر میت کی تدفین سے غائب ہو کر کئی قیراط ضائع کر چکے ہیں۔
مولائے رسول سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جا کر نماز جنازہ پڑھے، اسے ایک قیراط اور جو دفن تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط اجر ملتا ہے۔ کسی نے کہا: دو قیراطوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوٹاقیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوآدمی نماز جنازہ پڑھنے تک میت کے ساتھ رہتا ہے اسے ایک قیراط اجر ملتا ہے اور جو شخص انتظار کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دفن سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کو دو قیراط ثواب ملتا ہے ۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۳۹) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن ھرمز (انظر: ۱۰۸۷۵)
Explanation
فوائد: …’’مِنْ عُلُوِّھَا‘‘ کا مرادی معنی ’’مِنْ اِبْتِدَائِھَا‘‘ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اہل میت کے ہاں جائے، پھر نمازجنازہ پڑھنے تک میت کے ساتھ رہے تو اسے ایک قیراط اور جو (دفن تک) اس کے ساتھ رہے، اسے ثواب کے دو قیراط ملیں گے، (ایک قیراط) احد پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہے، پھر اسے رخصت کرنے کے لیے (قبر تک) ساتھ رہتا ہے تو اسے اجر کے دو قیراط ملتے ہیں اور جو نماز پڑھ کر (واپس آ جاتا ہے اور) آخر تک اس کے ساتھ نہیں رہتا، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے، ایک قیراط احد پہاڑ جتنا بڑا ہوتا ہے۔
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جائے (اور اس کے ساتھ ہی رہے) یہاں تک کہ نماز جنازہ اور (تدفین) سے فارغ ہو جائے تو اس کے دو قیراط اجر ہو گا اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس پر نماز سے فارغ ہوا جائے، اس کے لیے ایک قیراط اجر ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! یہ قیراط اس شخص کے ترازو میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۴۲) تخریـج: …حدیث صحیح، حجاج بن أرطاۃ قد توبع أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۴۱ (انظر: ۲۱۲۰۱)
Explanation
فوائد: …اس باب کی احادیث میں میت کے ساتھ جانے، نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین تک ساتھ رہنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ نماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جانے والے کو اجر و ثواب کا ایک قیراط اور نماز کے بعد تدفین کے مراحل سے فارغ ہونے کے بعد آنے والے کو دو قیراط ملیں گے۔ ’’قیراط‘‘ تھوڑی مقدار کے ایک وزن کا نام تھا، جودرہم کے بارہویں حصے کے برابر تھا، اِن احادیث میں مذکورہ قیراط سے مراد یہ نہیں ہے، اس کی مقدار کتنی ہے؟ اس کی آپaنے خود وضاحت کر دی ہے۔
سیّدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن فوت ہو جائے اور تین صفوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیّدنا مالک بن ھبیرہ رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ جنازہ میں نمازیوں کی تعداد کم ہے تو ان کی تین صفیں بنا لیتے۔
Takhreej
(۳۱۴۳) تخریـج:… اس کی سند میں محمد بن اسحاق راوی مدلس ہے، لیکن شیخ البانی نے فوائد میں مذکور حدیث کی بنا پر اس کو قابل حجت قرار دیا ہے۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۹۰ (انظر: ۱۶۷۲۴)
Explanation
فوائد: …سیّدنا ابوامامہbکہتے ہیں: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلٰی جَنَازَۃٍ وَمَعَہٗ سَبْعَۃُ نَفَرٍ، فَجَعَلَ ثَـلَاثَۃً صَفًّا، وَاثْنَیْنِ صَفًّا وَاثْنَیْنِ صَفًّا۔ یعنی: رسول اللہa نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، جبکہ آپaکے ساتھ سات افراد تھے، پس آپaنے تین کو ایک صف میں، دو کو ایک صف میں اور بقیہ دو کو ایک صف میں کھڑا کیا۔ (معجم کبیر للطبرانی، وفیہ ابن لھیعۃلکنہ مستشھد بحدیث مالک بن ہبیرۃB)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر ایک سو آدمیوں کی جماعت نمازجنازہ پڑھ کر سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت جائے اور اس کے جنازے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے چالیس آدمی کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کر لیتا ہے۔
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے والی ایک امت ہو تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ ابوملیح راوی کہتا ہے: چالیس سے سو اور اس سے زائد تک کے افراد کو امت کہتے ہیں۔
فوائد: …ابو ملیح کی یہ تفسیر مذکورہ بالا احادیث کے مفہوم کے موافق ہے، کیونکہ ایک حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے اور ایک میں سوکا۔ ان احادیث میں نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے شریک ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بہرحال ان کا اہل توحید اور اہل اخلاص ہونا ضروری ہے۔
سیّدنا ابوعسیب (یا ابوعسیم) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ میں حاضر تھے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپس میں کہا کہ اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ ایک نے کہا: مختلف گروہوں کی صورت میں داخل ہوتے جاؤ۔ پس وہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھتے اور دوسرے دروازہ سے باہر نکل جاتے،…۔ الحدیث۔
Takhreej
(۳۱۴۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۷۶۶)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے مختلف گروہوں کی شکل میں نبی کریم aکی نماز جنازہ ادا کی تھی، ممکن ہے کہ ہر گروہ باجماعت نماز جنازہ ادا کرتا ہو یا علیحدہ علیحدہ، دونوں احتمال موجود ہیں۔اسی طرح آپaکی اس انداز میں نماز جنازہ ادا کرنا، اس کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام آپaکی میت کو سیدہ عائشہcکے حجرے سے باہر نہیں نکالنا چاہتے تھے۔ آپaکی نماز جنازہ کی روایات (سنن ابن ماجہ :۱۶۲۸) میں سیّدنا عبد اللہ بن عباسbسے اور دلائلِ (بیہقی :۷/ ۲۵۰) میں سیّدنا سہل بن سعدbسے بھی مروی ہیں، لیکن وہ ضعیف ہیں، البتہ نماز جنازہ کا قصہ شواہد کی بنا پر درست ہے۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: تم انہیںغسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم یا خون سے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی تھی۔
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ ، جو سولہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کے لیے جنت میں (خواتین) ہیں جو اس کی رضاعت مکمل کریں گی، (یہ میرا بیٹا) صِدِّیق ہے۔
Takhreej
(۳۱۵۱) تخریـج: …قولہ((إِنَّہ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ مَنْ یُتِمُّ رَضَاعَہُ))صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی أخرجہ البخاری: ۱۳۸۲، ۳۲۵۵ بلفظ: لما توفی ابراہیم g قال رسول اللہV: ((ان لہ مرضعا فی الجنۃ۔)) (انظر: ۱۸۴۹۷، ۱۸۵۰۲)
Explanation
فوائد: …آپaکے بیٹے سیّدنا ابراہیمb اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، صحیح روایت کے مطابق آپaنے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی، وہ تمام روایات جن میں ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے، سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ اس مسئلہ کے لیے ملاحظہ ہو: (نصب الرایۃ: ۲/ ۲۷۹،زاد المعاد: ۱/ ۵۱۳ )
سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔
فوائد: …احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔