مجاہد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، پھر انھوں نے کہا: اگر تم بھی کھڑے ہو اور (ہمارے ساتھ چلو)۔ پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو سختی سے پکڑا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک عورت کے چیخنے کی آواز سنی، جبکہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے مجھے گھمایا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے، جس کے ساتھ رونے کی آواز ہو۔
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے ساتھ آگ اور آواز نہیں ہونی چاہیے۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے سے چلنے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اتنی سختی نہیں کی گئی۔
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جا تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔