۔ (۳۱۹۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ، وَاحْتَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلٰی
أَعْنَاقِہِمْ، فِاِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ قَدِّمُوْنِی، وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ یَا وَیْلَہَا، أَیْنَ تَذْہَبُوْنَ بِہَا یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ إِلَّا الإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَہَا الْاِنْسَانُ لَصَعِقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۲)
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔
Takhreej
(۳۱۹۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۱۴، ۱۳۱۶(انظر: ۱۱۳۷۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کے معنی ومفہوم کو بلاتاویل تسلیم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس میت میں شعور پیدا کر کے اس کو بولنے کی قوت عطا کرتا ہے، جبکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
3193
Sahih