TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان

Chapter 13 of نماز جنازہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 20 · 9 Hadith
۔ (۳۱۹۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ، وَاحْتَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلٰی أَعْنَاقِہِمْ، فِاِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ قَدِّمُوْنِی، وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ یَا وَیْلَہَا، أَیْنَ تَذْہَبُوْنَ بِہَا یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ إِلَّا الإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَہَا الْاِنْسَانُ لَصَعِقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۲)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔
Takhreej
(۳۱۹۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۱۴، ۱۳۱۶(انظر: ۱۱۳۷۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کے معنی ومفہوم کو بلاتاویل تسلیم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس میت میں شعور پیدا کر کے اس کو بولنے کی قوت عطا کرتا ہے، جبکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
3193
Sahih
۔ (۳۱۹۴) عَنْ عَطَائٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَنَازَۃَ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ہٰذِہِ مَیْمَوْنَۃُ، إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہاَ فَـلَا تُزَعْزِعُوْہَا وَلَا تُزَلْزِلُوْہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴)
عطاء کہتے ہیں:ہم سرف کے مقام پر سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جنازے میں شریک تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، جب تم ان کی میت کو اٹھائو تو اسے شدت اور سختی کے ساتھ حرکت نہ دو۔
Takhreej
(۳۱۹۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۰۶۷، ومسلم: ۱۴۶۵(انظر: ۲۰۴۴، ۳۲۵۹)
Explanation
فوائد: …جب آپ aعمرۂ قضا ادا کر کے مکہ سے واپس لوٹ رہے تھے تو اسی مقام پر سیدہ میمونہcسے شادی کی تھی، سیدنا ابن عباسbکے قول کا مطلب یہ ہے کہ میت کی کرامت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کی جائے۔
3194
Sahih
۔ (۳۱۹۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِیَّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ، فَقَالَ: اَلسَّیْرُ مَا دُوْنَ الْخَبَبِ، فَإِنْ یَکُ خَیْرًا یُعَجَّلْ إِلَیْہِ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَیْہِ، وَ إِنْ یَکَ سِوَی ذَاکَ فَبُعْدًا لِأَہْلِ النَّارِ، الْجِنَازَۃُ مَتْبُوْعَۃٌ وَلَا تَتْبَعُ، لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَہَا۔ (مسند احمد: ۳۹۳۹)
سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۹۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ أبی ماجد الحنفی، ویحیی بن عبد اللہ بن الحارث التیمی ضعفہ ابن معین وأبوحاتم والنسائی، وقال احمد: لیس بہ بأس، وقال العجلی: یکتب حدیثہ ولیس بالقوی، ووثقہ الترمذی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۸۴، والترمذی: ۱۰۱۱، وابن ماجہ: ۱۴۸۴ (انظر: ۳۵۸۵، ۳۹۳۹)
Explanation
فوائد: …پیدل چلنے والے لوگ جنازے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
3195
Zaeef
۔ (۳۱۹۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مِہْرَانَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ حِیْنَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ: لَاتَضْرِبُوْا عَلَیَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبِعُوْنِی بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوْا بِی، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلٰی سَرِیْرِہِ قَالَ قَدِّمُوْنِی قَدِّمُوْنِی، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوْئُ عَلٰی سَرِیْرِہِ قَالَ یَا وَیْلَہُ أَیْنَ تَذْہَبُوْنَ بِی۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۱)
عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں:جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اور میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر نہ جانا اور میرے بارے میں جلدی کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو، لیکن جب گنہگار بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے جا رہے ہو۔
Takhreej
(۳۱۹۶) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۴/۴۰، والطیالسی: ۲۳۳۶، والبیھقی: ۴/ ۲۱، وأخرجہ البخاری عن أبی سعید الخدری: ۱۳۱۴، ۱۳۱۶ (انظر: ۷۹۱۴)
Explanation
فوائد: …’’مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا خیمہ نہ لگانا، جس میں لوگ تعزیت کے لیے جمع ہو کر بیٹھ جائیں۔
3196
Sahih
۔ (۳۱۹۷) عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ((أَسْرِعُوْا بِجَنَائِزِکُمْ، فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً عَجَّلْتُمُوْہَا إِلَی الْخَیْرِ، وَإِنْ کَانَتْ طَالِحَۃً اِسْتَرَحْتُمْ مِنْھَا وَوَضَعْتُمُوْہَا عَنْ رِقَابِکُمْ)) (مسند احمد: ۷۷۵۹)
ابن المسیب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے مرفوعا ہی بیان کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے جنازوںکے سلسلے میں جلدی کیا کرو، اگر وہ نیک ہوں تو تم انہیں خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے تو تم (جلدی) راحت پا لو گے اور ان کو اپنے کندھوں سے اتار دو گے۔
Takhreej
(۳۱۹۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۱۵، ومسلم: ۹۴۴(انظر: ۷۲۶۷، ۷۷۷۲)
3197
Sahih
۔ (۳۱۹۸) عَنْ عُیَیْنَہَ ثَنَا أَبِی قَالَ: خَرَجْتُ فِی جَنَازَۃِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَہْلِہِ یَسْتَقْبِلُوْنَ الْجَنَازَۃَ فَیَمْشُوْنَ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ، وَیَقُوْلُوْنَ رُوَیْدًا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمْ، قَالَ: فَلَحِقَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ طَرِیْقِ الْمِرْبَدِ فَلَمَّا رَاٰی أَوْلَئِکَ وَمَا یَصْنََعُوْنَ حَمَلَ عَلَیْہِمْ بِبَغْلَتِہِ، وَأَہْوٰی لَہُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ: خَلُّوْا، فَوَالَّذِی کَرَّمَ وَجْہَ أَبِی قَاسِمٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّا لَنَکَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۶۷۱)
عیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پائوں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جائو۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔
Takhreej
(۳۱۹۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۸۲، ۳۱۸۳، والنسائی:۴/ ۴۲ (انظر: ۲۰۴۰۰)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ جنازے کو لے کر جلدی جلدی چلنا چاہیے، ہمارے ہاں یہی طریقہ رائج ہے۔
3198
Zaeef
۔ (۳۱۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا تَبِعَ جَنَازَۃً، قَالَ: ((اِنْبَسِطُوْا بِہَا وَلَا تَدِبُّوا دَبِیْبَ الْیَہُوْدِ بِجَنَائِزِہَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۴۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو فرماتے: اسے لے کر جلدی جلدی چلو اور یہودیوں کی طرح جنازہ لے کر آہستہ آہستہ نہ چلو۔
Takhreej
(۳۱۹۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، عبد الحکیم قائد سعید بن أبی عروبۃ متروک (انظر: ۸۷۶۰)
3199
Zaeef
۔ (۳۲۰۰) عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (أَبِی مُوْسٰی الأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مَرُّوا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَنَازَۃٍ یُسْرِعُوْنَ بِہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِتَکُنْ عَلَیْکُمْ السَّکِیْنَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۴۱)
سیّدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بعض لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک جنازہ کو لے کر بڑی تیزی کے ساتھ گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر سکینت ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۳۲۰۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۷۹(انظر: ۱۹۶۱۲)
3200
Zaeef
۔ (۳۲۰۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ قَالَ: مَرَّتْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَنَازَۃٌ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((عَلَیْکُمْ الْقَصْدَ)) (مسند احمد: ۱۹۸۷۳)
(دوسری سند) سیّدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، مشکیزے کی طرح ہل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو۔
Takhreej
(۳۲۰۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …جنازہ اٹھانا مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے، لیکن اس تعاون کی شکل یہ نہیں ہونی
3201
Zaeef

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.